پاکستانی سوشل میڈیا پر کشمیر لہو لہو کی پکار: ’ایک تصویر، بچہ اور دادا کی لاش‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج بات ایک انتہائی دل خراش کہانی کی۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے سوپور میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بشیر احمد کی خون سے لت پت لاش کی تصویریں کل انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئیں۔ ان میں سے کچھ تصاویر میں ان کا تین سال کا پوتا ان کے سینے پر بیٹھ کر روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد اس بچے کی کچھ ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں۔

پولیس نے کہا کہ بشیر احمد کی موت شدت پسندوں کی طرف سے سی آر پی ایف پر کیے جانے والے ایک حملے میں ہوئی، اور پولیس اہلکاروں نے بچے کو بچایا۔

تاہم بشیر احمد کے گھر والوں کے مطابق سکورٹی فورسز نے بشیر احمد کو گاڑی سے اتار کر گولی مار دی اور اس کے بعد بچے کو اس کے سینے پر بٹھا کر تصویریں بنائیں۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز اس کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

سوپور: ہلاک ہونے والے کشمیری کے خاندان کا فورسز پر الزام، بچ جانے والے بچے کی تصویر پر بحث

یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے ٹوئٹر پر بھی وائرل ہو گئی، اور بشیر احمد کی خون سے لت پت لاش اور ان کے پوتے کی تصویر بہت زیادہ شئیر ہوئی۔ پاکستان میں اس حوالے سے کئی ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔

پاکستان کے کئی جانے پہچانے ناموں نے، جن میں سیاست دان، کھلاڑی اور فلم سٹارز شامل ہیں، اس حوالے سے ٹویٹ کیا۔

وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کے آفیشل اکاؤنٹ سے کیے جانے والے ٹویٹ میں لکھا گیا کہ ’اس کے پوتے کے سامنے ایک کشمیری کے بہیمانہ قتل نے آج پوری دنیا کو ہلا دیا ہے۔ شاید دنیا نے انڈین فوج کی اس بربریت کو آج پہلی بار دیکھا ہو، لیکن کشمریوں کے لیے یہ روز کا معمول ہے۔`

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ٹویٹ کیا اور لکھا کہ ،’ایک تین سالہ بچہ اپنے دادا کے بےجان، گولیوں سے چھلنی جسم پر بیٹھا ہے۔ یہ مودی کے فاشسٹ انڈیا کا اصل چہرہ ہے۔‘

کرکٹر شاہد آفریدی نے، جو پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر ٹویٹ کر چکے ہیں لکھا کہ ’اپنے دادا کی گولیوں سے چھلنی لاش اور بندوق بردار فوجیوں کے درمیان پھنسا یہ بچہ۔ کوئی اور تصویر کشمیریوں کی حالت زار کی اس سے اچھی عکاسی نہیں کر سکتی۔‘

اداکارہ مہوش حیات نے بھی ٹویٹ کیا اور لکھا کہ، ’اگر یہ آپ کا دل نہ ہلا سکے تو میں نہیں جانتی کس سے آپ کا دل ہلے گا۔ دنیا انڈین افواج کو معصوم کشمیریوں کے خلاف اس طرح کی جارحیت کرنے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے۔ ہم اور کب تک اسے ان دیکھا کر دیں گے۔ اس کا رکنا لازمی ہے۔ کشمیری زندگیاں بھی معنی رکھتی ہیں۔‘

انڈین ٹوئٹر پر جہاں زیادہ تر لوگوں نے پولیس کے بیان کو صحیح قرار دیا وہیں کچھ نے اس معاملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

ٹوئیٹر صارف ساکیت گوکھلے نے لکھا ’ہم نے انسانی حقوق کے قومی کمیشن میں پینسٹھ سالہ بشیر احمد کے قتل کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کیس دائر کیا ہے، اور اس بارے میں بھی کہ پولیس نے ایک بچے کی شناخت اس طرح کیسے ظاہر کی۔ کیا اس سے کچھ ہوگا؟ میں نہیں جانتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کچھ نہ کریں۔‘

یہاں آپ سب کو ایک بات یاد دلاتے چلیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ہم سب کو انٹرنیٹ پر کسی بھی لاش کی تصاویر شئیر کرنے سے پہلے ایک بار یہ سوچ لینا چاہیے کہ ایسی تصاویر دیکھ کر مرنے والے کے لواحقین پر کیا گزرے گی؟

بالکل اسی طرح کسی بچے کی تصاویر شئیر کرنے سے پہلے بھی ایک بار اس کے گھر والوں، ان کی رضامندی، اور اس بچے کے مستقبل کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14691 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp