ڈگری اور لائسنس کو جعلی بتانے کی حکمت سمجھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر ہوابازی کی جانب سے یہ بیان دیے جانے کے بعد کہ سینکڑوں پاکستانی پائلٹوں کا لائسنس مشکوک ہے جن میں سے 28 کے جعلی ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، بعض لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں کہ انہوں نے غیر ذمہ داری سے کام لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی لگا دی ہے۔ کئی ائرلائنوں کی خبریں آ رہی ہیں کہ انہوں نے پاکستانی فضائی ماہرین کو ایک طرف بٹھا دیا ہے کہ گرد بیٹھ جائے تو پھر جہاز کے قریب جانا یا گھر جانا۔

ہماری رائے میں یہ ایک وژنری فیصلہ ہے۔ ناقدین اس کی حکمت پر غور نہیں کر ہے ہیں۔ یہ ایک بڑی تزویراتی حکمت عملی کا پہلا قدم دکھائی دیتا ہے۔

بی بی سی پر ہوابازی کی صنعت کے ماہر طاہر عمران لکھتے ہیں کہ ”سنہ 2012 سے قبل یہ تمام پائلٹس لائسنس کی بنیاد پر قابل اور درست تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب بھی ان کے پاس پاکستان سول ایوی ایشن کا جاری کردہ لائسنس ہے جو بالکل اصل اور مصدقہ ہے۔ مگر جس امتحان کے نتیجے میں وہ جاری کیا گیا ہے اس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ تو اس جرم میں پائلٹس سے زیادہ سول ایوی ایشن اور خصوصاً اس کا لائسنسگ کا شعبہ مشکوک ہے جس نے ان پائلٹس کو کسی بھی وجہ سے ان مبینہ طور پر مشکوک امتحانات کے نتیجے میں لائسنس جاری کیے۔“

یعنی دنیا کی نظر میں یہ پائلٹ مشکوک نہیں ہیں، ریاست پاکستان کا ڈگری دینے والا ادارہ مشکوک قرار پایا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اگلا قدم یہ اٹھایا جائے گا کہ باقی پاکستانی اداروں کی ایسی ہی خدمت کرنے کی نیت سے کوئی وزیر یہ اعلان کر دیں گے کہ آدھے پاکستانی ڈاکٹروں کی ڈگری مشکوک ہے، آدھے پاکستانی انجینیئر دو نمبر ہیں، آدھے پاکستانی سائنسدان تعلیمی ہیراپھیری کے مرتکب ہیں، آدھے پاکستانی تکنیکی ماہرین اور کاروباری منتظمین اپنی ڈگری کے دوران چیٹنگ کر کے پاس ہوئے ہیں۔

ان سب نے پہلی جماعت سے لے کر سترہویں یا چوبیسویں تک کبھی نا کبھی نقل کی ہے یا کروائی ہے۔ یا پھر ٹیم سپرٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے عزیز ترین دوستوں کے اعتماد کو ایسی ٹھیس پہنچائی ہے کہ ان کا انسانیت پر سے اعتبار ہی ختم ہو گیا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستانی ڈگریوں سے اور یہ ڈگریاں جاری کرنے والے ریاستی اداروں سے دنیا کا اعتبار اٹھے گا۔ دنیا بھر سے اس کا ردعمل یہ آئے گا کہ وطن عزیز سے ترک وطن کر کے باہر سکونت اختیار کرنے والے سب ہنرمند افراد یا تو وہاں برتن دھوئیں گے، جمعداری کریں گے یا ایسا کوئی دیگر غیر ہنرمندانہ قرار پانے والا کام کریں گے۔ صاحب بن کر زیادہ سی کمائی نہیں کریں گے۔

دوسری صورت یہ ہو گی کہ وہ اپنے پیشے میں ہی ماہرانہ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں دنیا کے اس واحد ملک میں جا کر کام کرنا پڑے گا جو یہ کہتا ہے کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، خواہ اصلی ہو یا جعلی۔

یوں اس بہترین وژنری چال سے ہمارا برین ڈرین کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر واپس پاکستان آ کر ڈی ایچ کیو راجن پور، تحصیل ہسپتال بھائی پھیرو اور دیہی ہیلتھ سینٹر گھوٹکی میں کام کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔

ناسا، مائکروسافٹ اور گوگل میں کام کرنے والے ماہرین پھر خود کو کرامت ماچس فیکٹری میں تحقیق کرتے پائیں گے اور اپنا راکٹ کمبسچن انجن بنانے کا تجربہ دیا سلائی کی نذر کریں گے۔

بوئنگ، مرسیڈیز اور جنرل الیکٹرک میں کام کرنے والے انجینئیر کامونکی خرادیہ ورکس میں ملازمت ملنے پر خدا کا شکر ادا کریں گے اور ان گاڑیوں کے پرزے مقامی طور پر خراد مشین پر تیار کر کے ان کی درآمد کا سلسلہ روکیں گے اور یوں بیلنس آف ٹریڈ کو پاکستان کے حق میں کریں گے۔

لیور برادرز میں مارکیٹنگ اور بزنس سٹریٹیجی کے ماہرین، نفیس کلاتھ ڈپو میں سیلزمین کے طور پر فائز ہونے پر فخر سے پھولے نا سمائیں گے۔ آخر دنیا بھر میں امپورٹڈ صابن یا شیمپو بیچنے سے زیادہ عزت اور حب الوطنی لائلپور کا کپڑا اچھرہ بازار میں بیچنے میں ہے۔

پاکستانی ریاست کی تسلیم شدہ ڈگریوں کو مشکوک سی ردی قرار دینے کے دانمشندانہ فیصلے سے گزشتہ پچاس برس سے برین ڈرین کا سلسلہ ریورس ہو جائے گا اور پاکستان عالم اسلام کی قیادت کے اس منصب پر فائز ہو جائے گا جس کے بارے میں ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے بابے ہمیں پہلے ہی بتا چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1296 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *