انسان کا ذہنی ارتقا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس وقت انسان بولنے اور سمجھنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ انسانی بدن کی ترقی جس میں مختلف اعضاء کی بڑھوتری کے علاوہ دیگر قوائے انسانی کا بیدار ہونا شامل ہے، اس کے ساتھ ہی ذہن بھی ترقی کرنا شروع کرتا ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ ابتدائی عمر میں ایک شیر خوار بچے کا ذہن ایک ایسی تختی کی مانند ہوتا ہے جس پر لکھے حروف روشن نہیں ہوتے جیسے کہ سفید روشنائی سے کسی سفید کاغذ پر لکھا گیا ہو۔

اس کے باوجود چند قوٰی ایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار بولنے سننے کھانے پینے اور حرکت کرنے جیسے عوامل میں ہورہا ہوتا ہے۔ خوراک کے ساتھ ہی ساتھ بچے میں موجود حواس کے ذریعے اس کے ذہن پر نقوش مرتب ہونا شروع ہوتے ہیں جن کا اظہار وہ اپنی فطری قوتوں کی مدد سے کرتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ لفظ کو سمجھنے اور الفاظ کو بطور علامت معنی میں تبدیل کرنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ذہن میں ایک انقلابی ترقی ہوتی ہے اور وہ تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے لگتا ہے۔

آپ نے چھوٹے بچوں کو بہت زیادہ سوال کرتے، خود ہی خود کہانیاں گھڑتے اور پنسل کاغذ سے مختلف شکلیں بنانے کا عمل دیکھا ہوگا یہ وہی مرحلہ ہے جب ذہن تخلیقی سرگرمی میں مبتلا ہوتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ محسوسات کے علاوہ جذبات یعنی غصہ خوشی اور غمی یا روٹھ جانے کا طریقہ بھی سیکھ رہا ہوتا ہے اور اس وقت چونکہ یہ جذبات اور خیالات خارجی قوت سے زیادہ داخلی ابھار سے پیدا ہو رہے ہوتے ہیں لہذا بچے کا رویہ یک لخت بدل جاتا ہے اور کوئی بھی حالت دائمی نہیں رہتی بلکہ چھٹ سے ہنسی اور پٹ رونا شروع ہوجاتا ہے۔

ابتدائی بچپن میں بچے کو مختلف اشیاء کے نام اور مختلف مظاہر کے عوامل کے بارے میں جو دلچسپی اور تجسس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی اس میں یہ وجدان بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ اپنے تجسس کی تکمیل کے لئے صرف اسی طریقہ کار کو اپناتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔ یعنی وہ کسی دوسرے سے سوال کرتا ہے اور جس پر اسے بھروسا رہے اس کے جواب کو سن کر قدرے اطمینان حاصل کر لیتا ہے جب تک کہ کوئی دوسرا جواب اس تک نہ پہنچے اور اس کو شک میں مبتلا نہ کر دے۔

اس عمل میں بچے کا ماحول سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسے کس طرح کی معلومات دی جا رہی ہے، اس کے سوالوں پر دوسروں کا کیا رویہ ہوتا ہے، کیا وہ ایک وقت میں دو مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کر رہا ہے، معلومات حاصل کرنے کے بعد وہ کس قسم کے رد عمل یا سرگرمی میں مبتلا ہوتا ہے وغیرہ۔ سیکھنے کے اس ابتدائی عمل کو نقل کرنے کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ذہن اپنے ماحول میں پہلے سے موجود علم یا معنی کو اپنے اندر جذب کر رہا ہوتا ہے۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور یہ مرحلہ لڑکپن کے آغاز کے قریب کا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ذہن اپنے جذب شدہ مواد میں ترتیب و تخریب کے عمل سے گزرنا شروع کر دیتا ہے۔ بہت سے سوالوں کے جواب اس کو مطمئن نہیں کر پاتے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ والدین یا دیگر افراد نے اس کو بچپن میں مختلف اشیاء کے بارے جو معلومات دی ہوتی ہیں ان میں تضادات ابھرنے لگتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ ایک ہی لفظ کا اطلاق بہت سی اشیاء اور مواقع پر کیا جا سکتا ہے۔

جن چیزوں کو وہ علیحدہ علیحدہ کر کے سمجھ رہا تھا اب ان میں کچھ مشترکات بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ ایسے نئے جذبات و احساسات سے متعارف ہوتا ہے جن پر کبھی اس نے غور نہیں کیا تھا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب وہ اپنے محدود ماحول کی محدود معلوماتی دنیا کے باہر قدم رکھتا ہے اور اسے ایک تازہ جہاں میسر آتا ہے۔ چونکہ تازگی کا احساس ایک پرکیف اور تجسس سے بھرپور ہوتا ہے اس لئے وہ اپنا زیادہ وقت، جسمانی یا ذہنی طور پر، اس نئی دنیا میں گزارنا چاہتا ہے۔

لیکن عین اسی وقت معاشرے میں موجود مختلف رواج، احکامات اور محدود وسائل اس کی اڑان میں مخل ہونے لگتے ہیں۔ اسے اپنے اندر موجود ایک ہیجان یا بے بسی کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ کبھی کبھار انتہائی اقدام کے ذریعے وہ اس کا براہ راست اظہار بھی کرتا ہے لیکن تربیت کرنے والے اس کو خوف اور لالچ کے مختلف مرکبات کے ذریعے تابع فرمان رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کشمکش میں اس کے اندر حریت یا آزادی کا ایک مضبوط احساس بیدار ہوتا ہے۔ جن افراد میں یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے وہ پھر بغاوت بھی کرتے ہیں اور اپنے فوری ماحول کو قید سمجھتے ہوئے فرار ہونے کی راہ تلاش کرتے ہیں۔ لیکن بہت سے افراد میں یہ احساس دیگر احساسات جیسے صبر و شکر اور اطاعت و ثواب وغیرہ کے غلبے میں دب کر رہ جاتا ہے۔ بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بغاوت کی یہ جبلت ذہن کے لاشعور میں جا کر بیٹھ جاتی ہے اور کچھ عرصے کے لئے وہ اپنا اظہار نہیں کرتی بلکہ روزمرہ کی زندگی میں سکون تلاش کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے یعنی ایک دیرپا اظہار کے لئے وقتی سکون میں خود کو مطمئن سمجھ لیتی ہے۔ لیکن اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی صورت زیادہ خطرناک نفسیاتی الجھنوں اور انتہائی اقدام پر منتج ہو سکتی ہے۔

مختلف احساسات اور کیفیات سے نبٹنے کے اس عمل کے دوران خارجی عوامل کا کردار بھی نمایاں ہے۔ کبھی تو یہ معاون بنتے ہیں اور کبھی مخالفت کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر اوقات معاشرے کے افراد اس عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف سامنے کی باتوں یا سطحی عوامل پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں لیکن نفسیاتی الجھن کسی بھی فرد کو نہیں چھوڑتی اور جلد یا بدیر وہ اس کا شکار ہوتے ہیں اور اس وقت انہیں اپنے آپ کو سمجھنے کا ہنر اور موقع دونوں میسر نہیں ہوتے۔

آپ نے بلوغت کی عمر میں ایسے بہت سے افراد کی تحریروں، گفتگو، تعلیمی رپورٹ، عمومی رویوں اور آج کل سوشل میڈیا پر ان الجھنوں کا شکار پایا ہوگا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں بھرپور توجہ اور نگہداشت نہیں ملی اور وہ اپنے اندرون کی کشمکش سے بے خبر ہیجانی کیفیات کا شکار رہتے ہیں۔ اور اگر معاشرے میں بد نظمی، شدت پسندی اور عدم برداشت کا غلبہ ہو تو پھر اس کا نفسیاتی رد عمل بھی اتنا ہی بھیانک ہوتا ہے۔ مسائل کی درست تشخیص کے بعد ان کا باقاعدہ حل ڈھونڈنے کی بجائے ایسے بچوں کو بیگانگی اور لاپرواہی جیسی غلاظت میں جھونک دیا جاتا ہے۔

ایسا ماحول نہیں پیدا کیا جاتا جس سے ان بچوں کی تربیت ممکن ہو سکے۔ بلکہ اکثر تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کبھی کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو کچھ حلقوں میں اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اپنے اردگرد کی بے سمت اور بے لگام صورتحال سے سیکھنے کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ جو ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہی دراصل ان اعمال کے ذمہ دار ہوتے ہیں جو یہ بچے سرانجام دیتے ہیں۔

اگر ان مسائل پر بات نہ ہو سکے اور تربیت کا مناسب ماحول میسر نہ ہو سکے تو پھر ان بچوں کی فطری نشوونما کا عمل ساکت ہوجاتا ہے۔ جسمانی لحاظ سے تو یہ بڑھوتری کرتے ہیں لیکن ذہنی لحاظ سے ان کی عمر میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ تعلیم و تربیت کا فقدان اور معاشرے کی طرف سے اطاعت و فرماں برداری کی خاطر ہونے والے سخت اقدام سے ان کے اندر جو سیکھنے کی حس باقی تھی وہ بھی لاشعور کے اندھے کنویں میں جا گرتی ہے اور یہ ایک ”عام“ فرد کی حیثیت سے روزمرہ کے افعال میں مشینی لباس اوڑھ لیتے ہیں جو کہ سرمایہ دارانہ سماج کا پسندیدہ ترین لباس ہے۔

ریاستوں کے جبر اور سماجوں کی فرسودہ روایات نے ایسے افراد کے فطری جواہر یعنی حریت فکر اور شعوری بیداری کے عمل کو شکست و ریخت کا شکار کر دیا ہے اور دن بدن یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بچپن کی سادگی اور سیکھنے کی قوت نے حالات کی پیچیدگی اور اندھی تقلید کا روپ دھار لیا ہے۔ اس خرابے میں اگر کسی کی آنکھ کھل جاتی ہے تو انسان دشمن تمام عناصر فوری حرکت میں آ جاتے ہیں اور ایسے شخص کو ابنارمل اور گمراہ جیسے القابات کی نذر کر دیتے ہیں۔

لیکن انسان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خارجی عوامل ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور تاریخ کا دھارا کبھی ایک سمت نہیں چلتا اور نفسیاتی طور پر انسان کی فطرت میں موجود جواہر کو ایک لمبے عرصے تک نہیں دبایا جا سکتا۔ جس طرح ایک فرد اپنے اندر شعور کی بیداری سے بغاوت کرتا ہے ایسے ہی افراد کا ایک گروہ یا سماج بھی بغاوت کرتا ہے اور اپنے لئے ایسا ماحول پیدا کرنے کو بھرپور کوشش کرتا ہے جس میں وہ اپنی آزادی فکر کے ساتھ رہ سکے۔ امید رکھنی چاہیے کہ ایسا سماج ہی انسان کا مستقبل ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *