خوشونت سنگھ نے اندرا گاندھی سے قربت کی خواہش کیوں نہیں کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوشونت سنگھ کی کتاب “The Good, the Bad and the Ridiculous” میں شامل ہر خاکہ ہی کچھ نہ کچھ انوکھی معلومات کا خزانہ ہے۔ خوشونت سنگھ بتاتے ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو، جن کا شمار دنیا کے سب سے پڑھے لکھے وزرائے اعظم میں ہوتا تھا ( وہ ڈبل پی ایچ ڈی تھے)، لعل کرشن آڈوانی جی ”نکما “ کہتے تھے۔ جب کہ وہ خود یعنی آڈوانی جی، خوشونت سنگھ کے مطابق ایک پیکر منافقت اور ہندوستان میں مذہبی رواداری کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ انہیں کی لگائی ہوئی آگ کی وجہ سے ہندوستان بھر میں مذہبی فسادات کی ایسی آگ بھڑکی جو تا حال بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔

 ان مختصر سے خاکوں کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خوشونت سنگھ جی سے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی رسم و راہ میں Love-Hate Relationship کی مضبوط جھلک تھی۔ آپس کے روابط میں ان کی یہ نفرت چار دفعہ عود کر آئی۔ پہلی دفعہ جب وہ پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں ان سے ملے۔ یہ جنگی قیدی اندرا گاندھی کے لیے انسانی مسئلہ کی بجائے ایک تمغہ تفاخر تھے۔ وہ جابجا کہتی تھیں کہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی شکست ہم نے مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک کو توڑ کر ان کی فوج کو قیدی بنا کر دی ہے۔ بھارت میں انہیں اس وجہ سے اشوکا اور راجہ پتھورا سے بھی بڑا سمجھا جاتا تھا۔ دوسری دفعہ جب انہوں نے ایمرجنسی لگائی تو خوشونت سنگھ اور اندرا گاندھی کے تعلقات مین سردمہری چلی آئی۔

تیسری مرتبہ جب اندرا نے اپنے بیٹے سنجے گاندھی کی موت کے بعد اپنی بہو مانیکا گاندھی (جو ایک سکھ خاتون ہیں) کے ساتھ انتہائی ناروا رویہ اپنایا تو خوشونت سنگھ نے اس معاملے میں کھلےعام مانیکا کی حمایت کی۔ اور چوتھی مرتبہ جب انہوں نے سکھوں کے مقدس ترین گردوارے ہری مندر صاحب امرتسر پر فوج کشی کی۔

خوشونت سنگھ اندرا گاندھی کو عنفوان شباب سے جانتے تھے۔ وہ ان کے گھر لاہور میں کشمیر جاتے ہوئے قیام پاکستان سے پہلے آن کر ٹھہری تھیں۔ مشہور مرد، کامیاب مرد اور بے حد نکمے مرد ان سب میں یہ ایک قدر بہت مشترک ہوتی ہے کہ ان سے کسی خاتون کی قربت کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ بہت تفاخر محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان کے مشہور ترین کھلاڑی سے جب آپ بھارتی اداکارہ زینت امان کا جو اُن کا لندن میں، ان ہی کے ایک دوست کے فلیٹ پر کئی کئی گھنٹے انتظار کرتی تھیں۔ جب آپ سوال کرتے وہ کہتے تھے کہ past is another country۔ خوشونت سنگھ جی سے محض گفتگو کی چاشنی کے لیے دل لگی باز دوست ان کی خوشی کی خاطر یہ یہ سوال بھی پوچھ لیتے کہ کیا ان کی اندرا گاندھی سے تعلقات کی نوعیت جسمانی تھی۔

” ہرگز نہیں“ اس کا جواب وہ یہ دیتے تھے کہ انہیں چلبلی اور زندہ دل خواتین پسند ہیں۔ اندرا گاندھی ان خواتین میں سے نہیں تھیں جو انہیں اچھی لگتی تھیں۔ وہ بہت متکبر اور سرد رویوں کی مالک خاتون تھیں۔ ان کی خوبصورتی میں ایک چھا جانے والا، تحقیر آمیز اور قدرے شاہانہ سا انداز تھا۔ وہ بلاشبہ خوبصورت تھیں مگر دوسری حسین عورتوں سے انہیں بہت کھلی نفرت تھی۔ ان کی اس حقارت کا شکار ہونے والی دو بے حد حسین خواتین میں جے پور کی مہارانی گائیتری دیوی اور تارہ کیشوری سنہا (بہار کی مشہور سیاست دان) تھیں۔ ان دونوں کی دشمنی پر بھارت کے مشہور شاعر اور ڈائریکٹر گلزار نے فلم آندھی بنائی۔ ان دونوں کے بارے میں سب ہی کو علم تھا کہ اندارا گاندھی شدید حسد اور نفرت کے جذبات رکھتی تھیں، وہ ایک دوہری شخصیت کی مالک تھیں۔

اندرا گاندھی بہت کامیاب پبلک لیڈر مگر نجی زندگی میں بہت چھوٹی ذہنیت کی مالک تھیں۔ اس کے باوجود کچھ لوگ انہیں چاہتے تھے۔ ان ہی میں امریکی صدر لنڈن بی جانسن کا شمار ہوتا تھا۔ وہ واشنگٹن میں نسبتاً ایک نچلی سطح کی دعوت میں وہ ان کے قرب رفاقت کا لطف لینے بن بلائے آگئے تھے اور بوربن کے جام پر جام لنڈھاتے رہے۔ یہ دعوت بھارت کے سفیر بی کے نہرو نے کے دورے کے موقعے پر دی تھی۔ اس کے مہمان خصوصی نائب صدر ہیوبرٹ ہمفرے تھے۔ صدارتی عشائیے میں جانسن کی مرضی تھی کہ اندرا گاندھی ان کی ہم رقص ہوں مگر وہ یہ کہہ کر پہلو بچا گئیں کہ اس بے تکلفی کے مظاہرے سے ان کے بارے میں بھارت میں غلط تاثر جائے گا۔

خوشونت سنگھ بنگلہ دیش کی آزادی اور بھارت کی عسکری برتری کا سارا کریڈٹ اندرا گاندھی کو دیتے ہیں۔ وہ، افسانہ نگار کرشن چندر، پاکستان میں ہندوستان کے سابق سفیر گگن بھائی مہتا اور افسانہ نگار خواجہ احمد عباس چار افراد کا ایک وفد ان سے بھارت کی تحویل میں موجود 93000 جنگی قیدیوں کی رہائی کی درخواست لے کر اندرا گاندھی سے ملا تھا۔ ان میں سے اس میٹنگ میں بے چارے گگن بھائی مہتا کی تو اندرا گاندھی نے کسی پرانی رنجش کی بنیاد پر سب کے سامنے کھل کر بے عزتی کی، دونوں ادیبوں کو اپنی عزت پیاری تھی لہذا وہ چپ ہی رہے مگر جب اندرا گاندھی نے اپنی تلخ نوائی کا نشانہ خوشونت سنگھ کو بنانا چاہا تو انہیں ترکی بہ ترکی جواب ملا۔ میٹنگ ایک تلخ جملے پر ختم ہوگئی جس میں انہوں نے خوشونت سنگھ کو سیاست کی ابجد سے ناواقف ہونے کا طعنہ دیا تھا۔

 اسی طرح کی ایک میٹنگ میں جب ایمرجینسی میں انتقاماً گرفتار کیے گئے ہوئے اہم افراد کی رہائی کے لیے وہ ایک وفد کے ساتھ ان سے ملے تو اس میٹنگ کا بھی اختتام خوشونت سنگھ کی جانب سے اس جملے پر ہوا کہ” جو فعل اخلاقاً غلط ہو، وہ سیاسی طور پر بھی غلط ہی رہتا ہے“۔

خوشونت سنگھ کی اندرا گاندھی سے ناراضگی کی ایک اور وجہ سکھوں کے مشہور مقدس مقام اکال تخت گردوارہ ہرمندر صاحب جسے گولڈن ٹیمپل امرتسر کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اس پر فوجی کارروائی کا فیصلہ تھا۔ اس آپریشن کا نام آپریشن بلیو اسٹار تھا۔

اب مڑکر دیکھیں تو دور دراز کی ایک مماثلت کسی حد تک اسلام آباد کی لال مسجد والی کارروائی اور آپریشن بلیو اسٹار میں اور ایک مماثلت اندرا گاندھی کے قتل میں اور پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر کے ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل میں بھی تھی۔ دونوں ہی اپنے محافظین کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس بے ہنگم اور دور افتادہ مماثلت میں معترض قاری یہ تو کہہ سکتا ہے کہ لال مسجد کا درجہ وہ نہ تھا جو گولڈن ٹیمپل امرتسر کا تھا۔ لیکن ادھر اُدھر ریزہ ریزہ واقعات کو آپ سمیٹیں گے تو آپ کو یہ حیرت ہوگی کہ لال مسجد پر فوجی کارروائی جو ایک نادانی کا فیصلہ تھا اس کے اثرات بہت دور تک جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے باوجود مزاج کی کشادگی اور سیاسی بالیدگی کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا کو دیکھیں۔ ان کی حمایت کی وجہ سے کانگریس پارٹی نے ایک سکھ من موہن سنگھ کو بھارت کا پہلا سکھ وزیر اعظم بنایا۔ ۔ سکھ کمیونٹی سر دست بھارت کو ہی اپنا وطن سمجھتی ہے جب کہ لال مسجد کی پشت پر افغانستان میں موجود کئی ایسے گروپ تھے جن کی عسکری وابستگی اس مسجد کی قیادت سے بہت گہری تھی۔ شیخ مجیب الرحمن ہوں یا اندرا گاندھی ہوں؛ ان کے صاحب زادے راجیو گاندھی یا پھر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر ان تمام افراد کے قتل میں منصوبہ بندی کی سادگی اور اس کا پریکٹکل ہونا حیران کن ہے۔ راجیو گاندھی کا قتل گو ایک طویل عرصے کی منصوبہ بندی پر محیط تھا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تحقیق کا ایک نیا باب کھولتی ہے۔

خوشونت سنگھ سے سکھ لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والا اس لیے شدید ناخوش تھا۔ وہ بھنڈراں والے کو اکھڑ، بدلحاظ سمجھتے تھے۔ خوشونت سنگھ اس پر بھی معترض ہوتے تھے کہ اس کے نام کے ساتھ سنت یعنی بزرگ کیوں لکھا جاتا ہے۔ جب ایک آسٹریلوی صحافی نے بھنڈراں والے کو یہ بتایا کہ خوشونت تضحیکاً اُسے سکھوں کا گیارہواں گرو کہتے ہیں تو اس نے اسی کے ذریعے یہ کھلی دھمکی دی کہ” اگر وہ ایسا کہتا ہے تو میں اس کا اس کے خاندان کا نام و نشان مٹا دوں گا“۔

خوشونت سنگھ جی نے سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما سنت لونگوال سے ملاقات میں یہ اعتراض کیا کہ انہوں نے جرنیل سنگھ بھنڈراں والے اور اس کی دمدمی ٹکسال کے لوگوں کو اس عبادت گاہ میں پناہ لینے کی اجازت کیوں دی جہاں بیٹھ کر وہ ہر روز علی الاعلان سب کے سامنے ہندووں کو برا بھلا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ” او تے ساڈا ڈنڈا ہے“ (وہ تو ہماری لاٹھی ہے)۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اندرا گاندھی کو سیاست میں تشدد پسند گروپ بنانے کر Main Stream پارٹیوں کو نیچا دکھانے کا بہت شوق تھا۔ اسی لیے انہوں نے پہلے بھنڈراں والے اور بعد میں تامل ٹائیگرز کے سربراہ ویلو پلائے پربھاکرن کو پالا پوسا جو ان کی اور ان کے صاحبزادے کی جان لے بیٹھے۔

ایک عام سا دیہاتی مبلغ جرنیل سنگھ بھنڈراں والا اتنا طاقت ور لیڈر کیسے بن گیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے خوشونت سنگھ نے بیان کیا ہے کہ پنجاب میں زراعت سے آنے والی خوش حالی کے نتیجے میں شراب، زناکاری، منشیات اور جوئے جیسی اخلاقی اور سماجی برائیاں سکھ مردوں میں عام ہوگئیں تھیں۔ اس کا وہاں کی خواتین اور بچوں پر بہت برا اثر پڑا۔ جرنیل سنگھ جہاں کہیں جاتا وہ جلسے میں موجود مرد حاضرین سے قسم لیتا کہ وہ اس کے ہاتھ پر ان برائیوں سے بچنے کی بیعت کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیہاتی خاندانوں کی خوش حالی میں مزید اضافہ ہوگیا اور وہ جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کے پہلے سے بھی زیادہ معتقد ہو گئے۔

گولڈن ٹیمپل امرتسر میں باغی سکھ لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والا اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ اس عبادت گاہ میں پناہ گزیں تھا۔ فوج کے اکثر جرنیل اس ٓپریشن کے مخالف تھے مگر وزیر اعظم اندار گاندھی صاحبہ بضد تھیں کہ یہ آپریشن کئے بغیر اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔

 اندرا گاندھی وزیر اعظم ہندوستان نے اس سے نمٹنے کے لیے کئی افراد سے مشورہ کیا۔ وہ مذہب کے بارے میں غیر متعصبانہ رویہ رکھتی تھیں انہیں مسلمان اور سکھ برے نہیں لگتے تھے۔ اس شورش کے خاتمے کے لیے اپنے سکھ صدر گیانی ذیل سنگھ کی بجائے جنرل سندر جی اور جنرل ارون شری دھر ودیا کی رائے کو اہمیت دی جن کا خیال تھا کہ ایک دفعہ فوج اگر اکال تخت میں داخل ہوئی تو بھنڈراں والا ہتھیار ڈال دے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اندرا گاندھی نے جب لفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا وائس چیف آف آرمی سے اپریشن بلیو اسٹار والے حملے کا پلان بنانے کو کہا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی کہ سکھوں کے اہم ترین مذہبی مرکز گردوارہ ہرمندر صاحب پر حملے سے سکھ کمیونٹی کے جذبات شدید مجروح ہوں گے۔

 وزیر اعظم صاحبہ کو یہ مخالفت پسند نہ آئی جس پر لفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا جن کی ترقی بطور چیف ہونا تھی۔ انہیں برطرف کردیا گیا۔ اس آپریشن کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کو اسی حکم عدولی کی پاداش میں ملازمت ختم ہونے سے ایک دن پہلے ہی غبن کا الزام لگا کر ریٹائر کردیا گیا اور وہ ناراض ہوکر خود جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی دمدمی ٹکسال سے جا کر مل گئے اور ہندوستانی فوج کے خلاف لڑے۔

آپریشن کے لیے دن کا انتخاب بھی بہت نامناسب تھا: 5 جون سنہ 1984 اکال تخت کے بانی گرو گوبند کی برسی کا دن تھا۔ اس وحشیانہ فوجی کارروائی میں جس کا نعم البدل کچھ اور بھی ہو سکتا تھا، کے نتیجے میں سکھوں کی اس عبادت گاہ اور اس میں موجود تاریخی مقدس حکم ناموں جن پر گرو صاحبان کے دستخط موجود تھے بہت نقصان پہنچا۔ سب جل کر خاکستر ہوگئے۔ اندرا گاندھی جب آپریشن کے خاتمے پر معائنے کے لیے وہاں آئیں تو بہت غمزدہ تھیں۔ انہیں پہلے سے اس ہلاکت اور بربادی کا کوئی اندازہ نہ تھا۔

خوشونت سنگھ نے ان کی اس عاقبت نااندیشی پر اپنے ایک اداریے میں یہ شعر لکھا تھا جو بعد میں بہت مقبول ہوا کہ

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

دلوں میں انتقام کی آگ لیے جب ان کے سکھ محافظین بیونت سنگھ اور ستونت سنگھ نے جب انہیں ہلاک کیا تو دنیا سے ایک ایسی لیڈر رخصت ہوگئی جن کو انسانی کمزوریوں کے باوجود خوشونت سنگھ باصلاحیت اور قابل تعریف گردانتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 30 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *