ننھے عیاد کی بے چارگی اور ہندوستان کی دھونس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانوں میں بنیادی خلل یہ ہے کہ جھوٹ کے فروغ کے لئے انسانی ہمدردی اور صلہ رحمی کا ناٹک کیا جائے تو حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔ گمان یہی رکھا جاتا ہے کہ چند لمحات کی خدا تری، انسان دوستی اور شفقت کے برتاؤ سے انسانوں کو دھوکہ دے کر پنہاں مفاد اور مقاصد کا حصول ممکن ہے۔ یہی سب دنیا کی بیشتر ریاستیں اور تاریخ میں شخصیات کرتی آئی ہیں۔ اسی مکر کا پرچار بدھ کے روز مقبوضہ کشمیر کے شہر سوپور میں تب دیکھنے کو ملا جب بھارتی اہلکاروں نے نہتے کشمیری شہری بشیر احمد پر گولیوں سے وار کیا۔

عیاد جہانگیر، تین سالہ بے یارو مددگار کشمیری نونہال جس کے نانا کو گاڑی سے نکال کر گولیاں سے مارا گیا، سی آر پی ایف نامی غاصب بھارتی فورس کی مجرموں کی گاڑی میں ہچکیاں لیتا، آنسوؤں سے جس کے گال تر تھے نانا کے قاتلوں کے ہاتھوں میں بسکٹوں اور چاکلیٹ کی آس میں سہلایا جا رہا تھا۔ جھوٹ، بے ایمانی اور چالبازی کا لبادہ اوڑھے ایک بھارتی اہلکار کی تصاویر گردش کروائی جا رہی ہیں کہ ایسا معلوم ہو کہ ننھے عیاد کو حریت پسندوں کے حملے سے بچایا جا رہا ہے۔ جبکہ عیاد نے نانا کے جنازے کے بعد بتا دیا کہ کیسے پولیس والے نے گولیوں کی بوچھاڑ کی یہاں تک کہ بڑے بابا مر گئے۔

میری ایک کشمیری سے اسی بارے گفتگو ہوئی جو کہتے ہیں کہ اکثر مجاہدین اور قابض فوج کے مابین جھڑپوں میں جب بھارتی فوج یا سی آر پی ایف کو منہ کی کھانا پڑے تو کشمیری کی نعش دکھانے کے لئے راہ چلتے کسی بھی کشمیری کو اپنی لاج رکھنے کے لئے قربان کر دیا جاتا ہے۔

صرف یہی نہیں، اکثر شکست کھائے بھارتی طیش میں آکر راہگیروں کو مار دیا کرتے ہیں۔ در حقیقت مجاہدین کے زمرے میں حریت پسند کشمیریوں کے قتل ڈالتے ان کے اپنے کردار پراگندہ اور بے ہانک چہرے عیاں ہو جاتے ہیں۔

بدھ کے روز کشمیری شہری بشیر احمد اپنے تین سالہ نواسے عیاد جہانگیر کے ہمراہ سرینگر سے سوپور کام سے آئے تھے جن کو شمالی سوپور میں ہندوستانی گولیوں نے مجاہدین سے جھڑپ ختم ہونے کے بعد نشانہ بنایا۔ انسپکٹر جنرل پولیس مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترجمان وجے کمار نے ایک اور کشمیری شہری کا قتل مجاہدین کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے قتل کو کراس فائرنگ قرار دیا۔ جبکہ شہید بشیر احمد گاڑی میں موجود تھے اور ان کی نعش سڑک پر پائی گئی۔ کراس فائر کے نتیجے میں ان کا جسد خاکی گاڑی میں ہونا چاہیے تھا نا کہ سڑک پر جو کہ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے بھارتی اہلکار اس پر کھڑے تھے۔

کسی حواس باختہ اور احمق بھارتی اہلکار نے حریت پسندوں کے خلاف ڈرامائی مقدمہ کھڑا کرنے کے واسطے روتے اور بلکتے عیاد کو شہید نانا کی نعش کے اوپر بٹھا کر تصاویر لینا شروع کر دیں تاکہ ایک معصوم بچے کی بے چارگی کو حریت پسندوں کے خلاف مہم میں استعمال کر کے بھارتی ناپاک عزائم کی بھینٹ چڑھایا جاسکے۔

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ وہی تصاویر قابض بھارت کے منہ پر تھوک بن کر گر رہی ہیں۔ دنیا نے کشمیر میں انہی تصاویر کے ذریعے ان کا مکروہ چہرہ دیکھ لیا ہے۔ یہی نہیں عیاد اور اس کے نانا کی تصاویر آزادی اور ہندوستان کی بربریت کا نشان بن گئی ہیں۔

امتیاز، نفرت اور جھوٹ کا وقار سربلند کرتا ہندوستانی میڈیا بھی زہر اگلتے باز نہیں آتا۔ ہندوستانی سپاہی کی وہ تصاویر گردش کر رہی ہیں جس میں روتے اداس عیاد کو اس کے نانا کے قاتل گود میں اٹھائے چومتے نظر آرہے ہیں۔

فریب اور مکاری ٹپکاتی تصاویر دنیا کو نظر آئیں یا نہ آئیں کشمیریوں کو اس بابت ادراک ہے کہ حقیقت کا کیا رنگ ہے۔ ریاست کے اہلکار نچی کھچی ساخت بچاتے، لاشوں پر سیاست اور مجبوروں کے الم سے ایسے ہی فائدے اٹھاتی نظر آتی ہیں۔ چین کے ہاتھوں گھٹنوں گرتے بھارت کی ابتری کے باوجود میڈیا زہر اگلنے، جھوٹ، دھونس سے باز نہیں آ رہا۔ انسان کی تنزلی کی ابتداء سیاہ کو سفید اور باطل کو حق گرداننے میں شروع ہو جاتی ہے جو بالخصوص بھارت میڈیا کا خاصا ہے۔

یہاں ایک اور پہلو غور طلب ہے، کچھ سالوں سے روایت پڑی ہے کہ کشمیریوں کے لئے جذبات رکھنا فکری اعتبار سے دقیانوسی تصور ہوتا ہے جس کی وجہ پاکستان میں ہوتے ریاستی جرائم سے دہائیوں تک آنکھ چرانا ہے۔ ان کو نظر انداز کرنا ہمارا کسی بھی دوسرے مظلوم محکوم قوم کے لئے جدوجہد کرنے کے عمل تلف کر دیتا ہے۔ مگر یہ جواز تلاشنا اور امید کرنا کہ کشمیر پر چپ سادھے رہیں کہ کشمیر پاکستانی ریاست کے قریں امور میں سے ہے سراسر بد لحاظی کے زمرے میں آتا ہے۔

اگر پاکستان کے روشن خیال، جدت پسند، روایت شکن لوگ اپنی ریاست اور سماج کی برائیوں، منافرت اور تشدد پر بے جھجک سوال اٹھاتے، تنقید در تنقید کرتے ہیں تو یہ امید مت رکھئے کہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم اور قابض بھارتی ریاست پر خاموش رہیں گے۔ حق اور باطل میں تفریق کا واحد امر یہی ہے کہ بحیثیت مجموعی ظلم کے خلاف کھڑا ہوا جائے چاہے سامنے کوئی بھی ہو۔

حق اور سچ کی راہ میں بھی ملی جانبداری کے روڑے اٹکیں گے تو ظالموں اور انسان دوستوں میں فرق مٹ جاتے ہیں۔ انسان دوستی میں پسند ناپسند کے نہ خطے شامل ہوا کرتے ہیں نہ ہی سیاسی تحریکیں۔ ہر محروم اور متاثرہ طبقے، قوم اور اقلیت کے لئے آواز اٹھانے میں تفریق اور منافرت کا برتنا انسان کو ان ہی میں شامل کرتا ہے جس کے خلاف جدوجہد شروع کی گئی ہو۔ اگر ہم اپنی ریاست، فوج اور میڈیا کو جھوٹ اور تشدد پر للکارتے ہیں تو اسی طرح دشمنوں کو بھی للکارتے رہیں گے۔

ہماری برمش ہو یا ہمارا عیاد، ظلم کو ظلم کی تعریف سے اس لئے نہیں حذف کیا جاسکتا کہ ظالم ہمارا اپنا تھا۔ آواز پہنچے یا نہ پہنچے، سرکشی کی آواز بلند ضرور کرنی چاہیے یہیں انسان کے زندہ ہونے کی آخری دلیل ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply