دارالاسلام میں مندر، مولوی اور آئین پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


دنیا بھر میں نیوزی لینڈ سے لے کر امریکہ تک مساجد کا ایک جال ہے، دنیا کے ہر ”کافر“ اور ”مشرک“ ملک میں آپ کو مسجد مل جائے گی، بلکہ یوں کہوں کہ جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہاں پر تو ہر فرقے کی مسجد مل جائے گی، لیکن اپنے ملک میں ہندوؤں کے مندر کو لے کر اتنا شورو غوغا ہے، دارالحرب اور دارالسلام کے مباحث جاری ہیں، ہم اب بھی اسی دور میں جینا چاہتے ہیں جہاں لونڈیاں اور غلام ہوا کرتے تھے، ہم آج بھی اسی قدیم فقہ میں اپنے حل تلاش کرتے ہیں۔ جدید دنیا کے حساب سے اپنے طرز فکر میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں، اگر ”خدانخواستہ“ آج دنیا پر ہماری حکومت ہوتی یا غلبہ ہوتا تو اسی طرح لونڈیوں اور غلاموں کی منڈیاں جگہ جگہ سجی ہوتیں، لونڈیوں کی منڈی کے مناظر تو ہم حالیہ تاریخ میں شام اور عراق میں دیکھ چکے ہیں۔

کیا یہ قول و فعل کا تضاد نہیں کہ خود تو دنیا کے ہر کونے میں، بھلے دارالکفر ہے یا دارالسلام، ہم نے مساجد بنا رکھی ہیں، لیکن اپنے ملک میں ہم اقلیتوں کو اپنی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت دینے میں چیں بجبیں ہیں، ہمارے اسلام کو ٹھیس پہنچتی ہے، بقول مولوی پاکستان دارالسلام ہے اس لیے یہاں پر مندر نہیں بن سکتا، لیکن دارالکفر میں مسجد بنانا ہمارا پیدائشی حق ہے۔ جو فقہ آج سے بارہ تیرہ سو سال پہلے اس زمانے میں ان حالات کو مد نظر رکھ کر مرتب کی گئی تھی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسلام کے آفاقی اصولوں کو اساس مان کر اس دور کے حساب سے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھتے ہوئے اس فقہ پر نظر ثانی کی جاتی، لیکن ایسی بات کرنے اور کہنے والے کو متجدد اور جدیدیت پسند کہہ کر ایک طرف پھینک دیا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں تو کافر اور لادین کا فتوی بھی لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی فرقہ اپنے اسلاف کے خیالات کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں، اگر کسی کے سلف نے کہہ دیا ہے کہ زمین نہیں گھومتی تو اگر اس کو خلا سے جا کر بھی زمین کے گھومنے کا مشاہدہ کروا دیا جائے تو وہ پھر بھی نہیں مانے گا کیوں کہ اس کے بزرگوں نے ایسا کہا ہوا ہے، جو اعلی حضرت نے کہہ دیا وہ ہی حرف آخر ہے۔

تقلید ایک ایسا سم قاتل ہے جس نے فکر و عقل کے دروازے ہم پر بند کر دیے ہیں کیونکہ جو ہمارے امام، مجتہد نے کہہ دیا اس پر سوال اٹھانا، اس سے اختلاف کرنا انتہائی درجے کا گناہ ہے، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ تقلید کو جان بوجھ کر لازم کیا گیا ہے تاکہ اپنی بادشاہت اور حکومت قائم رکھی جا سکے۔

پاکستانی معاشرہ اپنی اساس میں ظواہر اور عبادات کی حد تک مذہبی معاشرہ ہے، لیکن اگر اس کا کچھ عملی مظاہرہ کرنا پڑ جائے جس سے ہمارے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہو تو پھر نہ ہم کو مذہب یاد آتا ہے اور نہ ہم مذہبی رہتے ہیں، مثال کے طور پر اگر دوائیوں میں ملاوٹ کرنی ہو تو کہاں کا مذہب، اگر دودھ میں پانی ملانا ہو تو کیسا مذہب، اگر کم تولنا ہو تو کون سا مذہب، لیکن اگر کسی حسین، خوب صورت کم عمر ہندو لڑکی کو مسلمان کرنا ہو تو ہم سب سے آگے، اگر کسی احمدی کی مسجد گرانی ہو تو ہم سا کوئی سورما نہیں اور اگر مندر بنانے کی بات ہو تو ہم مرنے مارنے پر تیار۔

پاکستانی معاشرے میں منبر ایک طاقت ہے بلکہ یوں کہوں کہ سب سے بڑی طاقت منبر ہے اور بدقسمتی سے یہ ہم نے ان لوگوں کے حوالے کر دیا ہے جو کہ معاشرے کا ایک نظر انداز، کم پڑھا لکھا اور قرون اولی میں زندہ رہنے والا طبقہ ہے، اگر ہم اپنے معاشرے میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں منبر کو اپنے بہترین، پڑھے لکھے اور ذہین و فطین لوگوں کے حوالے کرنا ہوگا کیونکہ ایک راہب، ایک پادری، ایک مولوی جتنے لوگوں کو کنٹرول کر سکتا ہے، سو سپاہی بھی مل کر اتنے لوگوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔

اس لیے اگر قوم کی ترقی اور ذہنی بلوغت مطلوب ہے تو منبر کو ان زمانہ قدیم میں بسنے والے ملاؤں کے چنگل سے آزاد کروانا ہوگا، اگر قوم کی تربیت ان جیسے مولویوں کے ہاتھ میں رہی جن کی فکر چار شادیوں، لونڈیوں، بہتر حوروں، قنوت اور قوام، اور ہر چیز کے پیچھے یہودی سازش کے تانے بانے تلاش کرنے میں صرف ہو جاتی ہے تو معاشرہ اور قوم ایسے ہی رہیں گے جو کسی بھی آفت، مصیبت کو یہودی اور امریکی سازش کہہ کر حوروں اور چار بیویوں کی تلاش میں ان مولویوں کے آستانے پر ماتھا رگڑتے رہیں گے، اور معاشرے میں اسی طرح کے مباحث ہر کچھ دن بعد سر اٹھاتے رہیں گے کہ دارالسلام میں مندر یا گرجا یا سیناگوگ بنانا جائز ہے یا ناجائز۔

دین میں دینی علم اور دنیاوی علم کی کوئی تفریق نہیں، یہ تفریق جان بوجھ کر پیدا کی گئی ہے تاکہ منبر پر اپنے قبضے کو تخفظ دیا جا سکے۔ اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں دین اور دنیاوی علوم کی کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔ وہ شخص عالم ہو ہی نہیں سکتا جس کو حالیہ مروجہ علوم کے بارے میں کوئی سدھ بدھ نہ ہو۔

جتنا یہ ملک کسی مسلمان کا ہے اتنا ہی کسی ہندو، سکھ، اور عیسائی کا ہے، جس طرح کسی مسلمان کو اپنے مذہب کے مطابق اس ملک میں زندگی گزارنے کا حق ہے اپنی عبادات تعمیر کرنے کی اجازت ہے، اپنے تہوار منانے کی آزادی ہے بالکل اسی طرح کسی بھی مذہبی اقلیت کو اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرنے اور اپنی ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور آئین پاکستان اس کی پوری ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان کے تمام شہریوں کے بلاتفریق مذہب، رنگ و نسل حقوق برابر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply