علی سفیان آفاقی کی کتاب “فلمی الف لیلیٰ”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ہی مجھ کو فلم سے جنون کی حد تکا لگاؤ تھا، نا صرف فلم دیکھنا بلکہ فلم کے بارے پڑھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، اسی لیے فیملی میگزین یا اخبار جہاں اگر پڑھتا تو شوبز والے سیکشن سے ہی شروعات کرتا (اکثر وہیں تک ہی محدود رہتا ) ۔ یہ2012 کی بات ہے جب پہلی دفعہ میں نے فمیلی میگزین میں علی سفیان آفاقی کی ”فلمی الف لیلی“ کے نام سے آپ بیتی پڑھی تو اسی میں ہی کھو گیا۔ اس میں نا صرف فلم بلکہ فلم والوں کے بارے میں بھی پڑھنے کو ملتا تھا، سلور سکرین پر رنگ جمانے والے فنکاروں کے حال احوال، پردے پر دکھنے والے ویلن کے خوں خوار چہرے کے پیچھے کی معصومیت، اور معصوم سے چہروں کے پیچھے چھپی رعونت، رومانس سے لتھڑے نغموں کے لفظوں میں پنہاں ان کے لکھنے والوں کے فاقوں اور کسمپرسی کی داستان، آج کے ”شہر نا پرساں“ کی طلسم ہوشربا داستانیں، بلیک اینڈ وائٹ دور کی فلموں کے فنکاروں کے رنگین شب وروز، پاکستان فلمی صنعت کا چیتھڑوں سے ریشم و کمخواب تک کا سفر اور پھر سے پستی کی طرف قدم، فلمی دنیا کے آسمان پر کبھی چمکنے والوں ستاروں کا ٹوٹ کر رات کی تاریکی میں گم ہونے والوں کا فسانہ، اس کے علاوہ پرانے لیکن صاف و شفاف شہر لاہور، اس وقت کی مشہور و معروف ادبی شخصیات کے تذکروں سے لبریز یہ کتاب اپنی نوعیت کی انوکھی کتاب ہے۔

کافی حد تک عام فہم اور سادہ زبان استعمال کی گئی ہے، مواد کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پچاس کی دہائی سے لے کر نوے کی دہائی تک کی فلمی دنیا اور ادبی و صحافتی حلقوں کے بارے میں ایک ضخیم مواد پڑھنے کو ملتا ہے، چونکہ وہ خود کم و بیش تیس سال فلمی صنعت کے ساتھ منسلک رہے تو فلمی صنعت کے سنہری دور اور خاص طور سنہری دور کے اختتام کے بھی وہ چشم دید گواہ ہیں۔

اس سب کے باوجود ان کی کتاب میں کئی ایک خامیاں بھی ہیں، پہلی بات ان کا انداز تحریر بہت سست ہے، وہ ایک قاری کی ذہنی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا، ایک ہی بات بار بار دہرائی گئی ہے، اور بہت ہی غیر ضروری تفاصیل تحریر پر جمود طاری کر دیتی ہیں جس سے قاری کا ذہنی بہاؤ ٹوٹ جاتا ہے، سادہ زبان ہونے کے باوجود ان کا انداز بیان بہت ہی پیچدار ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی خراش زدہ فلم چل رہی ہو، اٹک اٹک کر، وہ جب ایک واقعہ شروع کرتے ہیں تو اس میں ذکر ہونے والے تمام کرداروں اور چیزوں کی تفصیل میں الجھ جاتے ہیں، جس سے اصل واقعہ سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور ذہن میں ایک گانٹھ سی بندھ جاتی ہے۔

دوسری جو بڑی خامی مجھے نظر آئی جو بعض دفعہ چڑچڑاہٹ کا باعث بھی بنتی ہے وہ ان کا بار بار ابتدال کرنا، یعنی ایک واقعہ کو ادھورا چھوڑ کر دوسرے واقعہ پر چھلانگ لگا جانا، اصل میں اس کا جواب وہ خود بھی دیتے ہیں کہ چونکہ اس کتاب کا نام فلمی الف لیلی ہے تو اصل الف لیلیٰ کی مانند اس میں بھی واقعات سے واقعات نکلتے ہے، تو پھر چاہیے تو یہ تھا کہ ایک داستان کے مکمل ہونے کے بعد دوسری شروع ہوتی، لیکن یہاں تو ایک داستان کو بیچ میں چھوڑ کر دوسری شروع کر دی جاتی ہے۔

ایک اور جو خرابی اس کتاب میں ہے وہ واقعات کی ترتیب سے ہے، ترتیب میں زمانے کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا، اگر ایک واقعہ 1956 کا ہے تو اگلا 1966 کا ہے اور اس سے اگلا پھر 1960 کا ہے، کچھ صفحوں میں اگر وہ فلمی صنعت کے شروعاتی دن بیان کر رہے ہیں تو اگلے صفحوں میں آپ کو اس کے عروج کی داستانیں ملیں گی، جب کہ ایک آپ بیتی میں عام طور پر ایسا نہیں ہوتا، دوسرا یہ کہ وہ لوگ جو اس کتاب کو صرف فلمی دنیا کی ایک طرح کی تاریخ کے طور پر پڑھتے ہیں ان کے لیے یہ عمل خاصا ذہنی الجھاؤ کا باعث بنتا ہے۔

آج جب ملک میں فلم بحال ہو رہی ہے (چاہے سست رفتار میں ) تو یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستانی فلم کے ابتدائی دنوں کو پڑھا جائے تاکہ ہمارے سامنے ایک نمونہ ہو کہ چند جلے ہوئے سٹوڈیوز اور گنتی کے فنکاروں سے لے کر ساٹھ اور ستر کی دہائی کے سنہری دور تک کا سفر کیسے مکمل ہوا، سب سے بڑھ کر وہ کیا اسباب تھے جن سے وہ سنہری دور قصہ پارینہ بن گیا اور ایک شاندار صنعت زمین بوس ہو گئی، کیوں کہ حال کے تناظر میں ماضی مستقبل کے لیے ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اوپر بیان کردہ کمزوریوں کے باوجود ”فلمی الف لیلیٰ“ فلمی محقیقین کے لیے حقائق کا ایک گراں قدر ذریعہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *