And The Doctor Went Dutch…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتحان کی دبدھا میں گم ہم شاید اسی طرح بھٹکتے رہتے اگر جان نورسینی سے ملاقات نہ ہو گئی ہوتی۔ انہوں نے ہمارے تمام سوال سنے بلکہ تابڑ توڑ حملے برداشت کیے، مسکرائے اور کہنے لگے،

” آپ کو ایجوکیشن کی فیلڈ بلا رہی ہے”

“ایجوکیشن”، ہم نے آنکھیں پٹپٹائیں،

“آپ جانتے ہیں، ہم کل وقتی گائناکولوجسٹ ہیں، نوکری چھوڑ کے یونی ورسٹی کیسے جا سکتے ہیں؟”

“آپ جیسوں کے لئے ہی تو ماسٹرخت ہے”

“یہ ماسٹرخت کس بلا کا نام ہے”

“ارے کیا آپ ماسٹرخت ٹریٹی بھول گئیں”

چھم سے یوروپین یونین کا قیام اور یورو کا جنم ہماری یادداشت کے جھروکے سے باہر آن دھمکا، ” اوہ وہ ماسٹرخت”! ہالینڈ، بیلجئم اور جرمنی کے سنگم پہ، فرانس کے میدانوں سے بہہ کے آنے والے دریائے ماس کے کنارے پہ واقع دل نشین شہر ماسٹرخت!

نورسینی کہہ رہے تھے،

 “ماسٹرخت یونیورسٹی کا ڈیپارٹمنٹ دنیا میں بھر میں میڈیکل ایجوکیشن کا کعبہ سمجھا جاتا ہے۔ پروفیسر وانڈر فلوتن ایجوکیشنل سائیکالوجسٹ تو ہیں ہی لیکن طریقہ امتحان میں کی گئی ریسرچ اور تھیوریز میں ایجوکیشن کی دنیا کے سب ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ امریکہ، آسٹریلیا، سعودی عرب اور ساؤتھ افریقہ کی بہت سی یونیورسٹیوں کے وزیٹنگ پروفیسر ہیں۔ آپ کے سب سوالات کے جواب انہی کے پاس ہیں”

جان نورسینی کا تعلق امریکہ سے تھا اور وہ بہت عرصہ سے ECFMG( examination committee for foreign medical graduates) کے تحت ہونے والے غیر ملکی ڈاکٹروں کے لائسسنس کے امتحان سے منسلک تھے۔ امتحان کی طلسماتی دنیا سے دلچسپی اتنی بڑھی کہ اب دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں گھوم پھر کے لیکچر دینا ان کا شغل بن چکا تھا۔ ہماری ان سے ملاقات سلطان قابوس یونیورسٹی کی ایک کانفرنس میں ہوئی۔

لیجیے جناب، اب ہمارے اعصاب پہ ماسٹرخت یونیورسٹی کا ایجوکیشن کا دو سالہ ماسٹرز پروگرام سوار تھا۔ اس پروگرام کی شہرت امریکہ کینیڈا تک پھیلی ہوئی تھی کہ اپنی نوعیت کا واحد تھا، سینڈوچ پروگرام۔ دنیا بھر سے کل وقتی پروفیشنل آتے، ہر برس کا پہلا سمیسٹر یونیورسٹی میں کرتے اور پھر اپنے تعلیمی اداروں میں واپس چلے جاتے۔ سب فیکلٹی آن لائن ہو جاتی، مقامی طور پہ کوئی کلاس نہ ہوتی۔ باقی کے پانچ سمیسٹر سب طالب علم اپنے ادارے میں رہتے ہوئے وہاں کی مشکلات کو حل کرنے کے بارے میں سپروائزر کی مدد سے کرتے۔ پوری شام بھی اگر سپروائزر سے بات چیت رہتی، کسی کے ماتھے پہ بل نہ آتا۔

ہر طالب علم کی اسائنمنٹ انوکھی ہوتی کہ بنیادی سٹرکچر پہ چھت اپنے ادارے سے لے کے ڈالی جاتی۔ یہ پروگرام صرف ڈاکٹرز ہی کے لئے نہیں بلکہ پالیسی میکرز، فارماسسٹ، نصاب کی منصوبہ بندی، کوالٹی کنٹرول اور اداروں کے سربراہان کے لئے بھی تھا۔

نورسینی نے تو چنگاری کو ہوا دکھا کے اپنی راہ لی اور ہماری جان کو روگ لگ گیا۔ دو سال کی پڑھائی مع ریسرچ، نوکری، گھر اور بچوں کے ساتھ کیسے ہو گی؟ چھٹی کیسے ملے گی؟ فیس کون بھرے گا؟ کیا ہماری گائنی کی نوکری میں اس کا کوئی فائدہ ہو گا ؟ یہ وہ سوال تھے جو منہ پھاڑے بیٹھے تھے۔

بچے اور صاحب تو ہمارے علم کے شوق میں دیوار بننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ وزارت صحت سے رجوع کیا تو علم ہوا کہ وہ اس سارے قضیے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہماری گائناکالوجسٹ کی نوکری اور ہماری تدریس بخوبی چل رہی ہے، دوسرے ہم غیر ملکی ہیں سو جو بھی کرنا ہے فیس اور چھٹی کے سلسلے میں، ہمیں خود ہی کرنا ہو گا۔ سالانہ چھٹی تو استعمال ہو جائے گی لیکن فیس؟ آپ جانیے شوق کا تو کوئی مول نہیں ہوا کرتا، سو وہ پیسے جن کا اس زمانے میں ایک پلاٹ خریدا جا سکتا تھا، ہم نے ماسٹرخت یونیورسٹی کو دینے کا فیصلہ کر لیا۔

ایمسٹرڈیم ائرپورٹ کی خوبی یہ ہے کہ نچلی منزل پہ سنڑل ٹرین سٹیشن ہے، جہاں سے دوسرے شہروں کی ٹرینیں چلتی ہیں۔ ایک مہینے کا زاد راہ لیے ہم سٹیشن کی طرف چلے اور ماسٹرخت کی ٹکٹ خرید لی۔ تین گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم نے وہاں پہنچنا تھا جہاں ہماری بے چینیوں پہ مرہم رکھا جانا تھا۔

ہمارے 26 ہم جماعت اور اٹھارہ ملکوں سے تعلق، ہر رنگ اور ہر نسل موجود، یوں لگتا تھا دنیا سمٹ آئی ہے۔  امریکہ، کینیڈا، سنگاپور، جاپان، سعودی عرب، اومان، انڈیا، کینیا، گھانا، زیمبیا بیلجیئم، برازیل، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، ویتنام، مانو کہکشاں سی سج گئی تھی۔ استاد وہ جو زمانوں سے بیٹھے انسانی دماغ پہ تعلیم، سکھلائی اور امتحان کی گتھیاں سلجھانے کے لئے ریسرچ کیے چلے جا رہے تھے۔

لگتا تھا کہ سارا شہر یونیورسٹی اور یونیورسٹی کے لئے گئے رہائشی مکانات کے گرد بنا ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ دریائے ماس بہتا تھا۔ ہمیں جو گھر ملا اس میں ہمارے ساتھ ایک اطالوی لڑکی قیام پذیر تھی۔ یونیورسٹی ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پہ تھی۔ بس کی سہولت میسر تھی لیکن پیدل جانے میں جو لطف تھا وہ بس میں کہاں۔

سائیکلوں کے پرے کے پرے چل رہے ہوتے اور ہم چھتری تھامے، لانگ بوٹ پہنے، گھروں کے باغیچوں میں اگے پھولوں کو سراہتے، کھلی کھڑکیوں سے کافی کی خوشبو سونگھتے اور بسا اوقات اچٹتی نظر سے اندر جھانکتے یونیورسٹی پہنچ جاتے۔ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک مسلسل کلاسیں اور ٹیوٹوریل چلتے کہ پورا سیمیسٹر ایک مہینے میں پڑھایا جانا تھا۔ درمیان میں لنچ کے وقفے میں پوری کلاس ہوٹل نما کیفے ٹیریا میں اکٹھی ہوتی۔ رنگ برنگی خوش گپیاں اور خورد ونوش کا دور چلتا۔ایسے لگتا زمانہ طالب علمی پھر سے لوٹ آیا۔

پانچ بجے ہم اسی راستے پہ باغیچوں، کھڑکیوں اور بالکونیوں میں تاک جھانک کرتے اپنے کمرے میں واپس پہنچ جاتے۔ شام کو دی گئی اسائنمنٹ پوری کی جاتی اور رات کو کھانے کی فکر، جو ہمیں کم اور سنگاپور سے آئے ہوئے پاکستانی انیستھیٹسٹ ڈاکٹر خلیل شبلی کو زیادہ ہوتی۔ وہ ہمارے گھر سے کچھ ہی فاصلے پہ مقیم تھے اور کنوؤں میں بانس ڈال کے خبر لاتے کہ پورے شہر میں حلال کھانے کا ڈھابا کس طرف ہے۔ واللہ اگر وہ یہ ذمہ داری نہ اٹھاتے تو ہم ایک مہینہ آملیٹ اور بریڈ پہ گزارا کرنے والے تھے۔

ویک اینڈ پہ زندگی انگڑائی لے کے پارٹی موڈ میں آ جاتی۔ یونیورسٹی کے استاد اپنے گھروں کے دروازے کھول دیتے اور ہم ڈچ مہمان نوازی کے مزے لوٹتے۔ ہنسی مذاق، کھیل، موسیقی اور مشروبات اور سنیکس۔ چھٹی کے دو دن ہالینڈ، بیلجئم، جرمنی، اور فرانس کے قصبوں میں گزرتے۔ پڑھائی کے وقت سخت محنت اور فراغت میں غم غلط کرنے کا فن ہم نے وہاں سے ہی سیکھا۔

کورس میں کیا سیکھا؟ یہ ہم آپ کو بتائیں گے اگلی دفعہ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply