منافقت نہیں، انسانیت چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گزشتہ دنوں ایک وائرل وڈیو نظر سے گزری جس میں ایک تین سالہ کشمیری بچہ ایک لاش کے اوپر بیٹھا رو رہا تھا۔ دوسری کلپ میں دیکھا کہ بچہ ہچکیوں سے روتا ہوا بمشکل بتاتا ہے کہ وہ لاش اس کے نانا کی تھی جنھیں بھارتی فوجیوں نے اس کی آنکھ کے سامنے گولیوں سے قتل کر دیا۔ بچے کے ننھے منے ہاتھوں میں چپس، بسکٹ کی تھیلیاں دیکھ کر اس پر مزید پیار آنے لگتا ہے۔ معصوم بچے کے آنسوؤں نے کئی دل پگھلا دیے، کتنی ہی آنکھیں رلا دیں، سرحد پار پاکستانیوں نے دل کھول کر انڈین آرمی اور مودی کی ہندوتوا پر مبنی پالیسیز پر تنقید کی جو کہ انسان ہونے کے ناتے ہم سب پر فرض تھا۔

پھر کل ایک اور خبر پڑھی جو کہ پاکستان میں ہی ہونے والے اندوہناک واقعے پر مبنی تھی، جس میں ایک شخص اور اس کی ساس کو اس کے پڑوسی نے محض اس لئے ہی گولیوں سے چھلنی کر دیا کیونکہ مقتول عیسائی تھا اور مسلمان پڑوسی کو اپنے علاقے میں کسی غیر مذہبی کا سانس لینا ہر گز قبول نہ تھا جس کے باعث اس نے پہلے مقتول کو دھمکیاں دے کر اس کے محلے میں آکر رہنے کے ارادے سے باز رہنے کی تاکید کی لیکن جب مقتول نے اس کی بات نہیں مانی تو پڑوسی نے باقاعدہ اس کے گھر میں گھس کر گھر کے افراد پر گولیاں چلائیں جس سے دو افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوگئے۔

قاتل فی الحال فرار ہے اور پولیس اس کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ اس واقعے کے دوران اہل محلہ سے نہ تو کوئی مقتول کی مدد کے لیے آگے آیا اور نہ ہی اس خبر کو وہ اہمیت دی گئی جو کشمیر میں بھارت کی طرف سے کیے جانے والے ظلم کی خبر کو دی گئی تھی اور نہ ہی عوام میں اس سانحے کے خلاف کسی قسم کا افسوس دیکھنے میں آیا ہے جو کہ ہمارے معاشرے کی منافقت اور دوہرے معیار کا ایک ثبوت ہے۔

یہ دو واقعات دو الگ ممالک میں پیش آئے ہیں جن میں پہلے کا تعلق بھارت اور دوسرے کا پاکستان سے ہے ان دونوں واقعات میں انسانی جان کے لئے بے حسی نمایاں ہے۔ بھارت جو کہ ایک سیکولر آئین رکھتا ہے لیکن مودی کی ہندوتوا پالیسی کے تحت عام ہندو بھارتیوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کچھ اس طرح ابھار رہا ہے جس سے ان میں مسلمانوں کے لئے انسانیت کا جذبہ ہی ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیر میں ہونے والی زیادتی، درندگی اور جارحیت کے خلاف متحد ہونے کے بجائے عام بھارتیوں میں مسلمانوں کے لئے عدم برداشت اور نفرت بڑھتی جارہی ہے۔

دوسری طرف پاکستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ہے، جس میں دیگر مذہبی اقلیتوں کو یکساں آزادی حاصل ہے لیکن آئے روز مذہبی منافرت کی خبروں سے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے پاکستان میں انسانیت کی دہائی دینے والے اپنے ہی ملک میں ہونے والی زیادتیوں پر چپ سادھے ہیں۔ آخر یہ کون سی تہذیب ہے جہاں ایک پڑوسی کو خوش آمدید کہنے کے بجائے اسے گولیوں سے لہو لہان کر دیا جاتا ہے؟ آخر کیوں ایک نہتے انسان کی مدد کے لیے محلے سے کوئی آگے نہیں آیا؟ صرف اس لیے کہ جس کی جان لی جارہی تھی وہ مسلمان نہیں تھا؟ کہیں جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے واقعات ہورہے ہیں، کہیں چرچز پر فائرنگ اور بم پھاڑے جاتے ہیں اور توہین مذہب کے قانون کو تو اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کا ایک آسان ذریعہ ہی بنا لیا ہے جس سے غیر مسلم تو خیر، خود مسلمان بھی محفوظ نہیں۔ مشعال خان کی مثال اس سلسلے میں سب کے سامنے ہے۔ یہ درندگی نہ تو آج تک دنیا کے کسی مذہب میں سکھائی گئی ہے نا ہی کسی قانون میں اس طرح کے انسانیت سوز مظالم کی گنجائش ہے۔ آخر یہ منافقت کا کون سا درجہ ہے جس میں ہم دوسری ریاستوں میں ہونے والی زیادتیوں پر تو گالیاں، کوسنے دیتے نہیں تھکتے اور اپنی حرکتوں پر ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوتے۔ کشمیری بچے کے آنسو پر رونے والے ہم وطن مسیحی بھائی کی بے بس موت پر کیوں خاموش ہیں؟

اسی دوران پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہی اسلام آباد میں بننے والے پہلے مندر کو اسلامی روح کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ مجھے تعجب ہے ایسے منافقانہ رویوں پر۔ آخر یہ وہی لوگ ہیں جو دوسرے ممالک میں مساجد، اذان اور پردے جیسے معاملات پر ہر طرح کی مزاحمت کرنا فرض سمجھتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ملک میں اقلیتوں کو حقوق دینا ان کو قطعی گوارا نہیں۔ کیا پاکستان میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی کسی کو جینے کا حق نہیں؟

اس طرح کی تنگ ذہنیت رکھنے والے پھر کس منہ سے دیگر ریاستوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں؟ دوسروں کو تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا سیکھیں۔ آپ دیکھیں کہ آپ بحیثیت مسلم اور پاکستانی شہری ہونے کے ناتے کون سی ایسی اعلیٰ اخلاقی قدروں پر مبنی مثال قائم کر رہے ہیں جس کے تحت دنیا آپ کی تنقید یا رائے کو اہمیت دے گی؟ آپ تو صرف اپنے عیبوں کو دکھانے پر میڈیا کو کوستے ہیں اور دوسرے ملکوں میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں پر دہائی دیتے پھرتے ہیں۔ اگر دنیا میں واقعی عزت پانا چاہتے ہیں یا اپنی رائے کی کوئی اہمیت منوانا چاہتے ہیں تو پہلے خود انسانیت کے ان اصولوں پر چل کر دکھائیں جن کی توقع آپ کو دوسروں سے ہے ورنہ یاد رکھیں خالی ڈبے کے شور مچانے پر کان نہیں دھرے جاتے نہ ہی منافق رویوں سے عزت کا مقام بنانا ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *