پاکستانی ہوابازی کے گلے میں پھانسی کا پھندا ‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا بیان پاکستانی ہوابازی کے گلے میں پھانسی کا پھندا بن گیا ہے، یورپ نے پی آئی اے پر اپنے دروازے بند کر دیے، دنیا کے دیگر ممالک ہماری پروازوں اور ان کو اڑانے والوں پر دو حرف بھیج چکے ہیں۔ ساری دنیا ویسے ہی پاکستانی پائلٹوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔ برطانیہ نے بھی ہیتھرو، مانچسٹر اور برمنگھم سے پاکستان کے لئے پی آئی اے کی تمام پروازیں 6 ماہ کے لئے منسوخ کردی ہیں۔

عدالت عظمی ازخود نوٹس لے یا پھر غلام سرور خان کو گھر بھیج دیا جائے لیکن پائلٹ کا پیشہ ’کھوہ کھاتے‘ ہوچکا ہے۔ ہمارے وزیر ہوا بازی کا بیان ائر لائن کے شعبے کے لئے ”نائن الیون“ ثابت ہوا ہے۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ سرور خان کو یہ فہرست دی کس نے؟ اگر جعلی لائسنس جاری ہوئے تو سول ایوی ایشن ذمہ دار ہے، وہاں کیا کارروائی ہوئی؟ وہاں کس نے پیسے کھائے؟ ہر چھ مہینے بعد امتحان اور دیگر مراحل سے گزر کر ان ہوا بازوں کے لائسنس کی تجدید ہوتی ہے، اس سارے عمل میں کون مال بناتا رہا؟ سرور خان اپنی ’منجی کے نیچے ڈانگ کب پھیریں گے؟‘ 2014 کی انکوائری رپورٹ کب ایوان میں پیش کریں گے؟

ہوابازی کے شعبے کے انتظامی اداروں (ریگولیٹرز) نے پی آئی اے کے یورپ میں داخلے پر چھے ماہ کی پابندی لگائی ہے۔ آبیل مجھے مار کے مترادف اس اقدام کی وجہ کوئی اور نہیں ہم خود بنے ہیں۔ وزیر موصوف نے سوچے سمجھے بغیر پی آئی اے ایک تہائی پائلٹس کی جعلی ڈگریوں اور لائسنس کا اعلان کر دیا۔ کراچی میں ایک طیارہ گرا تھا۔ غلطی کا ذمہ دار پائلٹ قرار پایا۔ اب لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پوری وزارت چلانے والے وزیر نے پورے پی آئی اے کو ”حادثے“ کا شکار کر دیا ہے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق ”یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی“ (ایسا) نے پی آئی اے کو بتایا ہے کہ ”ابھی واضح نہیں کہ باقی ماندہ (پی آئی اے ) پائلٹس تربیت یافتہ اور مطلوبہ اہلیت کے حامل ہیں یا نہیں۔“ پی آئی اے کے ترجمان نے غیرملکی خبر رساں ایجنسی کو مزید دانائی کے گل کھلاتے ہوئے فرمایا کہ متعلقہ پائلٹس پی آئی اے کے لئے ”قابل بھروسا نہیں رہے۔“ جب پی آئی اے کے لئے وہ قابل بھروسا نہیں تو دنیا ان پر بھروسا کیونکر کرے گی؟

ماہرین کے مطابق ہمارے جہازوں کے داخلے پر پابندی جعلی لائسنس کی وجہ سے نہیں لگائی گئی بلکہ یورپ اور مغربی دنیا نے اس بات پر سر پکڑ لیا ہے اور ان کا ماتھا ٹھنکا ہے کہ ریگولیٹر ہی مشکوک ہے۔ لائسنس دینے والا ادارہ سول ایوی ایشن ہے۔ وہی لائسنس کی تجدید کا بھی ذمہ داری ہے۔ ہر لائسنس پر ’سی۔ اے۔ اے‘ کی مہر ثبت ہے۔ سوال ’سی۔ اے۔ اے‘ پر آ رہا ہے کہ اس کے نظام میں اتنی بڑی خامی ہے کہ لائسنس جعلی جاری ہو گئے اور وہ بھی 860 میں سے 262؟ ان میں سے نصف پی آئی اے کے پائلٹس بتائے گئے جس پر قومی ائر لائن نے 434 میں سے 141 پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا۔

یورپی فضائی تحفظ کی ایجنسی ’ایسا‘ کے مطابق پی آئی اے اور نجی پاکستان ائر لائن پر پابندی پاکستانی پارلیمان میں ہونے والے انکشاف کی روشنی میں عائد کی گئی ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے جا رہے ہیں۔ پی آئی اے کورونا وبا کی وجہ سے پہلے ہی بہت کم پروازیں چلا رہی تھی۔ گزشتہ ماہ جب ملک کے اندر پی آئی اے پروازوں کو پھر سے چلایا گیا تو کراچی میں طیارے کا حادثہ ہو گیا۔ پی آئی اے نے حال ہی میں یورپی دارالحکومتوں پیرس، میلان اور بارسلونا کے لئے پروازوں کی بکنگ کا عمل شروع کیا تھا کہ نیا ”حادثہ“ ہو گیا۔ برطانیہ کے لئے پروازیں بھی بند کردی گئی ہیں۔

”ایسا“ کا کہنا ہے کہ ”پاکستانی مجاز حکام کی قومی ائر لائن چلانے اور استعداد کار عالمی معیارات کے مطابق یقینی بنانے کی صلاحیت پر تشویش کے سبب پی آئی اے کو معطل کیا گیا ہے۔“

واقفان حال کا دعوی ہے کہ یورپی یونین کی عائد کردہ یہ پابندی پی آئی اے یا اس کے پائلٹس پر نہیں بلکہ سی اے اے پر عائد ہو گئی ہے۔ پی آئی اے کے اندر کے معاملات جاننے والوں کے مطابق یہ فہرست کہاں تیار ہوئی؟ وہ سب جانتے ہیں۔ یہ فہرست کب سے ’رل‘ رہی تھی۔ ان میں سے آدھے لوگ بیرون ملک جا چکے ہیں، ریٹائر ہوچکے ہیں اور آدھے جہان فانی سے کب کے پرواز کرچکے ہیں۔

سول ایوی ایشن والوں سے فہرست کی تفصیل مانگی گئی ہے۔ نصف لوگوں کے نام ان کے ’پی‘ نمبر سے نہیں مل رہے۔ نصف لوگ جنہوں نے کپتان کے لئے درخواست گزاری تھی، ان کا ریکارڈ نہیں مل رہا۔ ایک طرفہ تماشا جاری ہے۔ خود اعلی حکام بھی چکرا کر رہ گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آٹھ سے دس پرچے ’سی۔ اے۔ اے‘ نے لینے ہوتے ہیں۔ اب اگر بورڈ کا پرچہ آؤٹ ہو جائے تو سب کے امتحان کو مشکوک کیسے قرار دیا جائے گا؟ اس قصوروار تو پرچہ بنانے والوں اور اسے جاری کرنے والوں کا ہے ناکہ امتحان دینے والوں کا؟ یہ اعتراض بھی اٹھایا جاتا ہے کہ سول ایوی ایشن کے پرچے بھی خاصے دلچسپ ہوتے ہیں۔ جو ’ایم۔ سی۔ کیوز‘ یا مختصراً سوالات پوچھے جاتے ہیں، ان میں ’کارڈیالوجی‘ یا امراض قلب سے متعلق سوال بھی پوچھے جاتے ہیں جن کا ہوا بازی سے تعلق نہیں ہوتا۔ یہ آن لائن امتحان ہوتا ہے۔

سرور خان کے بیان کو درست مان لیا جائے تو اس سے کئی سنگین سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ سول ایوی ایشن کس کے ماتحت ہے؟ اس میں حاضر سروس یا ریٹائر ہو کر افسران کہاں سے آتے ہیں؟ اس کا جواب ہے پاک فضائیہ۔ لالو کھیت سے تو یہ لائسنس ملتا نہیں۔

اپوزیشن جماعتوں سے یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ’سٹیل مل‘ کی طرح پی آئی اے پر چند لوگوں کی نظریں گڑی ہیں اور عمران خان حکومت کے ’قابل وزیر‘ کے پھول جھڑنے سے جو غدر مچا ہے، اس کے نتیجے میں پی آئی اے ’ٹکے سیر‘ قیمت پر خریدنے کی تیاری جاری ہے۔ ہمیشہ کی طرح حادثے پر چوہدری شجاعت والا ”مٹی پاؤ“ فارمولا یہ کہہ کر استعمال کیا جا رہا ہے کہ ”اصلاحات درکار ہیں۔“ پاکستان کو ”چار چاند“ لگانے والے عمران خان نے پارلیمان میں یہ اعلان کیا ہے کہ پی آئی اے اور دیگر حکومتی اداروں کی وہ اصلاح کریں گے۔ دو سال گزر گئے اور وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ ”قومی اداروں کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے“ ، واہ یہ بیان بھی غلام سرور خان کے پارلیمان میں دیے گئے بیان سے کم ”وزن“ کا نہیں۔ انہیں چاہیے کہ اصلاح بعد میں کرلینا پہلے درپیش مسئلے کو حل کریں تاکہ پاکستان کی بدنامی بند ہو اور پی آئی اے کا پہیہ چلے۔

پی آئی اے کے حادثے پر اتنی بڑی تحقیقاتی رپورٹ آئی۔ اگر وزیراعظم نے اس رپورٹ کی بریفنگ غور سے سنی ہوتی یا مطالعہ کیا ہوتا تو اسی وقت انہیں اس نکتے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے گہرے نقصانات کا اندازہ ہوجاتا؟ حیرت در حیرت اس بات پر ہے کہ پوری کابینہ حالت ”بے ہوشی“ میں یہ سب سن رہی تھی؟ یا پھر سن تھی؟ اور کچھ بھی سن ہی نہ سکی؟ سانپ نکل گیا اور اب لکیر پر سب ڈنڈے برسا رہے ہیں، قوم اور پی آئی اے ہلکان ہیں۔ پاکستان کی عالمی سطح پر ’بھد‘ اڑائی جا رہی ہے۔ موذی دشمن بھارت میں جشن کا سا سماں ہے۔

افسوس یہ وہی ادارہ ہے جو 1970 تک خطے کی بہترین ہوا باز کمپنی کے نام سے مشہور تھا۔ بہترین پیشہ وارانہ مہارت، اہلیت اور انتظامی لیاقت، پی آئی اے کی شان تھی۔ دنیا میں ٹھٹھا لگایا جا رہا ہے کہ حاضر سروس پاک فضائیہ کا افسر جس ادارے کا سربراہ ہے، وہاں یہ سب ہورہا ہے؟ پی آئی اے کے پاس اس وقت 31 جہاز ہیں اور ساڑھے چودہ ہزار ملازمین ہیں۔ ایک طیارے کے لئے کتنا عملہ مختص ہے، اس پر بھی ہمارا خوب مذاق بن چکا ہے۔

عالمی میڈیا میں شائع ہونے والے مضامین نے ہمارے ”پلے ککھ“ نہیں چھوڑا۔ فوج سمیت تمام اداروں پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ ہمارے میڈیا میں خبر نہیں چلے گی تو کیا دنیا بے خبر رہے گی؟ آج کی دنیا میں یہ سوچنے والے کی سوچ پر بھی حیرت، استعجاب اور افسوس ہی جا سکتا ہے؟ جو ادارہ پہلے ہی مالیاتی بحران کی دلدل میں گردن تک دھنسا تھا، خان سرور خان کے بیان نے اس کی تجہیز و تکفین کرا دی۔ گزشتہ برس پی آئی اے کا خسارہ 340 لاکھ ڈالر تھا جو نجانے اس ”حادثے“ کے بعد کتنے بڑے حادثے کا سبب بنے گا؟

پی آئی اے کے مطابق یورپ کو عارضی طور پر تمام پروازیں بند کردی گئی ہیں لیکن پھر بعد میں یہ بیان آیا کہ یورپ اور برطانیہ کے لئے دو دن کی لینڈنگ کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ مہلت یکم سے تین جولائی تک دی گئی ہے۔ پھر کہا گیا کہ پہلے ان پائلٹوں کی فہرست دی جائے جن کے لائسنس مشکوک ہیں، اس کے بعد اجازت ملے گی۔ ’ایسا‘ کے مطابق یورپ کے لئے پی آئی کی معطلی یکم جولائی سے شروع ہو کر چھے ماہ تک نافذالعمل رہے گی۔

پی آئی اے پائلٹس اور ان کی یونین نے جعلی لائسنس کے دعوی کی سچائی و صداقت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ 141 میں سے 36 تو پہلے ہی ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر نوکری سے ہٹائے جا چکے ہیں۔ ائر بلیو کے مطابق سرور خان کے دعوے میں جن 7 پائلٹس کا حوالہ دیا گیا، وہ ان کی پرواز کے لئے اب کام نہیں کرتے۔ پائلٹس اور ان کی یونین کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ صدر چوہدری سلمان کا کہنا ہے کہ فہرست میں ان لوگوں کے نام شامل کیے گئے ہیں جو انتہائی پڑھے لکھے ہیں اور جنہوں نے باضابطہ امتحان اور تمام مراحل میں کامیابی حاصل کی۔ اس معاملے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *