پارلیمنٹ کو رہا کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اختلاف رائے کسی بھی جمہوری انتظام کا حصہ ہوتا ہے لیکن اگر اختلاف الزام تراشی، عناد، دشمنی اور ضد میں تبدیل ہوجائے تو ملک میں جمہوریت کے علاوہ سلامتی کو بھی اندیشے لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس کے مظاہر اس وقت پاکستان میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس وقت نہ عسکری حلقوں کی طرف سے جمہوری انتظام لپیٹنے کا اندیشہ ہے اور نہ ہی عدالت عظمی براہ راست حکومت یا پارلیمنٹ کے اختیار کو چیلنج کرے گی لیکن حکمران جماعت نے احتساب کے نام پر جن سماجی رویوں کو فروغ دیا ہے، ان کی وجہ سے معاشرے میں پیدا ہونے والی تقسیم، اس وقت ملکی انتظام ہی نہیں، اس کی سلامتی و وقار کے لئے بھی خطرہ بنی ہوئی ہے۔
پاکستان میں صحت مندانہ اختلاف رائے کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اصولوں یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر مباحث اور رائے سامنے نہیں آتی۔ ہر طرف سے ذاتی پسند یا ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ اختلاف کرنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دوسرے کی رائے کا احترام کیا جائے۔ اختلافی رائے کے احترام کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوتا کہ اس سے اتفاق کرلیا جائے۔ لیکن دوسرے کی رائے کو سننا، اسے میرٹ پر پرکھنا اور دلیل وزنی ہو تو اس کے مطابق رائے تبدیل کرلینا ہی اصل طریقہ ہے۔ پاکستان میں سیاست سے لے کر صحافت، ٹی وی مباحث سے لے کر سوشل میڈیا پر منہ ماری تک اپنی رائے کا اظہار تودرست مانا جاتا ہے لیکن دوسرے کو یہ حق دینے کا رجحان نہیں ہے۔ پاکستانی ٹی وی ٹاک شوز اس کی سب سے نمایاں مثال ہیں۔ کسی بھی ٹاک شو کو دیکھ لیجئے، مباحثہ میں مدعو کئے گئے مہمان دوسرے کی بات سن کر اس کا دلیل سے جواب دینے اور مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کاجائزہ لینے کی بجائے، دوسرے کو مسترد کرنے، نیچا دکھانے اور اپنی بات منوانے کے لئے ہمہ قسم ہتھکنڈے اختیار کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔
پاکستانی ناظرین کا عمومی مزاج ایسا بنا دیا گیا ہے کہ وہ بھی صحت مند بحث اور دلائل کی بجائے بلند آہنگ گفتگو کے منتظر ہوتے ہیں۔ وہی ٹاک شو مقبول ہوتا ہے جہاں کسی بات چیت کا کوئی مقصد ہو یا نہ ہو لیکن اگر شرکا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے علاوہ گریبان پکڑنے پر آمادہ ہوں تو سامعین و ناظرین محظوظ ہوتے ہیں۔ ایسے میں ٹاک شوز کے میزبان بھی ٹی وی پروگرام میں جنگ و جدل کا منظر پیدا کرنے کی خواہش و کوشش کرتے ہیں تاکہ کوئی ٹکڑا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی شہرت پائے اور اس شو کا بول بالا ہوجائے۔ اس طرح شہرت اور آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔ ملک کی سیاسی صورت حال کے حوالے سے منعقد ہونے والے ٹاک شوز میں اکثر ایسی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ طریقہ پاکستانیوں کی تفریح کا ایک نیا پیمانہ بن چکا ہے۔ کسی موضوع پر علمی یا مدلل گفتگو کی بجائے ایسے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے جن کی موجودگی میں شو کے دوران گرمی پیدا ہو اور ایک دوسرے کے بارے میں سخت یا نازیبا الفاظ استعمال کئے جائیں۔ یہی سبب ہے کہ صرف اشتعال انگیز ٹاک شوز پاکستان میں مقبولیت پاتے ہیں۔ جو لوگ اس میڈیا پالیسی سے متفق نہیں ہیں، انہوں نے ٹاک شوز دیکھنا بند کردیا ہے۔ تاہم ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والے یہ لوگ اتنی تعداد میں نہیں ہیں کہ میڈیا ہاؤسز کو ٹاک شوز کا فورمیٹ تبدیل کرنے پر مجبور کرسکیں۔
اس بات کا جائزہ ماہرین نفسیات ہی لے سکتے ہیں کہ ایسی ہیجان خیزی سے پاکستانیوں کی ذہنی صحت پر کیسے اثرات مرتب ہورہے ہیں لیکن مذہب سے لے کر سیاسی و سماجی امور تک جس طرح دو انتہاؤں کو چھونے والا مزاج دیکھنے میں آتا ہے، وہ معاشرے کے ہر شعبہ میں پیدا ہونے والے سماجی بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ یہ رویہ البتہ صرف ٹی وی ٹاک شوز یا ایک دوسرے سے میل جول اور نظریات کی تشکیل تک محدود نہیں ہے بلکہ ملکی سیاست میں اس کے اثرات بطور خاص محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ عمران خان نے اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مقبول سیاسی بیانیہ استوار کیا۔ یہ بیانیہ بظاہر ایک بہتر اور اعلیٰ مقصد کے لئے سامنے لایا گیا تھاکہ ملک سے بدعنوانی کو ختم کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولتیں اور ایک صحت مند ماحول فراہم ہو۔ لیکن جیسا کہ کسی بھی مقبول سیاسی تحریک کا طریقہ ہوتا ہے کہ اس میں ایک گروہ کو دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرکے خود اپنے لئے راستہ نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عمران خان کا بیانیہ بھی کرپشن سے زیادہ شریف خاندان اور آصف زرداری کے خلاف اعلان جنگ ہے تاکہ انہیں رسوا کرکے اپنا قد بلند کیا جائے اور سیاسی گنجائش پیدا کی جاسکے۔
سیاسی الزام تراشی کے اس ماحول کا یہ نتیجہ نکلا کہ عمران خان وزیر اعظم بننے کے دو سال بعد بھی اپنے لب و لہجہ اور طریقہ گفتگو تبدیل نہیں کرپائے۔ ان کے حامی یقیناً اس کا سبب کرپشن سے عمران خان کی نفرت کو قرار دیں گے لیکن اس رویہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ عمران خان کو اندیشہ ہے کہ اگر انہوں نے سیاسی مخالفین کے بارے میں لب و لہجہ تبدیل کیا تو نعروں اور جھوٹے الزامات کے سہارے بنایا ہؤا مقبولیت کا محل زمین بوس ہوجائے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت اس دوران اگر معیشت کو سہارا دینے اور عوام سے کئے گئے وعدے پورا کرنے کے لئے ٹھوس اقدام کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو شاید عمران خان سابقہ حکمرانوں کو بھول کر کسی تعمیری منصوبہ کی طرف توجہ دے سکتے۔ معیشت کے علاوہ سفارت کاری اور خارجہ تعلقات میں مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے حکومت عوام کی امیدوں کا نہیں دے سکتی۔ اس صورت میں بدعنوانی و احتساب کے نعرہ کے بعد کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کا حوالہ ہی لوگوں کو مسلسل خواب دکھا سکتا ہے۔
حکومت کی اس مجبوری کا مظاہرہ بجٹ سیشن کے دوران خاص طور سے دیکھنے میں آیا۔ وزیروں کے علاوہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں میں اپوزیشن لیڈروں کے لئے تضحیک آمیز طرز گفتگو اختیار کیا۔ قومی مسائل کے پیش نظر پارلیمنٹ کو اکٹھا کرنے کی بجائے پارٹی اور شخصیات کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا۔ اس سے ملک میں پیدا کی گئی پولرائزیشن بہت واضح ہوگئی ہے۔ اب لوگ تحریک انصاف کے ایجنڈے کی وجہ سےاس کی حمایت نہیں کرتے بلکہ یہ تقسیم عمران کی محبت سے زیادہ نواز شریف اور آصف زرداری کے لئے پیدا کی گئی نفرت کی وجہ سے نمایاں ہونے لگی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن ارکان نےوزیر اعظم کی تقریر کا بائیکاٹ کیا اور پارلیمانی روایت کے مطابق تنقید سننے اور اس کا جواب دینے کا حوصلہ نہیں کیا۔ لیکن اس صورت حال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ گو بجٹ منظور ی کامرحلہ درپیش تھا لیکن پہلے ایک وزیر کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں پر انتہائی نامناسب الزامات عائد کئے گئے۔ جواب دینے کی کوشش کی گئی تو اسپیکر نے اپوزیشن ارکان کا مائیک بند کرکے اس معاملہ کو طے ہونے سے روک دیا۔ اس چپقلش میں اپوزیشن نے جوں ہی اجلاس کا بائیکاٹ کیا وزیر اعظم ایوان میں تشریف لے آئے اور اپوزیشن پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا۔ گویا ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے اپوزیشن کو واک آؤٹ پر مجبور کیا گیا تاکہ وزیر اعظم ’خوشگوار‘ ماحول اور تالیوں کی گونج میں اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔
عمران خان کا مقصد صرف سیاسی مقبولیت برقرار رکھنا ہے، اس لئے معاشرے کے علاوہ ایوان میں بھی تقسیم کا ماحول اس مقصد کے لئے مناسب ہے۔ وہ اس تقسیم اور اس سے پیدا ہونے والی نفرت کے نقصانات کا اندازہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ یہی رویہ اس وقت ملک کو درپیش سیاسی بحران کی بنیاد ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ مسلسل لڑائی اور کارکردگی دکھانے میں ناکامی کی وجہ سے ہر طرف سے یہ شور سنائی دینے لگاہے کہ یہ حکومت آخر کب تک چل سکے گی۔ اصولی طور پر اس حکومت کو مینڈیٹ کی مدت پوری کرنی چاہئے۔ تاآں کہ پارلیمنٹ میں اکثریت عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور نہ کرلے یا نئے انتخابات کی نوبت نہ آجائے۔
موجودہ حالات میں آسانی سے ان دونوں مرحلوں سے نہیں گزرا جاسکتا۔ اسی لئے بے یقینی اور سرکاری امور کی انجام دہی میں تعطل وبے دلی کی کیفیت دیکھنے میں آرہی ہے۔ اسی لئے مائینس ون یا حکومتی تبدیلی کی بات کرتے ہوئے جمہوری کی بجائے کسی دوسرے طریقہ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس سے گزشتہ 12 برس کے دوران جمہوریت کے استحکام کی کوششوں کا سفر رائیگاں جانے کا اندیشہ ہے۔ لیکن تبدیلی کا ذکر عدم اعتماد یا نئے انتخابات کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے مزاج کے بارے میں قیاس آرائیوں سے عبارت ہے۔
اس قیاسات کے علاوہ معاشرے میں سیاسی تقسیم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فوجی قیادت عمران خان کی پشت پر کھڑی ہے۔ آئینی لحاظ سے یہ مستحسن بات ہوسکتی ہے لیکن اس حمایت کی بنیاد آئینی وفاداری سے زیادہ اس حقیقت پر ہے کہ عمران خان کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے نجات پانے کے لئے 2018 کے انتخاب جیتنے میں مدد فراہم کی گئی تھی۔ اس طرح فوج موجودہ سیاسی انتظام کا حصہ بن چکی ہے۔ جس ادارے کو سیاسی پسند و ناپسند سے بالا ہونا چاہئے تھا، سیاسی گروہ بندی میں اڑنے والی دھول سے اس کا چہرہ آلودہ ہورہا ہے۔ عمران خان کی ناکامیاں، ایک لیڈر یا ایک پارٹی کی کمزوری سے بڑھ کر ملک کے سب سے طاقت ور ادارے کی بے بسی کی علامت بن چکی ہیں۔ ملک میں پیدا کئے گئے شخصی نفرت کے ماحول سے عسکری اداروں کی شہرت و اعتماد پر زک پڑنے لگی ہے۔ اسی لئے یہ معاملہ قومی سلامتی کے حوالے سے نازک صورت اختیار کرچکا ہے۔
اس بحران کا فوری راستہ نکالنا بے حد ضروری ہے۔ اس مشکل سے نکلنے کے لئے ہی مائنس ون یا تبدیلی کا ذکر کیا جارہاہے۔ لیکن ایسا کوئی طریقہ غیر آئینی ہونے کے علاوہ ملک میں اٹھنے والے نفرت کے طوفان کا زور نہیں توڑ سکے گا۔ اس وقت عمران خان اس طوفان کی زد پر ہیں، کوئی غیر آئینی ہتھکنڈا استعمال کرنے سے اس طوفان کا رخ کسی دوسری طاقت کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔ عمران خان کی سرپرستی کے باعث فوج پر پہلے ہی بہت دباؤ ہے۔ افواہ سازی کے خاتمہ اور بے یقینی ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملکی پارلیمنٹ کی آزاد اور خود مختار حیثیت بحال ہوسکے۔ اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ بعض درپردہ ہاتھ چند ارکان اسمبلی کو کسی وزیر اعظم کی حمایت یا مخالفت کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ ارکان اسمبلی آزاد ہوں گے تو عمران خان یا کسی بھی وزیر اعظم کو بھی پتہ ہوگا کہ ان کی حمایت کے لئے کارکردگی دکھانا پڑے گی، کوئی ان دیکھی طاقت پانسہ پلٹنے کے لئے سرگرم نہیں ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1577 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply