نسلی تعصب پسندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی، غیر آئینی اور سماجی طور پر برا اور تباہ کن عمل ہے۔ تاہم، اکیسویں صدی میں، نسلی امتیازی سلوک کی تمام اقسام کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن میں شامل انسانی حقوق کے معیارات اور ان کی حفاظت کے لئے امریکہ کی ذمہ داری کے باوجود، نسل پرستی کی وجہ سے رنگدار لوگوں (غیر سفید فام) کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے وفاقی، ریاست اور مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے ارکان، افریقی امریکی، ایشیائی، لاطینی، جنوبی ایشین، عرب اور مسلم کمیونٹیز کے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
نائن الیون کے بعد، دوسرے تعصبات کے علاوہ، خاص طور پر مسلم برادریوں کو امریکی سرحدیں عبور کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے اعداد و شمار غلط طور پر صرف ان کی قومیت یا ملکی وابستگی کی وجہ سے ان انتہا پسندوں کے ساتھ مل رہے تھے جن کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا، یہاں تک کہ بسا اوقات انہیں ہوائی جہازوں سے اتارا جاتا، جلاوطن کیا جاتا یا ان کو (تشدد و گالم گلوچ کا ) نشانہ بنایا جاتا تھا۔ طویل پولیس تفتیش، نظربندی یا تشدد کا نشانہ بنانا، خاص طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو، جو امریکہ میں مقیم ہیں، ”پاکی“ جیسے نام دیے گئے تھے اور امریکی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے ان کے بچوں کو سفید فام آبادی کے ذریعہ تعصب اور نا انصافیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Read more