لاہور کے حبس زدہ موسم میں مہکتی بہار کی آمد۔ ۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کون کہتا ہے کہ پرستان سے پریاں نہیں اترتیں۔ ۔ ۔ ؟ کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ درویشوں اور محبت کرنے والوں سے یہ دنیا پاک ہو گئی۔ ۔ ۔ ؟

۔ ۔ ۔ ہم ان سے لڑ لیتے تھے، گلہ کر لیتے تھے، روٹھ جاتے تھے لیکن وہ ہمیں منانے کی ماہر۔ ۔ ۔ ہماری دکھتی رگوں کو جانتی، سمجھتی، پہچانتی ہنستی مسکراتی پاس سے گزر جاتی۔ ۔ ۔

ہم اندر سے سمجھتے تھے کہ جب تک یہ ہے، ماں بولی کو کوئی خطرہ نہیں، یہ موجود ہے تو ادارے کو کوئی پریشانی نہیں، وہ جب چند دنوں کے لئے آگے پیچھے ہوتی تو پورا ادارہ سائیں سائیں کرنے لگتا، بالکل ایسے جیسے کسی مہارانی کے بغیر تخت سونا ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔

جی ہاں! یہ مہارانی محترمہ ڈاکٹر صغریٰ صدف ہیں جو پنجاب انٹسٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر ( پلاک ) کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ۔ ۔ میں نے ہمیشہ نوٹ کیا کہ جیسے کوئی ماں اپنے ویہڑے کو صاف شفاف رکھتی ہے بالکل ایسے ہی ڈاکٹر صغریٰ صدف پلاک کو بنا سنوار کے رکھتی ہیں، ہم جانتے ہیں کہ پلاک کے لئے کوئی خاص بجٹ نہیں ہے، اس ادارہ کی پہلی ڈی جی شائستہ نزہت یہ کہہ کر بجٹ کا بیڑہ غرق کر گئی تھیں کہ بھلا اس ادارے نے پیسے کیا کرنے ہیں۔

۔ ۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ پیسہ نہ ہونے کے باوجود محترمہ ڈاکٹر صغریٰ صدف کیسے ادارے کو سنبھالتی ہیں، کیسے پنجابی کے ہر لہجے سے منسلک ادیبوں شاعروں کو عزت دیتی ہیں، کیسے نت نئی کتابیں چھاپتی ہیں، کیسے پنجابی ادبی تنظیموں کا پانی بھرتی ہیں، کیسے ماں بولی کا جھنڈا پوری دنیا میں بلند کرتی ہیں، کیسے پلاک میں آئے روز میلے لگائے رکھتی ہیں، کیسے پنجابی لینگوئج کی ڈکشنری کی جلدوں پر جلدیں چھاپے جاتی ہیں، کیسے ادارے کی لائبریری وسیع و عریض کیے جاتی ہیں، کیسے آرٹ گیلری کو دنیا کی بہترین گیلریز میں شامل کیے جاتی ہیں، کیسے ایف ایم 95 پنجاب رنگ ریڈیو کو ورلڈ رینکنگ میں لے جاتی ہیں، کیسے پلاک کے ہالز اپنے دل کی طرح ہر ادبی تنظیم کے لئے کھلے رکھتی ہیں۔ ؟

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بغیر پیسوں کے اتنے زیادہ کام اور اتنے بڑے ادارے کو چلانے کی کیا ”گدڑ سنگھی“ ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ کے پاس ہے تو اس کا مختصر جواب ہے صاف نیت اور محبت بھرا دامن۔ ۔ ۔ یہ سچ ہے کہ محترمہ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے بعض ایسے اقدام کئے جس سے ادارے نے پیسہ کمایا اور یہ کمایا ہوا پیسہ ادارے پر لگایا، کہیں پلاک میں تھیٹر ہوا تو کبھی پنجابی سینما کی بنیاد رکھی گئی، کہیں ایف ایم 95 پنجاب رنگ ریڈیو کا نیٹ ورک لاہور سے باہر دوسرے بڑے شہروں میں پھیلایا تو کہیں پنجابی کتابوں پر لاکھوں روپے کے ایوارڈز دینا شروع کر دیے مگر افسوس کہ کچھ لوگوں کو پنجابی زبان و ادب سے وابستہ یہ ادارہ ترقی کرتا، آگے بڑھتا اور خود کفیل ہوتا چبھنے لگا۔

۔ ۔ بعض حاسدوں نے تو باقاعدہ نعرہ بنا لیا کہ ڈاکٹر صاحبہ کو پلاک سے ہٹا دیا جائے۔ ۔ ۔ یقیناً سازشی ذہنیت اپنے ارادوں میں کامیاب تو ہوئی لیکن اس کامیابی کا خمیازہ پلاک کے اجڑنے کی صورت بھگتنا پڑا، کبھی ثمن رائے پلاک کی ڈی جی لگائی گئیں تو کبھی کسی اور کو یہ ذمہ داری سونپی گئی مگر کوئی مائی کا لعل پلاک کو اس طرح آباد نہ کر سکا جیسے ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کر کے دکھایا۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحبہ کو صوبائی حکومت نے پلاک سے ہٹایا تو ساتھ ہی انہیں وفاق سے کال آ گئی کہ ہم آپ کی صلاحیتوں کے معترف ہیں، اس لئے آئیے!

اور اکیڈمی ادبیات پاکستان کو بطور ڈائریکٹر جنرل سنبھال لیجیے! لیکن ڈاکٹر صاحبہ کا ایک ہی جواب رہا کہ انہیں بڑے بڑے عہدوں کی نہیں ماں بولی کی خدمت کا جنون ہے۔ ۔ ۔ الحمراء آرٹس کونسل سے بھی آفر تھی کہ اس ادارہ کو سنبھال لیجیے! لیکن ان کا جواب وہی تھا کہ بس۔ ۔ ۔ مجھے عہدہ نہ دو۔ ۔ ۔ ماں کی خدمت کرنے دو۔ ۔ ۔ بیشک ڈاکٹر صاحبہ کا عشق ایک ہی ہے۔ وہ ہے صرف اور صرف پنجابی۔ ۔ ۔ انہیں یہ گر آتا ہے کہ کیسے تمام زبانوں سے وابستہ سخنوروں کو ایک ہی صف میں لانا ہے۔ ۔ ۔ کسیے اردو یا دیگر زبانوں میں نظمیں غزلیں کہنے والوں کے اندر ماں بولی کی محبت اس قدر ڈالنی ہے کہ وہ سب کے سب اپنی مادری زبان میں بھی غزلیں نظمیں کہیں اور مضامیں، کہانیاں لکھیں۔ ۔ ۔

بیشک ڈاکٹر صاحبہ عظیم ماں باپ کی بیٹی ہیں، دور دراز پہاڑی علاقے سے پڑھنے کے لئے گھر سے نکلنے والی اچی لمی اس مٹیار نے ہر طرح کے کٹھن راستوں پر چل کر تعلیم حاصل کی ہے، اونچی نیچی پہاڑیوں سے گزرتی بل کھاتی پگڈنڈیوں پر چلنے والی اس مٹیار نے بچپن سے ہی ٹھان لی تھی کہ زندگی کے سبھی دشوار رستوں پر اسی ہمت اور جرات سے چلنا ہے جس سے والدین نے اس کی آشنائی کروا دی ہے۔ ۔ ۔ یقیناً وہ بہادر ہیں، درویش ہیں، مست قلندر ہیں، مسکراہٹ کی دیوی ہیں، سبھی کے دکھ درد کو اندر سے محسوس کرنے والی ہیں، بہترین شاعرہ ہیں، عمدہ کہانی کار ہیں، محفلیں سجانے اور میلے لگانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، بیشک لاہور جیسے تاریخی شہر کی مرتی ثقافت اور کلچر کو پھر سے زندہ کرنے میں ڈاکٹر صغریٰ صدف کا کام کبھی نہ بھلایا جائے گا، کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار ”روزنامہ جنگ“ کی بے مثال کالم نگار ہیں، پی ٹی وی کی اعلیٰ ترین کمپئیر اور اینکر پرسن ہیں، انہیں عزت و شہرت کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا قلم انہیں ہر طرح کی عزت شہرت اور محبت دلا چکا ہے، انہیں کسی طرح کی سفارش کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا کالم ان کی بہت بڑی سفارش ہے۔ ۔ ۔

مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر صغریٰ صدف میری دوست ہیں، بہن ہیں، استانی ہیں، مجھے فخر ہے کہ جب میں ریڈیو پاکستان لاہور بطور اناؤنسر چھوڑ چکا تھا اور کچھ عرصہ ایف ایم 103 کرکے اس ریڈیو سے بھی بیزار ہو چکا تھا تو ڈاکٹر صاحبہ مجھے کان سے پکڑ کر ایف ایم 95 پنجاب رنگ لے گئیں اور یوں ریڈیو سے میری جڑت اب تک برقرار ہے، میں خوش نصیب ہوں کہ میری پنجابی غزلوں کی کتاب ”چیتر“ کا دیباچہ انہوں نے لکھا، کتاب کی پہلی تقریب رونمائی کی صدارت بھی کی اور بعد ازاں پلاک کی سرپرستی میں چیتر کی ناقابل فراموش تقریب رونمائی کروائی جس میں مسعود کھدر پوش ایورڈ بھی مجھ تک پہنچا۔

۔ ۔ میں لکی ہوں کہ قدم قدم پر ڈاکٹر صاحبہ نے میری شاعری کو پروموٹ کیا اور سب سے پہلے ان کی زبان سے ہی نکلا کہ صفی کی رومانٹک شاعری نئی نسل کو اپنی ماں بولی کی طرف واپس لے آئی ہے۔ ۔ ۔ یقیناً میں بدبخت بھی ہوں کہ بعض اوقات اتنی پیاری دوست، بہن اور استانی سے بلاوجہ روٹھا لیکن خوش قسمت اتنا ہوں کہ میری ہر کوتاہی اور کمینے پن کو ڈاکٹر صغریٰ صدف نے تہہ دل سے معاف کیا۔ کبھی یہ ثابت نہ ہونے دیا کہ وہ مجھ سے ناراض ہوئی ہیں۔

میری تمام بری حرکتوں اور کوتاہیوں کے باوجود دوستی اور محبت کا یہ تعلق کسی لمحہ ٹوٹنے نہ دیا۔ ۔ ۔ صرف میں ہی نہیں۔ میرے جیسے کتنے ہوں گے جن کی غلطیوں کوتاہیوں کو انہوں نے معاف کیا۔ ۔ ۔ مجھے ہمیشہ یہ زعم رہا ہے کہ ہر طرح کی سیکرٹ بات ڈاکٹر صاحبہ نے میرے ساتھ شیئر کی۔ ۔ ۔ میرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ میں آئے دن کسی نہ کسی سے لڑائی کیے رکھتا ہوں مگر خوش بخت ہوں کہ ڈاکٹر صاحبہ جیسی عظیم ہستیاں میری پیٹھ پیچھے کبھی کسی کو میری برائی کرنے کی جرات نہیں ہونے دیتیں۔

۔ ۔ میں خوش ہوں کہ ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ واپس پلاک آ گئیں ہیں، بیشک یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بطور ڈائریکٹر جنرل پلاک وہ ادارے کو پہلے سے بھی زیادہ عظمتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کی طرف لے جائیں گی، ماں بولی کے میلے لگیں گے، ڈھول بجیں گے اور ہم سب مل کر پھر سے بھنگڑے ڈالیں گے۔ ۔ ۔ یقیناً بلائیں اور وبائیں بالاخر ہماری سوہنی دھرتی کی جان چھوڑ دیں گی، یقیناً حبس، گھٹن، وبا اور اداسی کے اس دور میں ڈاکٹر صغریٰ صدف کی پلاک واپسی بہار کا سجیلا، نشیلا اور خوشبودار جھونکا ہے۔

آج کئی دنوں بعد خوشی کی یہ بڑی خبر ملی ہے۔ ۔ ۔ مولا کرم رکھے، سب پر فضل رکھے، اداسیاں اور بیماریوں کے وہم کچھ کم ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ یقیناً ہم نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ ۔ ۔ نئی خوبصورت دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ایسی دنیا کہ جس کے لاہور میں کوئی وبا نہ ہو گی، کوئی وائرس سر نہیں اٹھا سکے گا بلکہ ہم سب کی روحوں میں محبت کے جرثومے پھر سے انگڑائی لیں اور ہم نئی بہار کی خوشبوؤں میں بھرپور ترنگ سے زندگیاں گزاریں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *