مافیاؤں کی جنگ میں کس کی جیت اور کس کی شکست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹلی کے ایک جزیرے سسیلی سے منسوب سسیلین مافیا اپنے جرائم، اپنے اثر ورسوخ کے لحاظ سے عالمی شہرت رکھتے ہیں اسی سسیلین مافیا کی اصطلاح سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس میں شریف خاندان کے لیے استعمال کی تھی۔ آج اگر پاکستانی سیاست، پاکستان کے معاشرے پہ نظر ڈالیں تو یہ سسیلین مافیاز ہر شعبے میں اپنے جڑیں مضبوط کر چکے ہیں۔ یہ مافیاز ہر دور میں بہت مضبوط و مستحکم رہی ہیں، ہر اقتدار تک ان کی رسائی رہی اور ہر اقتدار کی کمزوری اور استحکام ان ہی مافیاز کی مرہون منت رہا ہے، مگر وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں تو یہ مافیاز سرخیوں کا حصہ بن چکی ہیں، اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ خان صاحب کے بائیس ماہ کے اقتدار میں مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو گئی، بجلی، گیس اشیاء ضرورریہ کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی چلی گئیں۔

وزیراعظم اور ان کے رفقاء اپنی ہر بات میں، ٹویٹ میں اٹھنے بیٹھنے میں مافیاؤں کا ذکر کرتے اور ان کے خاتمے کا عزم کرتے نظر آتے ہیں، مگر پچھلے دو سالوں سے ملک کی مجموعی ترقی کو منفی سطح تک لے جانے، ڈالر کے ریٹ کو ایک سؤ پچیس روپے سے ایک سؤ اڑسٹھ روپے پہ لے جانے، ملکی قرضوں میں اضافے کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑنے، ملک کو سیاسی معاشی بدحالی کے دہانے پہ پہنچانے والے وزیراعظم عمران خان صاحب مافیاؤں کے دشمن کبھی نہیں لگے بلکہ وہ ان مافیاؤں کے گاڈفادر ضرور نظر آئے۔ اگر وہ کسی کے دشمن نظر آئے تو وہ ان لوگوں کے جو ان کے مزاج کے خلاف ہیں، جو ان کے سیاسی مخالفین ہیں یا جو انہیں چیلنج کرتے ہیں اور جن سے ان کو سیاسی خطرات لاحق ہیں۔

پیٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں کب کس طرح اور کیوں کم ہوئیں، کم ہونے کے بعد کیوں پیٹرول مارکیٹ سے غائب ہوا، پھر کس طرح پورے مہینے کے بیس پچیس روز تک عوام سستے پیٹرول کے حصول کے لیے دکھے کھاتے رہے، پھر ان مافیاز کے خلاف وزیراعظم نے نوٹس لیا انکوائری ہوئی، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کے احکامات جاری ہوئے مگر احکامات پہ عملدرآمد آج تک نہ ہو سکا، کتنی کمپنیاں عوام کو لوٹنے میں ملوث تھیں، وہ کمپنیاں کن مافیاز کی ہیں اور وہ مافیاز کون ہیں ان کے خلاف صرف چار پانچ کروڑ جرمانہ لگا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافہ کرکے نہ صرف عوام کے ہوش ہی اڑا دیے گئے بلکہ ایک ہی جھٹکے میں ان کمپنیوں اور مافیاز کو کئی سو ارب کا فائدہ کیوں اور کس طرح پہنچایا گیا، یہ ساری کہانیاں اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر بچے بڑے بزرگ کو ازبر سمجھ آ گئی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان پاکستان میں موجود چینی، آثا، بجلی، گیس، بلڈرز، پیٹرول، دوائی مافیاز کا بڑے زور شور سے ذکر کرتے ہیں ان کے خلاف انکوائریاں کرانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں پھر ان ہی مافیاز کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کرتے ہیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات والا نکلتا ہے، ان کے رفقاء اپنے لیڈر کے بیانیے کے مطابق وقت بے وقت مافیاؤں پہ چڑھ دوڑتے ہیں مگر ان تمام بھڑکوں لفاظی بیانات کے باوجود وہ ان مافیاؤں کے آگے یا تو بے بس ہیں یا پھر اپنی قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے ایک طرف مافیاؤں کے خلاف نوٹس لے کر اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم صادر فرماتے ہیں تو دوسری طرف انہیں مافیاؤں کو اشارہ کر دیتے ہیں کہ اب کھینچ کے رکھو، یعنی سارے کے سارے مافیاؤں کی سرپرستی کر رہے ہیں وزیراعظم صاحب، کیونکہ اب تک ان کے لیے گئے کسی نوٹس پہ عمدارآمد نہیں ہو سکا، نہ چینی مافیا کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی نہ چینی اپنی پرانی قیمت پہ دستیاب ہے، نہ بجلی کی پرائیویٹ کمپنیوں کے خلاف کوئی انکوائری ہوئی نہ ہی بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی، عوام آج بھی دس فیصد سے زائد مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور خان صاحب ان کے حواری مافیا مافیا کھیل رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب کے نوٹس لینے کے معاملے پہ اب سوشل میڈیا پہ ان کا نہ صرف بہت مذاق اڑایا جاتا ہے بلکہ اب وہ شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ مافیاز ان کے نوٹس لینے کے بعد عوام پہ اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے بھوکے شیر شکار پہ جھپٹتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب جن مافیاز کا ذکر کرتے ہیں ان کی اکثریت ان کی کابینہ کا حصہ ہے، ان کے آگے پیچھے، دائی بائیں بیٹھے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اپنے بائیس ماہ کے دور اقتدار میں ایک لمحے کے لیے بھی اپنے آپ کو عوامی وزیراعظم ثابت نہیں کیا، ان کے اقدامات ان کے اپنے منشور دعوؤں اور وعدوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ ملک پہ عوامی سیاسی جمہوری قوتیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں اور مافیاز اور کارٹلز مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب پہلے احتساب کا چورن بیچ کر عوام کو لبھانے اور اپنے بیانیے کو تقویت پہنچانے کی کوشش کرتے رہے، اور اب کورونا وائرس کے معاملے میں اپنی حکومتی نا اہلیت اور نالائقیت کو بیلنس کرنے کے لیے مافیاز کا شوشہ چھوڑ کر عوام کو ٹرک کی ایک اور بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ مافیاؤں کی اس جنگ میں جن مافیاز کی شکست ہوئی اور جو فتح مند ٹھہرے دونوں کا تعلق حکومتی جماعت یا ان حامیوں میں سے ہے مگر اس جنگ میں شکست صرف عوام کو ہوئی نقصان صرف انہیں ہی سہنا پڑ رہا ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے اکابرین صرف اور صرف اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے انہیں احتسابی انتقام کے ذریعے ان کے سیاسی وجود کے خاتمے کی درپے بنی ہوئی ہے۔ اس ساری سیاسی جنگ میں ملک میں موجود مافیاؤں جن میں کسی کی وقتی طور پہ جیت ہوئی اور کسی کی وقتی طور پہ شکست ہوئی تھی وہ اتنی زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں کہ اب شاید ان پہ ہاتھ ڈالنا بھی ممکن نہیں رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *