میں سمارٹ فون بننا چاہتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے بہت ہی پیارے اللہ!
میں ایک چھوٹا سا بچہ ہوں، عمر کے بارہویں سال میں ہوں، تیری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوں اور تجھ سے کچھ مانگنا چاہتا ہوں جو تیرے لیے تو ”کچھ“ ہے لیکن میرے لیے ”سب کچھ“ ہے۔ تو تو بن مانگے بھی دیتا ہے لیکن آج میں خود ہاتھ پھیلائے تیری بارگاہ میں آیا ہوں اور کچھ مانگ رہا ہوں۔

اے میرے اللہ!

آج میں آپ سے بہت خاص مانگتا ہوں۔ اے اللہ! مجھے اپنی مما کا موبائل فون بنا دے، مجھے اپنے بابا کا سمارٹ فون بنا دے۔ میں اس دنیا سے بیزار ہو گیا ہوں جہاں کوئی بھی میرا نہیں ہے۔ میں اپنی مما سمارٹ فون بننا چاہتا ہوں۔ ایسا ہو گیا تو وہ مجھے بہت پیار کریں گی اور پھر ایسا نہیں ہو گا میں روتا رہوں اور انہیں احساس تک نہ ہو۔ اللہ جی! جب میں مما کا سمارٹ فون بن جاؤں گا تو وہ میری ایک بیل پر دوڑتی ہوئی آئیں گی۔ مجھے بہت سنبھال کر رکھیں گی۔ جب میری پاور کمزور ہو جائے گی تو وہ مجھے چارج کریں گی۔ ہر روز مجھے صاف کریں گی اور کوشش کریں گی کہ مجھ پر کوئی سکریچ نہ آئے تا کہ ان کی سوسائٹی میں میری ویلیو کم نہ ہو۔ وہ مجھے بہت ہی پیار سے استعمال کریں گی۔ میرے لیے آئے روز نئے نئے پاؤچ تلاش کریں گی۔ وہ مجھے کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گی بلکہ ہر وقت مجھے سینے سے لگا کر رکھیں گی۔ اب تو مما جب بھی اپنی سہیلیوں سے ملتی ہیں تو کہتی ہیں کہ منے نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔

جب دیکھو روتا رہتا ہے۔ لیکن جب میں ان کا سمارٹ فون بن جاؤں گا تو انہیں میری آواز بری نہیں لگے گی بلکہ اگر میری آواز مدھم پڑ گئی یا بند ہو گئی تو وہ پریشان ہو جائیں گی اور مجھے دکھانے کسی بہت بڑے موبائل ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے اور جب تک میں ٹھیک نہ ہو جاؤں گا وہ اپنی جگہ بالکل نہ چھوڑیں گی۔ جب تک ڈاکٹر موبائل اوکے کی رپورٹ نہیں کرے گا تب تک وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتی رہیں گی۔ میری مما اپنی سہیلیوں سے میری برائیاں بیان نہیں کریں گی بلکہ کہیں گی کہ اس کی بیٹری ٹائمنگ بہت اچھی ہے، یہ بہت تیز پروسیس کرتا ہے اور اس کی وائس کلیرٹی بہت اچھی ہے۔

اے میرے اللہ!
میں اپنے بابا کا بیٹا بننے کی بجائے ان سمارٹ فون بننا چاہتا ہوں اور ایسے ہی جینا چاہتا ہوں جیسے ہمارے گھر میں موجود ان کا سمارٹ فون جی رہا ہے۔ میں ان کے سمارٹ فون کی جگہ لے کر ان کا بہت خاص بننا چاہتا ہوں۔ میں اپنے مما بابا کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔ میں ان کی توجہ کا مرکز بننا چاہتا ہوں۔ جب میں مما بابا کا سمارٹ فون بن جاؤں گا تو پھر وہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کریں گے۔ کوئی مجھے مارپیٹ نہیں کرے گا۔ کوئی مجھے خود سے الگ نہیں کرے گا۔

وہ کوشش کریں گے کہ میرے ساتھ وقت بتائیں۔ وہ جلدی جلدی اپنے کام کریں گے تا کہ میرے لیے وقت نکالیں۔ میں تو میں، وہ تو مجھے پاور دینے والے چارجر کا بھی خاص خیال رکھیں گے۔ وہ مجھے بہت پیار اور نرمی سے ٹریٹ کریں گے۔ مجھے گھر میں بہت ہی محفوظ جگہ رکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ مجھے کسی قسم کی کوئی چوٹ نہ لگے۔ جب میں بابا کا سمارٹ فون بن جاؤں گا تو میں اپنے ان کی توجہ کا خاص مرکز بن جاؤں گا۔ آفس جاتے ہوئے، آفس سے آتے ہوئے، گھر پر ہر جگہ بس میں ہی ان کی توجہ کا مرکز رہوں گا۔ بابا چاہے کتنے بھی تھکے ہوئے ہوں گے وہ مجھ پر غصہ نہیں کریں گے۔ اگر وہ کبھی مجھے گھر بھول بھی گئے تو مما کو فون کریں گے کہ ”میرا سمارٹ فون“ گھر رہ گیا ہے اسے سنبھال لینا پلیز۔

اے اللہ!
اب تو میں اگر ان کے کپڑے خراب کر دوں تو وہ غصہ کرتے ہیں لیکن جب میں ان کا سمارٹ فون بن جاؤں گا تو وہ مجھے صاف رکھنے کے لیے اپنے نئے اور صاف کپڑوں کا سہارا لیں گے لیکن انہیں غصہ نہیں آئے گا۔ ہر آن ان کی مجھ پر توجہ رہے گی، وہ مجھے نظرانداز نہیں کریں گے، مجھ پر ہاتھ پھیر کرا نہیں تسلی ہو گی، چاہے وہ خود بھوکے رہیں گے لیکن بیلنس سے میرا پیٹ ضرور بھرا رکھیں گے اور میرے بڑے بہن بھائی بھی مجھ سے لڑائی نہیں کریں گے بلکہ مما بابا کی منتیں کریں گے اور انتظار کریں گے کب میں ان کے ہاتھوں میں آتا ہوں۔

مما اور بابا اپنے دوستوں میں بیٹھے ہوں یا عید پر رشتہ داروں کا اکٹھ ہو، میں ان کے دل سے نہیں نکلوں گا، کھانا کھاتے ہوئے بھی میں ان کے ایک ہاتھ میں رہوں گا اور جب کھانا کھانے کے بعد گپ شپ کا دور چلے گا تو بھی وہ مجھ سے ہی کھیلتے رہیں گے، بس کبھی کبھی سر اٹھا کر ”ہوں؟ ہاں! ، کب؟ کیسے؟ کیا؟ اچھا، ٹھیک ہے!“ جیسے الفاظ منہ سے نکالیں گے اور پھر مجھ سے کھیلنے لگ جائیں گے۔ میں تنہائیوں میں بھی ان کے ساتھ رہوں اور محفلوں میں بھی، میں ان کی جلوتوں کا سب سے خاص بننا چاہتا ہوں اور ان کی خلوتوں کا امین بھی بننا چاہتا ہوں۔ وہ دن بھر مجھے سنبھال کر رکھیں گے اور رات کو سوتے ہوئے بھی خود سے الگ نہیں کریں گے۔ میری آواز سے نہ تو بابا کے آفس کے کام میں ہرج ہو گا اور نہ ہی مما کا سالن جلے گا بلکہ جونہی میری آواز ان کے کانوں میں پڑے گی بابا آفس کا کام چھوڑ کر مجھے اٹھا لیں گے اور مما سالن چھوڑ کر میری دوڑ پڑیں گی۔

اے میرے اللہ!
میں نے تجھ جیسے کریم اور سخی سے کچھ زیادہ تو نہیں مانگا۔ بس اتنا ہی مہنگا ہے کہ مجھے مما سمارٹ فون بنا دے! مجھے بابا کا سمارٹ فون بنا دے!
فقط۔
پاکستان کا ایک بچہ جو شاید ہر گھر میں رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *