ناول” خوشبو کی ہجرت” کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بظاہر ایک ناول کا مطالعہ نامعلوم سے معلوم کے سفر جیسا ہے۔ یعنی مطالعے سے پہلے وہ ہمارے لیے ایک نامعلوم جزیرے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ہی ہم اسے پڑھنا شروع کرتے ہیں، نامعلوم ہمارے لیے دھیرے دھیرےمعلوم میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور مزید کچھ وقت گزرنے کے بعد ہم اس معلوم کے اس درجہ عادی ہوتے چلے جاتے ہیں کہ ہم یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ ناول کے صفحات پرلفظوں کی قطاروں کے پیچھے حرکت کرتا ہوا قصہ یا واقعہ کچھ دیر پہلے ہمارے لیے یکسر نامعلوم تھا۔ ہم اس کی فضا میں، اس کی آب و ہوا میں سانس لینے لگتے ہیں اور اس سے مانوس ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی ناول چاہے کتنا ہی محیرالعقول ،بعید از حقیقت یا خیالی دنیا سے تعلق رکھتا ہو،نامعلوم سے معلوم میں ڈھل کر بالاآخرہمارے لیے مانوس ہو تا چلاجاتا ہے۔ اس سارےعمل کے دوران ہم دریافت کرنے کی ایسی منفرد اور گہری مسرت سے ہم کنار ہوتے چلے جاتے ہیں جو ہمیں صرف اور صرف ایک ناول کے ذریعے ہی میسر آسکتی ہے۔

صلاح الدین عادل کا ناول ” خوش بو کی ہجرت”یوں تو ایک سیدھے سادے واقعے سے شروع ہوتا ہے، جس میں ایک شہر میں قیام پذیر، ناول کے ایک اہم کردار تقی کو اس کی ماں کا خط موصول ہوتا ہے۔ اس خط کا آخری جملہ تقی کے دل کو بے قرار کردیتا ہے۔ وہ اگلے دوتین روز میں اپنے گاؤں” داؤد نگر” جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس کا دوست اور استاد متین بھی اس سفر میں اس کے ساتھ ہولیتا ہے اور اس طرح وہ دونوں شہر سے گاؤں کا سفر ساتھ طے کرتے ہیں۔ یہ بظاہر حقیقیت سے قریب تر ایک معمولی ساواقعہ ہے لیکن گاؤں میں کچھ وقت گزارنے کے بعد دونوں کردار رات کے وقت گھوڑوں پر سوار ہوکر شکار کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی سفر کے بعد ایک اور سفر کاآغاز ہوتا ہے۔ پہلے سفر کے انجام اور گاؤں میں قیام کے دوران بھی ناول کے قصے کا تعلق حقیقت کی دنیا سے برقرار رہتا ہے۔ لیکن دوسرے سفر کے انجام پر ناول کا قصہ ایک جست لگاکر ماورائی بلکہ جادوئی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے. جس کے دوران یکے بعد دیگرے نت نئے اسفار کی حیرانیاں قاری کو اپنے سحر میں جکڑے لیتی ہیں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں قدم قدم پر ایک نیا استعجاب ہمارا انتظار کرتا ہے اور یہ سلسلہ تھمنے ہی نہیں پاتا۔

نامعلوم سے معلوم کا سفر کرتے کرتے ہم اچانک معلوم سے نامعلوم کی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔ عام ناولوں میں ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے۔ زیادہ تر ناول خط مستقیم میں دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں سفر کرتے ہیں، بعض دائرہ بناتے ہیں، کچھ اپنے کرداروں کی زبانی ان کے بیانیے کے تانے بانےکی مدد سے اپنی کہانی کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوش بُو کی ہجرت کا اختصاص یہ ہے کہ وہ ان سب کے برعکس بہ یک وقت کئی سمتوں اور کئی بیانیوں کو اپنے ساتھ شامل کرتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس مختلف صورتِ حال میں بھی اس ناول کا باوقار اور بے حد منضبط لیکن وقت بہ وقت بدلتا ہوا اورپیچیدہ سے بل کھاتا ہوا، شفافیت کاحامل بیانیہ وہ مضبوط ستون ہے جو اپنے پڑھنے والے کو مرکزی قصے سے جوڑے رکھتاہے اور اس کی دل چسپی کو نا صرف برقراررکھتا ہے بلکہ اس میں کچھ اضافہ بھی کردیتا ہے۔ اس بیانیے کا تاروپود مختلف اقسام کے اسالیبِ بیان سے تیار ہوا ہے ، جو ناول میں ہرتھوڑے فاصلے پر غیر محسوس طریقے سے تبدیل ہوتے چلاجاتاہے اور اس کاقاری سہولت اور روانی کے ساتھ آگے بڑھتا چلاجاتا ہے۔ اس ناول کی فارم یا ہیئت میں وہ قطعیت یادو ٹوک چوکھٹا پن بالکل نہیں ہے جو ہمارے دور کے ناولوں کا خاصہ بنتا جارہاہے، بلکہ اس میں ایک طرح کے گھنے پن اور گمبھیرتاکا احساس ملتا ہے۔ ایک ایسے گھنے پن اور گمبھیرتا کا احساس جس کی کوئی متعین فارم یا ہیئت ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ کچھ یہی حال اس ناول کے اسلوب یا اس کے بیانیے کا ہے، جو کہیں ندی کی طرح پُرشور ہے تو کہیں دریا کی طرح سبک سر لیکن باوقار، کہیں میدان کی طرح وسیع ہے تو پہاڑ وں کی طرح سر بفلک۔ اس کی یہ خصوصیت اسے آج کے دور میں لکھے جانے والے اردو ناولوں سے مخلتلف اور ممتاز بنادیتی ہے۔

ناول کے سبھی اہم کرداروں کے اپنے اپنے قصے ہیں۔ تقی، عالمہ، متین اور فردوس اور سوشیلامحض پانچ کردار نہیں بلکہ اپنی جگہ الگ الگ گھمبیر قصے محسوس ہوتےہیں اور ان سب کے اپنے اپنے ذیلی قصے بھی ہیں۔ جو اپنی دل چسپی اور کشش میں کسی طرح سے کم تردرجے پر فائز نہیں ہیں۔ ان مرکزی کرداروں کے علاوہ ناول میں کچھ کم اہم کردار بھی موجود ہیں لیکن ناول نگار نے ان کے منفرد قصوں کو بھی بہت عمدگی سے بیان کرتے ہوئے مرکزی دھارے سے جوڑ دیا ہے۔

“خوش بُو کی ہجرت” ایک عجیب و غریب ناول ہے۔ ایک جانب تو،اپنی سرشت اور اپنی ساخت و ہیئت کے لحاظ سے ،یہ ہمہ گیر ، متنوع اور رنگارنگ ناول، انیسویں صدی کے مغربی ناول کےقریب تر محسوس ہوتا ہے۔ چارلس ڈکنز،دوستوئیفسکی اور ٹالسٹائی کے ضخیم ناولوں میں کرداروں اور ان کے قصوں کی جس طرح کی ریل پیل دکھائی دیتی ہے،معمولی فرق سے یہاں بھی کم و بیش وہی صورتِ حال ہے۔ جب کہ دوسری طرف، یہ اپنے منفرد ، تِہہ دار و پرپیچ اور جادوئی قسم کے اسلوب کی بنا پر بیسویں صدی کے لاطینی امریکا کے بڑے ناول سے ایک درجہ مختلف ہونے کے باوجود، اس سے نزدیک تر بھی محسوس ہوتاہے۔ لاطینی امریکا کے جادوئی حقیقیت نگاری والے فکشن سے اس ناول کی یہ قربت ایک انوکھی اور قابلِ توجہ بات ہے۔ وہ اس لیے کہ شیخ صلاح الدین نے یہ ناول لکھنے کا آغاز اکتوبر،1954میں کیا تھا، جب کہ حوان رلفو ، جسے لاطینی امریکی فکشن کا معمار اعظم سمجھا جاتا ہے، اس کا شہرہ ِ آفاق ناول پیڈرو پرامو پہلی مرتبہ ہسپانوی زبان میں 1955میں شایع ہوا ۔ مارکیز اور دیگر لکھنے والے اس کے بہت بعد منظرِ عام پر آئے۔ اس وجہ سےاس بات کا امکان تو ہوسکتا ہے کہ شیخ صاحب جیسا ادب کا جید عالم ان اصحاب سے برائے نام باخبر رہا ہو لیکن یہ امکان بہت کم ہے کہ انہوں نے انگریزی ترجمے کی صورت میں ان کا مطالعہ بھی کیا ہوا ہو۔

اس موقع پر اس ناول کے بارے میں دی گئی عبداللہ حسین کی رائے کا ذکر بے محل نہ ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں:”شیخ صلاح الدین صاحب کا مزاج شروع سے دیومالائی تھا۔ غالباً 1966میں میں نے ان کے ناول کا پہلا باب پڑھاتو مجھے احساس ہوا کہ انہوں نے حکایت اور دیومالا کے امتزاج سے ایک انوکھا طرزِ تحریر ایجاد کیا ہے ،جوعجیب سحر انگیز ہے۔ اس زمانے میں جادوئی حقیقت بیان کرنے والا گینگ ابھی منظرِ عام پر نہیں آیا تھا( بلکہ مارکیز کا تنہائی کے سوسال بھی اس وقت صرف ہسپانوی زبان میں ہی چھپا تھا)۔ اس لحاظ سے شیخ صاحب نے ایک نئے انداز کی دریافت کی تھی۔ یہ بےحد مسرت کا مقام ہے کہ اردو افسانوی ادب جو مجموعی طور پر پہلے ہی نادار ہے، اس فکرانگیز ناول کے چھپنے سے کچھ کم بےحیثیت ہوگیا ہے۔ “

 فکر انگیزی اورتہہ داری اس ناول کی اہم خوبیاں محسوس ہوتی ہیں۔ شیخ صاحب نے اپنے ناول کے کرداروں کوان کے قصوں میں کچھ اس طرح سمویاہے کہ ان کی گہری اور عمیق فکر کا پیالہ کسی بھی مقام پر چھلکنے نہیں پاتا۔ ناول کے ہر اہم کردار کا تعلق اعلی طبقے سے ہے۔ وہ نہ صرف حقیقی معنوں میں پڑھا لکھا اور باشعور فرد ہے بلکہ مردِ خود آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک گداز دل کا مالک بھی ہے۔ ہر کردار کی زندگی میں کوئی نہ کوئی محرومی، ناکامی اور حسرت ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں تمام انسانی وسائل، سہولتیں اور آسائشیں مہیا ہونے کے باجود کسی نہ کسی طرح نامکمل ہے، ادھورا ہے، اسے کوئی نہ روگ لگا ہوا ہے، وہ اس کا علاج کرنے کے بجائےاس کا رخ کسی اور جانب موڑنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

ناول کا ہر کردار اپنی ذاتی محرومیوں، ناکامیوں اور حسرتوں کے باجود لہو ولعب سے معمور اس دنیا کو دوسرے انسانوں کے لیے ایک مثالی مقام کے طور پر نا صرف دیکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح شیخ صاحب اپنے ناول میں بعض مقامات پر اشتراکیت کے ساتھ ساتھ وجودیت کے فلسفےسے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے ناول میں انسان کو معمولی اور حقیر مخلوق کے بجائے ایک برتروجود کے طور پر دکھاتے ہیں۔ ایک ایسا برتروجود جو ذاتی رنج و محن سے گھبرا کر نا تو دنیا کوتیاگنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے برباد کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اپنے لیے اور دوسرے تمام انسانوں کے لیے اسے امن و سکون کا گہوارا بنانے کےلیے اپنا حصہ ڈالنے کی پوری کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

بظاہر “خوش بو کی ہجرت” کے سارے مَحلات ِ وقوع فرضی ناموں والےہیں۔ وہ چاہے داؤد نگر ہو یا سادات پور ہو یا کوئی اور۔ اس کے باجود جب وہ شہر اور وہاں کی زندگی کو بیان کرتے ہیں، کالج اور یونیورسٹی کا ماحول دکھاتے ہیں تو ان مقامات سے گزرتے ہوئے پڑھنے والے کے ذہن میں لاہور کے سوا کوئی دوسرا شہر نہیں آتا۔ البتہ دیہات، قصبات، جنگلات،میدانوں،ویرانوں ،پہاڑوں ، اجاڑ مقامات ، ندی نالوں اور کھیت کھلیانوں کے بیان سے انہوں نے جو ماحول پیدا کیا ہے، وہ نا صرف طلسماتی ہے بلکہ اتنا سحرانگیز بھی ہے کہ پڑھنے والا اس میں کھو کر رہ جائے۔ اس ناول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اردو ناول کو ایک نئی طرح کی ماورائی حقیقت پسند ی سے روشناس کرواتا ہے۔ جس کا سراغ اردو ادب تو کیا شاید عالمی فکشن میں بھی کم ہی مل سکے گا۔

صلاح الدین عادل، ادبی حلقوں میں شیخ صلاح الدین کے نام سے مشہور تھے، ان کا یہ ناول اپریل 2008 میں ناصر کاظمی سوسائٹی کے زیرِا ہتمام لاہور سے شایع ہوا۔ 1982 میں ان کی ایک کتاب” ناصر کاظمی، ایک دھیان” نے اپنےقارئین کو بہت متاثر کیا۔ شیخ صاحب نے اپنے اس ناول کا آغاز 2اکتوبر،1954کو کیااور 29اکتوبر،1974کو یہ مکمل ہوا۔ اس کے بعد وہ تازندگی اس میں تصحیح و ترمیم کرتے رہے۔ حتی کہ سن 2000میں وہ وفات پاگئے۔ ناصر کاظمی سوسائٹی کے اراکین کو یہ مسودہ ان کے چھوٹے بھائی شیخ سجاد حسن کی وساطت سے چار سادہ سی کاپیوں کی صورت میں موصول ہوا۔ شیخ صاحب نے ناول شروع کرتے وقت اس کا نام خوشبو کی ہجرت رکھا تھا،مگر جب اردو شاعری کی روایت کے بارے میں شیخ صلاح الدین، انتظار حسین، ناصر کاظمی اور حنیف رامے کا ایک مکالمہ شایع ہونے لگا تو بقول شیخ صاحب: “ناصر نے کہا کہ آپ جو ناول لکھ رہے ہیں وہ تو پتا نہیں کب مکمل ہوگا اور کب چھپے گا،فی الحال ہمیں اس کا عنوان چاہیے”۔ وہ مکالمہ خوشبو کی ہجرت کے عنوان سے سویرا میں شایع ہوا۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے ناول کو خوشبو کی گلیاں کا عنوان تو دیا مگر انہوں نے مسودے میں پہلا نام بھی حذف نہیں کیا۔ بہت بحث و تمحیص کے بعد ناصر کاظمی سوسائٹی کے اراکین نے خوشبو کی ہجرت کو ترجیح دی اور ناول کو اسی نام سے چھاپنے کا فیصلہ کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply