اینکر عمران خان نے پلوشہ خان سے بدتمیزی کی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نجی ٹی وی کے جس ٹاک شو کے حوالے سے بات کر رہا ہوں وہ میرا براہ راست سنا ہوا ہے لیکن مجھے اس بات کا گمان نہیں تھا کہ بی بی سی اس پروگرام کو بہت زیادہ سنجیدہ لے گا۔ ویسے تو پروگرام میں جو کچھ بھی میں نے دیکھا، میزبانی کے لحاظ سے طبعیت پر بہت گراں گزرا، لیکن مجھے یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ اس بات کو انٹر نیشنل میڈیا اس حد تک سنجیدہ لے سکتا ہے۔

بی بی سی بات کا آغاز یوں کرتا ہے کہ ”پاکستان میں ٹویٹر پر آج کی فیڈ میں ایک چلاتی ہوئی ویڈیو گردش میں ہے۔ مباحثے میں ایک جانب شاباش کی تکرار ہے تو دوسری جانب صحافتی اصولوں کی ہاہاکار۔ ویڈیو پلے کریں تو صحافی اور اینکر عمران خان کے ٹاک شو کا ایک کلپ ہے اور وہ چلا چلا کر کچھ ایسے جملے بول رہے ہیں“ یہ بدمعاشی نہیں چلے گی ”۔“ میں آپ کو چڑھائی نہیں کرنے دوں گا ”۔“ اتاریں مائیک اور چلیں یہاں سے ”۔“ میرے منھ آپ اتنا لگیں جتنی ضرورت ہے وغیرہ ”۔

پروگرام کے مہمانوں میں پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان موجود ہیں، اینکر کے چلانے کے جواب میں ان کا اتنا کہا سنائی دیتا ہے کہ“ آپ سندھ کی وکالت نہ کریں، آپ کی بات کیا صحیفہ ہے؟ اس کے بعد مہمان کی کوئی اور بات اس لئے سنائی نہیں دیتی کہ میزبان مہمان کا مائیک آف کرا دیتے ہیں۔ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہو جاتی بلکہ نجی ٹی وی جی این این کے ٹاک شو میں اینکر عمران خان کے مطابق انھوں نے جو کیا وہ درست ہے کیونکہ انھوں نے سندھ کے مسائل پر بات کی جو ان کا حق ہے۔

ممکن ہے کہ انھوں نے جو کہا ہو اس کے پیچھے کچھ اور بھی کہانیاں ہوں جس کی وجہ سے وہ طرز میزبانی بھلا بیٹھے ہوں لیکن ٹی وی پر ہونے والے ٹاک شوز میں ایسا ہونا کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ جن مہمانوں کو لایا جاتا ہے وہ پارٹی کے ترجمان تو بے شک ہوتے ہیں لیکن اپنے کسی بھی پارٹی ورکر، رہنما یا ذمہ داران کی کسی قسم کی کوئی تلغ گوئی کے ذمہ دار نہیں ہوا کرتے۔ اینکر نے پارٹی کی جانب سے کسی ناروا سلوک پر جس طرح سارا غصہ خصوصی طور پر بلائی گئی مہمان پر اتارا، یہ طرز عمل مناسب نہیں لگتا۔

واقعہ کسی بھی نوعیت کا کیوں نہ ہو، اختلاف رائے کا موجود رہنا ایک حقیقی امر ہے۔ اینکر کی طرز گفتگوکے متعلق بھی مختلف آرا کا سامنے آنا کوئی ایسی بات نہیں جس پر کسی تعجب کا اظہار کیا جائے چنانہ کچھ نے اینکر کو صحافی قرار دیا اور کچھ نے سیاسی رہنما۔ ٹویٹر کی صبا خان نے اینکرز کے حق میں بیان دیتے ہوئے پی پی پی کی اے آر وائی کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا حوالہ دیا۔ کئی صارفین کو انڈیا کے ارنب گوسوامی کی یاد بھی آئی جن کے ہوتے ٹی وی کی سکرین سراپا ایک چنگھاڑ ہوتی ہے اور جن کے مہمان کچھ کہنا چاہیں تو مائیک آف کر دیے جاتے ہیں۔

ٹویٹر پر صحافتی اصولوں کی بات کرتے ہوئے کئی صارفین کو انڈیا کے ارنب گوسوامی کی یاد بھی آئی جن کے ہوتے ٹی وی کی سکرین سراپا ایک چنگھاڑ ہوتی ہے اور جن کے مہمان کچھ کہنا چاہیں تو مائیک آف کر دیے جاتے ہیں۔ حسن شیخ نامی صارف نے لکھا کہ انھوں نے ایسا صحافی کبھی نہیں دیکھا، بات کرنی ہے تو صرف سندھ میں کرپشن کی نہیں پورے ملک کی کرو۔

وہ تمام چینلز جن پر ٹاک شوز لائیو نشر کیے جاتے ہیں ان کے تمام اینکرز کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے اندر تحمل پیدا کریں کیونکہ اکثر یہی دیکھا گیا کہ کوئی مہمان ان پر یا ان کے چینل پر تنقید کرتا ہے تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ جاتے ہیں جبکہ وہ سامنے بیٹھے ہوئے مہمانوں اور ان کی پارٹیوں پر سخت ترین الزامات عائد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ رویہ ان کی حد سے بڑھا ہوا احساس بر تری ہے جو مناسب نہیں۔ بڑائی عاجزی میں ہے، تکبر میں نہیں۔ کاش ہمارے سارے اینکرز اور صحافی حضرات اس حقیقت کو خوب اچھی طرح جان سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply