المیے کی دسترس سے ہم دو ہاتھ پرے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ شاید اسامہ شیرون کے لیے ہے یا پھر طاہر امین کے لیے، یا پھر ضیغم عباس، طارق بسرا، قمر قیصرانی، ظہور بھٹہ، ظہیر انور، ظہیر عباس، صفدر ورک اور ان جیسے ان گنت نگہبانوں کے نام ایک دعاؤں بھرا سلام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو المیے کے مرکز میں ایک ایسی جنگ میں نبرد آزما ہیں جس کا مال غنیمت غریبوں اور مظلوموں کی چند دعائیں ہیں، اور المیے کی دسترس ایسی کہ سانس لینا محال (اور یہ محاورتاً نہیں ) بلکہ حقیقت میں سانس لینا آج سے پہلے اتنا محال نہ تھا۔

اور اس دور میں جب گھروں میں ٹھہرنا ہی سب سے بڑی دانشمندی اور ایک سماجی فرض ٹھہرا۔ یہ لوگ دوسرے ہزار ہا نگہبانوں کی طرح روزانہ صبح اپنے گھروں سے نکلتے کہ ہزار ہا آنکھیں ان کی رہبری کی منتظر اور نفسا نفسی کے دور میں رہبری سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھلائی ممکن ہے؟ تاریخ کا ستم یہ ہے کہ کسی جنگ کے آخر میں ہیرو پس ایک سپہ سالار ہی ہوتا ہے اور وہ سارے لوگ جو اپنی جان دے کر سپہ سالار کو سرخرو کرتے ہیں میدان جنگ کی دھول کے گہرے سایوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھی اس جنگ میں صف اول کے جانباز ہیں موت سے نبرد آزما ۔ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان جانبازوں اور ان کے کارناموں کو سلام کریں کیونکہ ان جیسے لوگ ناپید ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان جانبازوں کا کارنامہ کیا ہے؟

(i) پاکستان میں تفتان بارڈر کے ذریعے ہزار ہا زائرین (جو کہ کرونا پازیٹو تھے ) آئے۔ ان زائرین کو آئسولیشن وارڈز تک پہنچانا ان کی رہائش کا بندوبست اور 14 دن تک ان کی میزبانی کرنا۔
(ii) کرونا پازیٹو مریضوں کا ہسپتال میں داخلے سے لے کر ان کی صحتیابی تک ان کی دیکھ بھال کا بندوبست کرنا۔
(iii) لاک ڈاؤن کے دوران غریب لوگوں تک حکومتی امداد پہنچانا

(iv) لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں تک خوراک اور امداد کے سامان کو مہیا کرنے کا بندوبست اور سامان کی ترسیل کر رہے ہیں۔
(v) مارکیٹس کا بلا ناغہ دورہ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ایس او پیز لوگ پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔
(vi) میتوں کی ہسپتالوں سے قبرستانوں تک کی ترسیل اور ان کی تکفین و تدفین کا بندو بست کرنا

اور اس کے علاوہ اس طرح کے بے شمار کام روز بروز بغیر کسی جھجک، ڈر، وسوسے یا اندیشے کے اپنے گھروں کی پھاٹکوں پر منتظر نگاہوں اور لرزتی دعاؤں کی پناہ میں، جب کہ گھروں رہنا ہی زندگی کی علامت اور بندوبست ہو، ان گنت لوگوں کی رہبری اور دلاسے کا ساماں کرنے کے لیے، اپنے اپنے مورچوں کی طرف گامزن ہونا۔

ہزار ہا سپاہیوں کا کسی جنگ میں سر بہ کفن شامل ہونا جنگ جیتنے کی ضمانت تو ہر گز نہیں۔ لیکن اس بات کی دلیل ضرور ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ اور یہ لوگ جنگ جیتنے کی دلیل تو نہ سہی لیکن اس بات کی گواہی ضرور ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہیں اور چہ جائکہ ہمارے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا سامان پوری طرح میسر نہیں لیکن پھر بھی ایک ایسا جذبہ میسر ہے جو کہ ہزار ہا جانبازوں کو اس جنگ میں روز بروز یک آہنی دیوار کے طرح قائم رکھتا ہے۔ اور ہم پر اس جذبے اور قربانی کی تصدیق فرض ہے۔ سو آئیں اور ان جانبازوں کو سلام پیش کریں و میری اور آپ کی حفاظت پر مامور۔ ہم اور ہماری کوتاہیوں کے درمیان ایک دیوار کی مانند ہیں۔ ایک ایسی دیوار جس کے اس طرف کانپتے ہونٹ اور ٹوٹتی سانسیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply