نسلی تعصب پسندی میں خواتین کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نسلی تعصب پسندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی، غیر آئینی اور سماجی طور پر برا اور تباہ کن عمل ہے۔ تاہم، اکیسویں صدی میں، نسلی امتیازی سلوک کی تمام اقسام کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن میں شامل انسانی حقوق کے معیارات اور ان کی حفاظت کے لئے امریکہ کی ذمہ داری کے باوجود، نسل پرستی کی وجہ سے رنگدار لوگوں (غیر سفید فام) کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے وفاقی، ریاست اور مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے ارکان، افریقی امریکی، ایشیائی، لاطینی، جنوبی ایشین، عرب اور مسلم کمیونٹیز کے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

نائن الیون کے بعد، دوسرے تعصبات کے علاوہ، خاص طور پر مسلم برادریوں کو امریکی سرحدیں عبور کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے اعداد و شمار غلط طور پر صرف ان کی قومیت یا ملکی وابستگی کی وجہ سے ان انتہا پسندوں کے ساتھ مل رہے تھے جن کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا، یہاں تک کہ بسا اوقات انہیں ہوائی جہازوں سے اتارا جاتا، جلاوطن کیا جاتا یا ان کو (تشدد و گالم گلوچ کا ) نشانہ بنایا جاتا تھا۔ طویل پولیس تفتیش، نظربندی یا تشدد کا نشانہ بنانا، خاص طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو، جو امریکہ میں مقیم ہیں، ”پاکی“ جیسے نام دیے گئے تھے اور امریکی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ان کے بچوں کو سفید فام آبادی کے ذریعہ تعصب اور نا انصافیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکہ میں ملک بھر سے حاصل کردہ اعداد و شمار اور ان سے متعلق معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غیر قانونی سرگرمی کے قابل شناخت ثبوتوں کے بجائے مخصوص شناختی بنیادوں پر مبنی خصوصیات کے حامل افراد کو تفتیش، روکنے، جامعہ تلاشی لینے یا دوران تلاش نسلی اقلیتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوتا رہا ہے۔ کام کرتے، گاڑی چلاتے، خریداری کرتے، دعا مانگتے، سفر کرتے اور سڑک پر کھڑے ہوئے متاثرین نسلی یا فرقہ ورانہ طور پر تعصب کا شکار رہتے ہیں۔ پولیس بے رحمی کے ساتھ سیاہ فام لوگوں کو قتل اور ان کے ساتھ سفاکانہ سلوک کر رہی ہے۔

مینیپولس میں پولیس افسر ڈیریک چووین کے ہاتھوں جارج فلائڈ کی ہلاکت کے بعد 2020 میں جارج فلائیڈ عالمی مظاہروں کے دوران ”بلیک لائفز میٹر“ (بی ایل ایم) کے بینر تلے حالیہ مظاہروں نے قومی شہ سرخیاں بنائیں اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ ڈیریک چووین پر آخر کار دوسری درجہ کے قتل کا الزام عائد کیا گیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر چلائی گئی جس میں چووین کو فلائیڈ کی گردن کو تقریباً نو منٹ تک گھٹنے سے دبائے ہوئے دکھایا گیا تھا جبکہ فلائیڈ نے اپنی زندگی کی التجا کرتے ہوئے کہا، ”میں سانس نہیں لے سکتا“ دیگر تین افسران پر دوسرے درجہ کے قتل کی معاونت کرنے اور اس پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

2013 میں شروع ہونے والی یہ تحریک جو، فروری 2012 میں افریقی نژاد امریکی نوعمر ٹریوون مارٹن کی فائرنگ سے موت کے الزام میں جارج زیمرمن کی بریت کے بعد سوشل میڈیا پر # بلیک لائیوز میٹر کے ہیش ٹیگ کے استعمال کے ذریعے شروع ہوئی، آنے والے سالوں میں متعدد افریقی امریکیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کے لئے قومی سطح پر پہچان بن گئی۔ پولیس کی کارروائیوں کے ذریعے ہلاک ہونے والوں میں افریقی امریکی، جن میں ڈونٹر ہیملٹن، ایرک گارنر، جان کر فورڈ سوم، مائیکل براؤن، ایجل فورڈ، لاکن میکڈونلڈ، آکائی گورلی، تمیر رائس، انٹونیو مارٹن، اور جیریم ریڈ سمیت دیگر شامل ہیں۔ تیمر رائس، ایک 12 سالہ افریقی نژاد امریکی لڑکے کو کلیو لینڈ پولیس افسر نے قتل کر دیا۔ نیو یارک شہر میں ایرک گارنر کی موت، نیو یارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کے ہاتھوں دوران گرفتاری ممنوعہ طریقے سے گردن کے گرد بازو کی سخت گرفت کی وجہ سے ہوئی۔

نعرے اور نشانات جیسے، ”اپنے نیلی وردی والے بھائی سے کہو، گولی نہ چلانا“ ۔ ”جب قاتل بیج پہنے ہوئے ہو تو آپ کس کو اپنی مدد کے لیے بلائیں؟“ اور ”انصاف برائے جارج فلائیڈ“ ۔ یہاں دبنگ آوازوں میں، ”پولیس کو ڈی فنڈ کرو“ ، ایک نعرہ جس میں پولیس کے خاتمے سے لے کر پولیس اور جیلوں سے سرمایہ کاری نکالنے اور مختلف توضیحات کے ساتھ رنگدار برادریوں کے لئے معاشرتی خدمات میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لئے کہا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں انتظامیاؤں نے اعتراف کیا ہے کہ نسلی تعصب غیر آئینی، سماجی طور پر خراب اور تباہ کن ہے، پھر بھی یہ عمل بلا روک ٹوک جاری ہے۔

ریاستہائے متحدہ میں مقیم اور درس وتدریس سے وابستہ ایک پاکستانی، اور امریکی مسلم ملٹی فیتھ ایمپاورمنٹ کونسل (ایم ویک) کی صدر انیلہ علی کو نائن الیون کے بعد نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑا جب وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ طیارے سے اتار دی گئیں۔ تو اس موقع پر کوئی منفی کارروائی کرنے کے بجائے، انہوں نے اس واقعہ کو اٹھایا اور مختلف ممالک سے آنے والے ہزاروں افراد کو درپیش ان پریشانیوں کا تخلیقی اور مثبت حل تلاش کیا۔

انہوں نے ایشین امریکن لا کاکس سے رجوع کیا جس نے انہیں نیویارک یونیورسٹی کے اسکول آف لا سے رابطہ کروایا۔ انہوں نے ایک اردنی امریکی کے ساتھ شراکت کے ذریعے اپنے ذاتی نسلی تعصب پر مبنی واقعات پر ایک دستاویزی فلم بنائی۔ اس فلم اور اس کے ساتھ کی جانے والی تحریک نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کو ٹرپ پروگرام تیار کرنے پر مجبور کیا جس نے بار بار سفر کرنے والے مسافروں کو غلط اسکریننگ میچ سے بچانے کے لئے ان کو فلائٹ ریزرویشنس کے ساتھ منسلکہ ریڈریس نمبر حاصل کرنے کی اجازت دی۔ بعد میں، لاکھوں افراد نے اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا۔

ان کے مطابق، نسلی، مذہبی، سیاسی اور ثقافتی اختلافات اور یکجہتی اور معاشرتی یکجہتی کے زیادہ سے زیادہ احساس کو پیدا کرنے اور تفریق کو دور کرنے کے لئے بات چیت کے ذریعے نسل پرستی، تعصب یا نفرت کو دور کیا جاسکتا ہے۔ ”یہ اختلافات فطری یا حقائق پر مبنی نہیں بلکہ یہ سماجی طور پر تشکیل پاتے ہیں اور بحیثیت سماج، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کون سے اختلافات حقیقتاً اہم ہیں۔“

انیلا کی کہانی اور ان کی سرگرمی سے یہ بات واضح ہے کہ خواتین، امن قائم کرنے اور نسلی تعصب کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ تصور امریکی معاشرے اور سیاست میں تیزی سے تحریک پا رہا ہے۔ حال ہی میں، ایک ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے، کانگریس کے کا کس کی ایک ممبر اور پاکستان نواز اور مسلم نواز کانگریسی خاتون شیلا جیکسن لی نے کہا کہ خواتین قوم کی مسیحا ہیں اور اب پہلے سے کہیں زیادہ امریکہ کو تمام پس منظر کی خواتین کی قیادت اور طاقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ امن کو فروغ دیں اور نسلی تعصب کو ختم کریں۔ مینیپولیس میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہی یہ ہوا کہ منظم نسل پرستی نے اپنا بدصورت سر اٹھایا ہے لیکن مسلمانوں پر پابندی اور بدنامی، تارکین وطن پر حملہ، مسلم برادری کے ساتھ دقیانوسی سلوک جیسے تمام تناظر میں ہم اس نسل پرستی کا سامنا کر رہے ہیں۔

شیلا نے تمام خواتین سے کہا کہ وہ اپنے عقیدے اور پس منظر سے قطع نظر اس با ت کا مطالبہ کریں کہ قانون نافذ کرنے والوں کو جنگ جو (کسی بھی برادری کے خلاف) کے بجائے سرپرستوں کی حیثیت اختیار کرنا چاہیے۔ صرف اسی طریقے سے بہتر تبدیلیوں کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ ”ہمیں مسلم پابندی، تارکین وطن کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف اور DACA طلبا کو شہریت تک رسائی دے کر مستقل حیثیت دینے (سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو مؤخر کر دیا ہے ) کے لئے اجتماعی طور پر کھڑے ہونا پڑے گا، تاکہ منظم نسل پرستی کا خاتمہ کیا جاسکے۔“

قوم کے زخم بھرنے میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے، لیکن اس کا آغاز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہنگامی صورتحال میں کام کرنے والوں کی جانب سے متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقاتوں اور افریقی نژاد امریکی، مسلم، لاطینی یا غریب طبقہ کے محلوں میں بھی جاکر ان سے اظہار یکجہتی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ شیلا نے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ ایچ آر 7120۔ جارج فلائیڈ جسٹس اینڈ پولیسنگ ایکٹ۔ کی بھر پور حمایت اور وکالت کریں۔ شیلا کو اس بات پر فخر ہے کہ انھوں نے اس پہلے بل کو جارج فلائیڈ کے نام سے موسوم کرنے اور یہ ترمیم کروانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔

”آپ صرف خواتین ہی نہیں ہیں بلکہ مائیں، بہنیں، بیویاں اور نگران اور نگہبان ہیں۔ آپ اپنے قانون نافذ کرنے والوں سے ملاقات کریں اور ان کو سمجھائیں کہ یہ محض وفاقی قوانین ہی نہیں ہیں جو ان کے طرز عمل کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ آپ ان کے دلوں کو بھی تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔“

شیلا کے خیالات کی توثیق ایل اے پی ڈی کے سابق ڈپٹی چیف مائک ڈاؤننگ نے کی جو سمجھتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ کسی بھی قوم کا سلوک اس کے کامیاب کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو با اختیار بنانے، معاشرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے، اور کمیونٹیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین اعتماد پیدا کرنے میں مدد کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ پولیس کو قانون نافذ کرنے کا اختیار لوگوں کی طرف سے ملتا ہے۔ اگر لوگوں کا ایک خفیف طبقہ قانون کے نفاذ کے جواز پر یقین نہیں رکھتا ہے تو، یہ ایک مسئلہ ہے۔

ڈاؤننگ نسل پرستی، امتیازی سلوک، تعصب پسندی کو ملک، معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک کمزوری قرار دیتے ہیں۔ معاشرے میں واضح اور مبہم دونوں طرح کے تعصبات ہیں۔ مثال کے طور پر، قانون نافذ کرنے والے ارکان عوامی خدمت گزار ہوں جو اقدار کو متحرک، منظم رکھیں، ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی حفاظت کریں اور معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رکھیں۔ تاہم، بہت ساری اصلاحات کے باوجود، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کا ڈی این اے اور کردار تبدیل نہیں ہوا ہے۔

قومی، علاقائی یا مقامی سطح پر مستقل تربیت اور مضبوط سیاسی قیادت کا اثر اس بات پر پڑے گا کہ واضح اور مبہم تعصب کے خیال کو کس طرح ظاہر کیا جاتا ہے۔ واضح تعصب کو روکا جاسکتا ہے لیکن مبہم تعصب اور فیصلہ سازی کو کبھی آپس میں متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نسل پرستی، نفرت انگیزی، تعصب کے کسی بھی معاملے کو قتل عام کے معاملات کی طرح برتنا جانا چاہیے، اور بعد میں اس کی جڑیں تلاش کر کے، حل ڈھونڈنے اور اس کے بعد ان کی تربیت اور روک تھام کرنا چاہیے تا کہ بہتر مستقبل کی طرف بڑھا جاسکے۔ وہ اس بات کے بھی مخالف ہیں کہ ہتھیاروں کو احتجاج یا مظاہرے یا پریڈ میں استعمال کیا جائے اس کے بجائے ان کو صرف برادریوں کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔

سان ڈیاگو ہاربر پولیس کے چیف، مارک اسٹین بروک نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کیا کہ بہت سے نفرت انگیز اور پرتشدد جرائم مرد حضرات ہی کرتے ہیں۔ بعض اوقات، نوجوان مرد غلط انداز میں سوچتے ہیں۔ خاتون کی سربراہی اس مسئلے کا حل ہے کیونکہ خواتین جوانوں کی زندگی کو محض ایک لفظ یا نظر کے ذریعہ تبدیل کر سکتی ہیں۔

بروک نے ویبینار کے سامعین کو بتایا کہ سان ڈیاگو کاؤنٹی میں، 18 پولیس محکموں نے مل کر کیروٹائڈ، جسے عام طور پر ”چوک ہولڈ“ کہا جاتا ہے، پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے یہ طریقہ کار نئی کمیونیٹیز سے رابطہ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ وہ ڈی اسکیلیشن ٹریننگ، بین الثقافتی مواصلات، تنوع، موروثی تعصب، وغیرہ پر تربیت پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے افسران کو خصوصی طور پر اس موقع پر مداخلت کاری کی تربیت دی گئی ہے تاکہ جب کوئی اور افسر دانستہ یا نا دانستہ ہماری کسی بھی پالیسی کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اس کو فوراً روکا جائے اور اس کی فوری رپورٹ بھی کی جائے۔

شیلی مور کر جاکک، نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن (NEA) کی ایگزیکٹو افسر اور ایک استاد ہیں ان کا خیال ہے کہ نسل پرستی کے بارے میں لوگوں کو ارادتاً بات کرنا چاہیے۔ اوائل بچپن کے کچھ معلمین یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ بچے ان کے پاس پہلے ہی سے موجود نسلی تعصب کے ساتھ آتے ہیں مگر نسل پرستی پر بات کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ ”تبدیلی لانے کے لئے، ہمیں رنگدار طالب علموں کے ساتھ نسل کے بارے میں سنجیدہ اور واضح گفتگو کرنا ہوگی کیونکہ ہم نے تاریخی طور پر ان کو مایوس کیا۔“ وہ ہر شہری کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ مختلف برادریوں کے لوگوں سے بات چیت کریں اور ان کی اقدار، کھانے کی عادات اور ثقافتوں میں دلچسپی لیں۔

انسداد ہتک عزت لیگ (ADL) کے ریجنل ڈائریکٹر ربی پیٹر لیوی ٹھیک کہتے ہیں کہ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر متعصب نہیں ہوتا ہے۔ معاشرے میں کتابوں، فلموں یا غور و فکر کے ذریعہ تعصب واضح طور پر نہیں بلکہ مبہم طور پر سیکھا جاتا ہے۔ تعصب عالمگیر ہے اور ہم سب اس میں مبتلا ہیں لیکن ہم لوگوں کو صنف، خواتین اور مردوں کے کردار، نسل، مذہب پر مبنی غیر صحت بخش تعصب کے بارے میں تعلیم نہیں دیتے ہیں۔ پالیسی کے معاملے میں، لیوی کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا جارج فلائیڈ کے رنگ اور اس کی نسل سے اس کے خلاف پولیس فورس کے استعمال کا کوئی جواز تھا کیونکہ یہ صرف ایک برا پولیس اہلکار ہی نہیں تھا جس نے یہ کیا، اس میں تین دیگر افراد بھی تھے جنہوں نے دیکھا اور کچھ نہیں کیا۔

اس سوال کی جڑیں نہ صرف قانون نافذ کرنے والے کلچر میں بلکہ ہمارے اسکولوں، بورڈ رومز، بیڈ رومز اور معاشرے میں بھی پائی جاتی ہیں جو لوگوں کو اپنے گروہوں کی مدد کرنے سے لاتعلق بناتے ہیں۔ ہمیں پالیسی بناتے ہوئے نسلی انصاف، رہائشی انصاف، معاشی انصاف، تعلیمی انصاف جیسے انتظامی معاملات کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

لیوی نسلی تعصب پسندی سے نمٹنے کے لئے متعدد طریقہ عمل کا مشورہ دیتے ہے۔ بڑے پیمانے پر ہر وقت مستقل نگرانی اور سب کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں جوابدہی کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ کووڈ 19 وبائی بیماری نے امریکی معاشرے کی بہت ساری کمزوریاں واضح کردی ہیں۔ کچھ کرنے اور نہ کرنے کے درمیان ایک بہت بڑا خلا ہے، جس کا نہ صرف طبقات سے بلکہ نسل کے ساتھ بھی بہت گہرا تعلق ہے۔ منظم نسل پرستی، مائکرو جارحیت، مضمر تعصب جیسے الفاظ ہماری زبان کی نئی اصطلاحیں ہو سکتی ہے لیکن ہم سب کو اپنی برادریوں پر ان کے اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

درحقیقت ہمیں کھانے کی میز پر کسی بھی نسلی تعصب یا متعصبانہ لطیفے، یا آن لائن یا ماس میڈیا پر نظر آنے والے نسلی تبصرے سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے لئے بہت سی کوششوں کی ضرورت ہے، پھر بھی، ہماری اگلی نسل کے لئے بہتر دنیا کی تشکیل کے لئے، ہمیں اس تلخ گولی کو اسی صورت نگلنا پڑے گا تب ہی ہم اپنے تلخ ماضی سے چھٹکارا پا سکیں گے اور ایک ثمر آور مستقبل کا آغاز کرسکیں گے لیکن ہمیں کیا کرنا ہے اس کا انتخاب ہمیں ہی کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *