کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (حج سفرنامہ۔ 6)


رش کی دجہ سے طواف کرنے میں ہمیں تقریباً ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔ طواف سے فارغ ہو کر ہم کچھ دیر ریسٹ کے لئے بیٹھ گئے۔ کوشش کی کہ مقام ابراہیم کے پاس نفل ادا کرسکیں لیکن رش کی وجہ سے بہت پیچھے جگہ ملی جہاں سب نے باری باری نفل ادا کیے۔ آب زمزم پیا اور فریش ہو کر سعی کے لئے صفا اور مروہ کی جانب بڑھے۔ وہاں بھی رش اسی طرح تھا۔ اماں حاجرہ نے ہزاروں سال پہلے اس وادی میں قیام کے دوران پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگائے تھے تا کہ وہ اپنے بیٹے کی پیاس بجھا سکیں۔

جب سات چکر لگانے کے باوجود پانی نہیں ملا تو آپ واپس اپنے ننھے بیٹے حضرت اسما عیل علیہ اسلام کے پاس تشریف لائیں۔ دیکھا تو بیٹے نے جہاں اپنی ننھی ایڑیاں رگڑی تھیں وہاں پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا تھا۔ آپ نے اس چشمہ کے اردگر بند باندھا۔ پانی سے بیٹے کی پیاس بجھائی۔ اماں حاجرہ نے پانی کی تلاش میں اس وادی کے چکر لگائے تھے ان کی یادمیں رہتی دنیا تک اللہ تعالی نے حج اور عمرہ کرنے والوں کے لئے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانا واجب کر دیا۔

ہم ایئرکنڈیشنڈ اور سائے میں صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگا کر سعی مکمل کر رہے تھے۔ تیسرے یا چوتھے چکر میں وہیل چیئر کے ساتھ درمیان میں دوڑنے کی وجہ سے تھکن اور تکلیف کا احساس ہوا تو میں ایک جگہ کھڑا ہو گیا۔ بیٹی نے کہا لائیں، پاپا جان اب میں مما کی وہیل چیئر کو دکھیلتی ہوں۔ اسی لمحے ایسے میں ابا جان سے بچپن میں سنی ہوئی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی کہانی میرے ذہن میں آ گئی۔ اس وقت کا تصور کیا جب ایک ویران جگہ پر ریتلی زمین پر نامناسب موسم میں تن تنہا اماں حاجرہ نے تیز تیز چلتے ہوئے اور درمیان میں دوڑتے ہوئے کیسے ان پہاڑیوں کے درمیان چکر لگائے ہوں گے۔

ان خیالات کے آتے ہی میرا رواں رواں ایک دم کانپ اٹھا۔ میں نے سوچا ہم اتنی زیادہ سہولیات ہونے کے باوجود بھی تھک جاتے ہیں۔ میں ایک نئے جوش اورجذبے سے میں اٹھا اور پھر سارے چکر مکمل ہو گئے۔ مغرب کی نماز تک ہم نے طواف زیارت مکمل کر لیا تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد ہم باب عبدالعزیز سے حرم سے باہر نکلے۔ سب کو بھوک لگ رہی تھی۔ باہر بہت ہی زیادہ رش تھا۔ ایک خالی جگہ دیکھ کر سب کو بٹھایا اور میں اور ڈاکٹرصاحب کھانا لینے مکہ ٹاور کی بیسمنٹ میں گئے۔

سب ہوٹلوں میں بہت ہی زیادہ رش تھا۔ کوئی قطار نہیں کوئی کسی کا خیال نہیں۔ ہم کوئی سبق نہیں سیکھتے اور جو سیکھتے ہیں اسے یاد نہیں رکھتے۔ کھانا ملنے میں تھوڑی دیر لگی۔ سب نے مل کر کھانا کھایا۔ ابھی کھانا ختم ہی ہوا ہی تھا کہ عشاء کی اذان ہو گئی۔ ہم نے وہیں باب عبدالعزیز کے باہر نماز با جماعت ادا کی۔ اب ہم نے منی واپس جانا تھا۔ طواف زیارت کے بعد آپ کو فجر سے قبل منی میں واپس پہنچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ آٹھ زوالحج سے گیارہ زوالحج تک آپ نے رات کو منی کے اندر قیام کرنا ہوتاہے اور اگر رات آپ نے کسی وجہ سے باہر گزاری تو پھر آپ کو دم دینا پڑے گا۔

ہم سب باہر بس ٹرمینل پر آئے۔ وہاں کوئی بس نہیں تھی۔ کیونکہ حج کے دنوں میں حرم کی حدود میں بسوں کا داخلہ بند ہوتا ہے۔ بے شمار ٹیکسیاں آ جا رہی تھی دو تین سے بات کی کوئی بھی چار پانچ سو ریال سے کم پر بات ہی نہیں کر رہا تھا۔ میں نے سب کو سڑک کے ایک طرف کھڑا کیا ہوا تھا۔ ایک ٹیکسی والا آیا میں نے اس سے کہا کہ منی جانا ہے، اس نے کہا میں ایک سو ستر ریال لوں گا اورحیدرآباد ہوٹل کے پاس اتاروں گا۔ میں نے فوراً اپنے گھر والوں کو اس کی ٹیکسی میں بٹھایا اور ڈرائیور سے کہا کہ ہمیں ایک اور ٹیکسی بھی چا ہیے۔

اس نے ایک اور ٹیکسی روکی اور ڈاکٹر صاحب کی فیملی کو اس میں بٹھایا اور ہم جانب منی روانہ ہوئے۔ ڈرائیور نے کہا تھا میں آپ کو حیدرآباد ہوٹل کے پاس اتاروں گا کیونکہ وہاں سے آگے ٹیکسی کا داخلہ ممنوع ہے وہاں سے آپ کو بس مل جائے گی جو آپ کو منی کے اندر لے جائے گی۔ ٹیکسی ڈرائیور ہندوستان کے شہر کیرالہ کا رہنے والا تھا۔ اس سے بات چیت ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ تین سال پہلے آیا تھا اور وہ دو سال سے یہاں ٹیکسی چلا رہا ہے۔

آپ نے کیسے ہم سے کم کرایہ مانگا جبکہ دوسرے چار پانچ سو ریال مانگ رہے تھے۔ میں نے پوچھا، تو وہ کہنے لگا۔ کیا آپ دعاؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ بالکل رکھتے ہیں، میں نے جواب دیا۔ وہ کہنے لگا۔ حاجی صاحب میں پچھلے دو سال سے یہاں ٹیکسی چلا رہا ہوں اور میں نے کبھی کسی سے زائد کرایہ نہیں لیا اس کے باوجود میں بہت اچھا کما لیتا ہوں۔ میرے اچھے سلوک اور مناسب کرایہ لینے کی وجہ سے سفر ختم ہونے پر میرا ہر مسافر مجھے دعائیں دیتا ہے۔

Medina – 1913

شاید انھیں دعاؤں کے صدقے میرا کام بہت اچھا چلتا ہے۔ اس نے ہمیں حیدرآباد ہوٹل کے پاس اتارا۔ ہمارا سامان نکال کر ہمیں دیا۔ دوسری ٹیکسی بھی ہمارے ساتھ ہی تھی۔ جہاں اس نے ہمیں اتارا تھا وہیں سے بسیں منی کی طرف جا رہی تھیں۔ ہم نے ایک بس میں خواتین کو پہلے بٹھایا اور چھت کے اوپر وہیل چیئرز کو مشکل سے چڑھایا۔ اور خود بھی بس کے اندر بیٹھ گئے۔ شکر کیا کہ ہمیں بس مل گئی تھی۔ بس نے ہمیں کبری عبدالعزیز پر اتارا۔

یہاں سے ہمارا کیمپ آدھا کلو میٹر کے فاصلہ پر تھا۔ اس وقت رات کے گیارا بجے تھے اس کے باوجود گرمی کی شدت تھی۔ ہم سب پیدل اپنے کیمپ کا جانب روانہ ہوئے۔ چلتے چلتے ہماری وہیل چیئر ایک پہیہ نکل گیا۔ یہ ایک نئی افتاد تھی۔ ٹائر دوبارا لگایا۔ کپڑے سے باندھا بھی لیکن تھوڑی دور جا کر وہ پھر نکل گیا۔ ایک پہیے پر اس کو چلاتے ہوئے جب ہم کیمپ کے نزدیک پہنچے تو دوسرا پہیہ بھی نکل گیا اور وہیل چیئر ناکارہ ہو گئی۔ حج کے دنوں میں ہم نے اس سے بہت کام لیا تھا اور اس سے ہمیں بہت مدد ملی تھی۔ بہت افسوس ہوا۔ کیمپ تک پہنچتے پہنچتے سب کا تھکاوٹ سے برا حال ہو گیا تھا۔ خیمے میں بستر پر لیٹتے ہی نیند آ گئی۔

Facebook Comments HS