زہر کا ٹیکا اور ہم ڈاکٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوپہر دو بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی پوری تمازت سے چمک رہا تھا۔ گرمی اور حبس سے برا حال تھا۔ میری ڈیوٹی میڈیکل ایمرجنسی میں تھی۔ ایمرجنسی میں داخل ہو کہ کرونا کے باعث سب سے پہلے حفاظتی لباس پہنا پھر چہرے پہ ڈبل ماسک اور حفاظتی عینک پہننے کے بعد سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا۔ شدید گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی سائڈ کے مریض جا کہ دیکھنے شروع کیے۔ دوسرے ہی بیڈ پر ایک بابا جی لیٹے ہوئے تھے جو کہ غنودگی کی حالت میں تھے ان کی تفصیل سے ہسٹری لینے اور معائنہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ پچھلے ایک سال سے بیمار ہیں دو دفعہ فالج کا اٹیک ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو مہینے سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور بستر تک ہی محدود ہیں۔ مسلسل بستر پر رہنے کی وجہ سے ان کی کمر پہ ایک زخم بھی بن چکا تھا۔ جو کہ اب انفیکٹ ہو چکا تھا۔ ابھی دو دن سے انھیں بخار بھی تھا اور وہ کھانا پینا بھی چھوڑ چکے تھے۔ ان کے ساتھ تین خواتین اور کچھ مرد بھی تھے۔ ان کا معائنہ کر کے چند ضروری ٹیسٹ کروا کہ انھیں دوائیں شروع کروا دیں۔

اس کے بعد میں نے باقی مریض دیکھنے شروع کیے۔ اس دوران ان کے ساتھ موجود لوگ ایک دو دفعہ ان کی بیماری سے متعلق پوچھنے آئے اور میں نے جس حد تک ممکن تھا انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ موجود ایک خاتون فارمیسی سے انجیکشن لے کے آئیں اور ہر انجیکشن کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس چیز کا ہے انھیں ہر انجیکشن کے بارے میں تفصیل سے بتایا مگر پھر بھی وہ کسی تذبذب کا شکار نظر آ رہی تھیں۔ ایمرجنسی میں رش بہت تھا میں باقی مریضوں میں مصروف ہو گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد وہی خاتون میرے پاس دوبارہ تشریف لائیں کہ میرے مریض کے جس ہاتھ پہ ڈرپ لگی ہے وہ کانپ رہا ہے۔ میں ان کے مریض کے پاس گئی معائنہ کیا تو ان کو جھٹکے لگ رہے تھے فوری طور پہ جھٹکے روکنے کی دوا لگوائی اور ان خاتون کو بتایا کہ چونکہ آپ کے مریض کو دو دفعہ فالج کا مسئلہ بھی ہو چکا ہے اور ابھی ان کی کمر پہ زخم بھی ہے جس کی وجہ سے انھیں جھٹکے لگ رہے ہیں وہ خاتون مجھے عجیب کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

وہ ان کی ڈرپ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگیں کہ یہ جو آپ نے ڈرپ لگوائی ہے یہ اس کی وجہ سے ہوا ہے ہم اپنا مریض گھر سے بالکل ٹھیک لائے تھے آپ نے ڈرپ لگا کے ان کو بیمار کر دیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا ماں جی جو مریض پچھلے دو مہینے سے بستر پہ ہے جس کی کمر پہ زخم بن چکے ہیں جن میں سے ریشہ نکل رہا ہے۔ کل سے بیہوشی کی حالات میں ہیں آپ کے خیال میں وہ مریض ٹھیک تھا؟ مگر وہ مجھے گھورتی رہیں ان کے خیال میں میں نے ان کے مریض کو زہر والا ٹیکہ یا ڈرپ لگا دی تھی جس کی وجہ سے ان کا ٹھیک ٹھاک مریض بیمار ہو گیا تھا۔

اس پل میں ان کی آنکھوں میں مجرم تھی۔ مجھے اپنا آپ اس لمحے مجرم لگا۔ مجھے اپنی اتنے سالوں کی محنت رائیگاں جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے پتہ نہیں کتنے سال میں نے انتھک محنت کی تھی کتنی ہی راتیں میں نے جاگ کے گزاری تھیں۔ کئی سالوں سے جب سے جاب شروع کی ہے کوئی تہوار ایسا نہیں گزارا جس پہ ڈیوٹی نہ کی ہو۔ ہر مہینے کئی راتیں ہسپتال میں ڈیوٹی پہ گزرتی تھیں مجھے خود سے کیے ہوئے تمام وعدے یاد آنے لگے، میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام لمحے گھومنے لگے جب مجھے لوگوں نے کہا کہ اس ملک میں کچھ نہیں رکھا یہ ملک چھوڑ جاؤ مگر میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا تھا کہ میں اس مٹی سے سے کیے ہوئے وعدہ کو نبھانا چاہتی ہوں۔

خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ مسیحائی کا شعبہ، یہ پیغمبروں کا شعبہ کیا میں نے اس لیے چنا تھا؟ اس عورت کہ چند الفاظ نے میری کئی سال کی محنت پہ ایک سوالیہ نشان بنا دیا تھا۔ اور آج کل ہسپتال آنے والے ہر مریض کا یہی خیال ہوتا ہے کہ ان کے مریض کو ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ دے کے مار دیں گے۔ اس وبا میں جبکہ دس روپے والا ماسک پچاس کا مل رہا ہے۔ وہ دوائیاں جو کرونا میں استعمال ہوتی ہیں وہ مارکیٹ سے غائب کردی جاتی ہیں اور مہنگے داموں بیچی جاتی ہیں۔

کرونا کے مریضوں میں toclizumab کا استعمال شروع ہوا تو جو انجیکشن بیس سے تیس ہزار میں دستیاب تھا وہ تین سے چار لاکھ کا کر دیا گیا۔ پلازما کو علاج کے لیے استعمال کرنا شروع کیا تو وہ پانچ سے چھ لاکھ میں ملنے لگا۔ مگر اس سب کے باوجود زہر کا ٹیکہ صرف ڈاکٹر لگا رہا ہے جو کہ اس تمام وبا میں کسی اضافی تنخواہ کے بغیر اپنی جان ہتھیلی پہ لے کہ کھڑا ہے۔ ان تمام حالات میں ڈاکٹروں کے استعمال کی چیزیں ماسک اور حفاظتی سوٹ تک مہنگے کر دیے گئے۔ ہر چیز کی قیمت آسمان پہ چلی گئی مگر برے صرف ڈاکٹرز ہیں جن میں سے ہر روز کوئی نہ کوئی اپنی جان کا نذرانہ دے رہا ہے۔

میں دل گرفتہ بھیگی پلکوں کے ساتھ بس یہ سوچ رہی تھی کہ میں نے سال اتنی محنت کس لیے کی۔ میں کیوں اپنی جان داؤ پہ لگا کہ اس بیماری میں یہاں کھڑی ہوں۔ میں پچھلے کئی مہینوں سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملی۔ یہ کس کی جنگ ہے؟ یہ کیسی جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں۔ کیا میرا جرم صرف اتنا ہے کہ مجھے اس مٹی سے محبت ہے؟ یا میرا جرم صرف یہ ہے کہ میں اس وبا کے دنوں میں اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کہ اس مٹی سے محبت اور وفاداری نبھا رہی رہوں؟ ہاں شاید یہی میرا جرم ہے اور اس جرم کی سزا تو مجھے ملنی چاہیے تھی۔
ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *