میر حمایت علی المعروف حمایت علی شاعر


میر حمایت علی المعروف حمایتؔ علی شاعر 14 جولائی 1926 کو اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن ہی میں اپنے وقت کے بائیں بازو کے صاحب قلم افراد سے متاثر ہو گئے پھر مقامی روزنامہ ’خلافت‘ میں بھی کام کیا اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے جہاں کئی جہتوں میں آپ نے کام کیے جیسے ڈرامے میں صدا کاری وغیرہ۔ ان کے آبا و اجداد کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ لکھنے لکھانے کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا پھر شاعری کی جانب توجہ مرکوز کر لی۔ انٹرنیٹ پر ان کے 9 عدد شعری مجموعوں کا ذکر ملتا ہے۔ جس میں پہلا مجموعہ کلام ’ گھن گھرج‘ ( 1950 ) ہے جو بھارت سے شائع ہوا۔ پاکستان کی طرف 1951 میں ہجرت کی اور ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہو گئے۔ پاکستان میں ان کی پہلا شعری مجموعہ ’آگ میں پھول‘ ہے جو 1956 میں شائع ہو ا۔ جلد ہی انہوں نے فلمی گیت لکھنے کا بھی آغاز کر دیا۔ جس پر انہیں دو عدد نگار ایوارڈ بھی ملے جن کی تفصیل آگے آئے گی۔ 1963 میں سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور پھر یہیں شعبہ اردو سے منسلک ہوئے۔

حمایتؔ علی شاعر کی زندگی بہت بھرپور رہی۔ یہ خوش قسمت رہے کہ زندگی میں ہی ماشاء اللہ ہر دل عزیزی اور پذیرائی ملی۔ انہیں چھوٹے بڑے بہت سے ایوارڈ حاصل ہوئے۔ 2002 میں صدر پاکستان نے ادبی خدمات کے صلے میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ حمایت ؔ علی شاعر کے لئے موجد ثلاثی ایوارڈ کا ذکر عام علم میں ہے۔ میری تحقیق کے مطابق ثلاثی یعنی تین مصروں کے شعر کا وجود تو روایتی ’اردو ٹپوں‘ میں زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ تین مصروں کا شعر:

باغوں میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو
ہم تم کو نہیں بھولے

یہ کلام قدیم اساتذہ کے گراموفون ریکارڈوں میں اب بھی سنا جا سکتا ہے۔ میں نے بھی اس ٹپے کا ایک گراموفان ریکاڑڈ استاد بڑے غلام علی خان کی آواز میں سنا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جدید شاعری میں تین مصروں کے شعر کی ابتدا حمایتؔ علی شاعر نے کی۔

حمایت ؔعلی شاعر ریڈیو میں آنے سے پہلے 1948 سے 1950 تک حیدر آباد دکن کے تین روزناموں سے منسلک رہے، ’ جناح‘ ، ’منزل‘ اور ’ہمدرد‘ ۔

صحافت سے تعلق کی بنا پر آپ نے مختلف ادبی پرچوں کی ادارت بھی کی جیسے : ’ساز نو‘ ( حیدرآباد دکن) 1949، ’شعور‘ (حیدرآباد سندھ) 1956 سے 1957، ’صریر خامہ‘ (سندھ یونیورسٹی) اقبال نمبر 1977 اور نعت نمبر 1978۔

ادب اور صحافت کا ثقافت سے چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ حمایتؔ علی شاعر نے ’ارژنگ‘ کے زیر اہتمام، 1959 میں نظم ” بنگال سے کوریا تک“ سندھ یونیورسٹی کے اسٹیج پر ٹیبلو میں پیش کی۔ اسی سال 1959 میں ان کا لکھا ہوا ڈرامہ ”اندھیرا اجالا“ حیدرآباد سندھ میں اسٹیج ہوا۔

اب ریڈیو کا ذکر آتا ہے۔ حمایت ؔ علی شاعر 1947 سے 1950 کے عرصے تک آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد ( حیدرآباد دکن ) سے وابستہ رہے۔ پھر ریڈیو پاکستان حیدرآباد اور کراچی سے 1951 سے 1962 تک منسلک رہے۔ یہیں ان کی اداکار محمد علی وغیرہ سے دوستی ہوئی تھی جنہوں نے حمایتؔ علی شاعر کو فلموں کی طر ف راغب کیا۔

سابقہ وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی جناب شیخ ایاز صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر سلیم شیخ، ماہر امراض قلب سے میں نے رابطہ کیا۔ وہ کہتے ہیں : ”میرے والد صاحب نے حمایتؔ علی شاعر کو خاص طور پر سندھ یونیورسٹی بلوا کر شعبۂ اردو کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

( 1977 ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہمارے گھر بھی آتے تھے۔ میرے والد کا کہنا تھا کہ حمایتؔ علی شاعر بہت اعلیٰ پائے کے انسان اور شاعر ہیں۔ مجھے بھی بہت نفیس شخصیت لگتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے والد صاحب ان کی بہت عزت اور قدر کرتے تھے۔ وہ اکثر کہتے کہ حمایتؔ علی جیسے اب صرف دو چار ہی تو رہ گئے ہیں ”۔

حمایتؔ علی شاعر کی شاعری کی کچھ جھلکیاں :

کہا گیا ہے کہ میں اپنے دل کی فکر کروں
کہ اب یہ اور غم زندگی سہے نا سہے
تھکن سے چور ہے دل اور چل رہا ہوں میں
نہ جانے اب یہ مرا ہمسفر رہے نہ رہے
کیسی آہٹ ہے پس دیوار آخر کون ہے
آنکھ بنتا جا رہا ہے ر وزن در دیکھنا
ایسا لگتا ہے کہ دیواروں میں در کھل جائیں گے
سایہ ء دیوار کے خاموش تیور دیکھنا
اک طرف اڑتے ابابیل اک طرف اصحاب فیل
اب کے اپنے کعبۂ جاں کا مقد ر دیکھنا
صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ
لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخنور دیکھنا
آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم
منسوب ہو سکے نہ تیری انجمن سے ہم

فلموں میں حمایتؔ علی شاعر کے گیت خاص و عام میں بہت مقبول ہوئے۔ کچھ اپنے لکھے ہوئے گیتوں کی عوامی پذیرائی کچھ اداکار محمد علی کا ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے ساتھ نے ان کو بھی فلمی صنعت میں فلمسازی کی تحریک دی۔ اس طرح انہوں نے بقول نامور بھارتی فلمی شاعر اندیورؔ ”بڑے ارمانوں سے“ لاہور کی فلمی دنیا میں پہلا قدم رکھ دیا۔ حمایتؔ علی شاعر نے بطور فلمساز فلم ”لوری“ 2 اپریل 1966 بروز عید الاضحیٰ نمائش کے لئے پیش کی۔

فلم کے ہدایتکار ایس سلیمان تھے جو اداکار سنتوش کمار اور درپن کے چھوٹے بھائی ہیں۔ کہانی احمد ندیم قاسمی کی اور موسیقار خلیل احمد تھے۔ فلم کے ستارے زیبا، سنتوش، محمد علی، سلونی، طلعت صدیقی اور ننھے اداکار روفی تھے۔ مذکورہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے 9 گیتوں میں سے 8 ریڈیو پاکستان پر بہت مقبول تھے : ”چندا کے ہنڈولے میں، اڑن کھٹولے میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ یہ ثریا حیدرآبادی اور نورجہاں کی آوازوں میں الگ الگ ریکارڈ کیا گیا، ’‘ ہوا نے چپکے سے کہہ دیا

کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”آواز مالا،“ خدا وندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”آواز مہدی حسن،“ میں خوشی سے کیوں نہ گاؤں میرا دل بھی گا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”آواز مجیب عالم،“ مانا کہ حضور آپ ہزاروں میں حسیں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”آواز احمد رشدی،“ تالی بجے بھئی تالی بجے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”، آوازیں آئرین پروین، باتش اور بچے۔

فلم ’‘ لوری ”کے کامیاب تجربہ کی روشنی میں حمایتؔ علی شاعر نے فلم“ گڑیا ”بنانے کا اعلان کیا۔ اب کی دفعہ موسیقار خلیل احمد کی جگہ انہوں نے نوجوان موسیقار سہیل رعنا کا انتخاب کیا۔ مجھے ستار نواز، ارینجر اور موسیقار جاوید اللہ دتہ نے بتایا :“ سہیل رعنا فلم ”گڑیا“ کے گانو ں کی ریکارڈنگ کے لئے مجھے ستار نواز کی حیثیت سے لاہور لے کر گئے۔ وہاں گیت ریکارڈ ہو کر ریڈیو سے نشر بھی ہوئے ”۔

لیکن افسوس کہ یہ فلم مکمل ہو کر پردہ سیمیں کی زینت نہیں بن سکی۔ اس موضوع پر میری نامور فلمی شخصیت علی سفیان آفاقی ؔسے بات ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا :

” اس کی سب سے بڑی وجہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی جگہ رنگین فلموں کا آنا ہے۔ حمایتؔ علی نے تمام جمع پونجی اس فلم پر لگا دی۔ کچھ فلم بندی بھی ہوئی لیکن شاید نئے سرے سے رنگین خام فلم پر شوٹنگ کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوئے۔ پچھلی فلم“ لوری ”کامیاب رہی تھی اور ان کی اپنی فلمی ساکھ بھی تھی۔ ان کو ایور نیو والے آغا جی اے گل مناسب شرائط پر ادھار میں خام مال اور اپنے اسٹوڈیو دے سکتے تھے ( غالباً یہ پیشکش ہوئی بھی تھی) ۔ تقسیم کاروں کی جانب سے بھی خاصی بڑی رقم ایڈوانس میں آ سکتی تھی لیکن انہوں نے بعض نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس فلم سے ہاتھ کھینچ لیا“ ۔

گو انہوں نے بہت زیادہ فلموں کے لئے گیت نگاری نہیں کی لیکن جو بھی گیت لکھے اکثر مقبول ترین تھے۔ مزے کی بات اس دور کی فلموں کی کہانی میں ان کے گیت کہانی کے ڈرامائی موڑ ثابت ہوتے تھے۔

حمایتؔ صاحب کے کچھ لازوال فلمی گیتوں کا ذکر :

فلم ”آنچل“ ( 1962 ) ’تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ، اسے سلیم رضا اور ناہید نیازی نے الگ الگ ریکارڈ کروایا اور ’کسی چمن میں رہو تم، بہار بن کے رہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ آواز احمد رشدی موسیقار خلیل احمد۔ فلم ”دامن“ ( 1963 ) ’نہ چھڑا سکو گے دامن، نہ نظر بچا سکو گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ، خوشی اور غم کی کیفیات میں الگ الگ نورجہاں نے ریکارڈ کروایا، موسیقار خلیل احمد۔ فلم ”جب سے دیکھا ہے تمہیں“ ( 1963 ) ’جب سے دیکھا ہے تمہیں دل کا عجب عالم ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ، آواز سلیم رضا اور ’ہمت سے ہر قدم اٹھانا تو ہے پاکستانی، تجھ سے ہی یہ ملک بنے گا دنیا میں لاثانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ آواز احمد رشدی، موسیقار سہیل رعنا۔ فلم ”تصویر“ ( 1966 )

’ اے جان وفا دل میں تیری یاد رہے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ آواز مہدی حسن، موسیقار خلیل احمد۔ فلم ’‘ میں وہ نہیں ’‘ ( 1967 ) ’نوازش کرم شکریہ مہربانی، مجھے بخش دی آپ نے زندگانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ ، آواز مہدی حسن، موسیقار اے حمید۔ فلم ”میرے محبوب ’‘ ( 1966 )

’ ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ، دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ آواز نورجہاں، موسیقی خلیل احمد۔ ایسی کئی فلمیں ہیں جن کی کامیابی میں حمایتؔ علی شاعر کے گیتوں کا بہت بڑا حصہ ہے جیسے : ”جب سے دیکھا ہے تمہیں“ ( 1963 ) ، ”دل نے تجھے مان لیا“ ( 1963 ) ، ”دامن“ ( 1963 ) ، ”اک تیرا سہارا“ ( 1963 ) اس فلم کا ایک قومی نغمہ ”اپنے پرچم تلے ہر سپاہی چلے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ آج بھی اپنے اندر ولولہ رکھتا ہے۔ اس کو آئرین پروین، نسیم بیگم اور ساتھیوں نے ریکارڈ کروایا اور موسیقی ماسٹر عنایت حسین کی تھی۔ فلم ”خاموش رہو“ ( 1964 ) ، ”کنیز“ ( 1965 ) ، ”میرے محبوب“ ( 1966 ) ، ’‘ تصویر ”( 1966 ) اس فلم کا اسکرین پلے اور مکالمے بھی حمایتؔ صاحب نے لکھے،“ کھلونا ”( 1968 ) ،“ درد دل ”( 1966 ) او ر“ نائلہ ”( 1965 ) ۔

جب بھی قومی نغموں کا ذکر کیا جائے گا فلم ”مجاہد“ میں حمایتؔعلی شاعر کا ولولہ انگیز گیت ہمیشہ یاد رکھا جائے گا : ”ساتھیو مجاہدو، جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ مزے کی بات یہ کہ مذکورہ سلور جوبلی فلم جمعہ 10 ستمبر 1965 کو بھارت کے ساتھ حالت جنگ میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ فلم ”مجاہد“ کے اس ملی نغمے نے تو مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ خلیل احمد ( 3 مارچ 1936 سے 22 جولائی 1997 ) کی موسیقی میں حمایتؔ علی شاعر کا یہ گیت مسعود رانا اور شوکت علی نے ریکارڈ کروایا تھا۔ مسعود رانا کو اس نغمہ پر بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔

وحید مراد نے اپنے ادارے، فلم آرٹس میں بننے والی فلم ’‘ جب سے دیکھا ہے تمہیں ’‘ ( 1963 ) بنائی۔ اس فلم میں حمایت علی شاعر کے لکھے گیت: ”ہمت سے ہر قدم اٹھانا تو ہے پاکستانی، تجھ سے ہی یہ ملک بنے گا دنیا میں لاثانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ سے سہیل رعنا نے قومی نغموں میں ایک نئی اختراع شروع کی۔ اس میں مارچنگ ردہم کے ساتھ مغربی ردہم کو مکس کر کے نیا پن پیدا کیا گیا۔ میرے نزدیک یہیں سے قومی نغمات کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ویسے بھی مذکورہ فلم سہیل رعنا کی بحیثیت موسیقار پہلی فلم ہے۔ اس فلم میں گلوکار سلیم رضا کی آواز میں گیت ’جب سے دیکھا ہے تمہیں دل کا عجب عالم ہے‘ سننے والے کو ایک اور ہی عالم میں لے جاتا ہے۔ نہ جانے موسیقار سہیل رعنا نے پھر سلیم رضا کی سنہری مخملی آواز کو کیوں استعمال نہیں کیا؟

ابھی کچھ دیر پہلے میری بین الاقوامی شہرت یافتہ بانسری کے استاد، جناب سلامت حسین صاحب سے حمایتؔ علی شاعر سے متعلق بات ہوئی۔ انہوں نے کہا۔ :

” میری ان سے ریڈیو پاکستان حیدرآباد ہی کے زمانے سے ملاقات تھی۔ یہ وہاں اردو کے اناؤنسر تھے“ ۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا: ”ایک مرتبہ آرٹس کونسل گلرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، بڑے بڑے نامور لوگ موجود تھے۔ جاپان سے بھی مہمان آئے ہوئے تھے۔ حمایتؔ کا پڑھنے کا اپنا ایک مخصوص اسٹائل تھا۔ میں نے اپنا آئٹم بانسری پر ان کے پڑھنے کا انداز پیش کیا۔ تمام خاص و عام

بشمول حمایتؔ، نے بہت پسند کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں خلیل کے ساتھ لاہور آیا۔ خلیل کی تو فیملی ساتھ تھی۔ البتہ میں نے باری اسٹوڈیو میں حمایتؔ کے دفتر میں ہی اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ فلم ”لوری“ کے تمام گیت میرے سامنے لکھے او ر کمپوز ہوئے۔ جہاں جہاں بانسری ہے، میری بجائی ہوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’خدا وندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں‘ کی تین دھنیں بنی تھیں۔ تینوں ایک سے بڑھ کر ایک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خاص بات یہ کہ مذکورہ فلم کی تیاری کی کسی بھی مرحلہ میں میں نے ان کو غصے یا آپے سے باہر ہوتے نہیں دیکھا۔ جو وقعی ایک بہت عجیب اور نا قابل یقین بات ہے ”۔

جناب حمایتؔ علی شاعراپنے بیٹے روشن خیال کے پاس کینیڈا منتقل ہو گئے تھے۔ کچھ عرصے سے وہ اپنی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے گھر تک محدود ہو گئے تھے۔ مجھے 16 جولائی 2019 کو ٹیلی وژن کے موسیقار، ارینجر اور بہت اچھے گلوکار جناب زیڈ ایچ فہیم صاحب نے یہ افسوسناک خبر دی کہ ہمارے محترم حمایتؔ علی شاعر آج صبح کینیڈا میں انتقال کر گئے۔ انہیں یہ خبر حمایتؔ صاحب کے داماد، شفیق الزماں صاحب نے دی۔ شفیق الزمان فہیم صاحب کے شاگرد ہیں۔

موسیقار زیڈ ایچ فہیم یہ خبر سنانے کے بعد پرانی یادیں تازہ کرنے لگے۔ کہنے لگے : ”حمایت ؔبھائی مجھ سے بہت شفقت کرتے تھے۔ میں نے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں ان کے لکھے کچھ گیت بھی کمپوز کیے تھے۔ مجھے کراچی جمخانہ کا وہ پروگرام اچھی طرح یاد ہے جو ان کے اعزاز میں ترتیب دیا گیا تھا۔ میں نے حمایتؔ بھائی کے لکھے ہوئے مشہور فلمی گیت اس تقریب میں سنائے۔ جیسے : ’تجھ کو معلوم نہیں، تجھ کو بھلا کیا معلوم‘ ، ’جب سے دیکھا ہے تمہیں دل کا عجب عالم ہے‘ ، ’خدا وندا یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینے میں‘ ، ’میں خوشی سے کیوں نہ گاؤوں، میرا دل بھی گا رہا ہے‘ وغیرہ۔

انہیں سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ اس وقت بھی ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ پروگرام میں ایک وقفے کے دوران جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں لپک کر گیا اور کہا کہ حمایتؔ بھائی ابھی تو آپ کے کچھ اور گیت بھی سنانا ہیں۔ مسکرا کر واپس اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور پورا پروگرام دیکھا۔ اور جاتے ہوئے اپنی ایک کتاب تحفتا دی۔ خصوصی طور پر اپنے قلم سے میرے لئے چند سطور بھی لکھیں۔ حمایتؔ بھائی بھی رخصت ہو گئے۔ واقعی بہت دکھ ہوا! اب احمد ندیم قاسمی، تنویرؔ نقوی، حمایتؔ علی شاعر کے پائے کے لوگ کہاں! آگے تو اندھیرا ہی نظر آ رہا ہے“ ۔

Facebook Comments HS