اپنے محبوب لیڈر ایوب خان کو ووٹ دیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سیاست دلچسپ بھی ہے اور مضحکہ خیز ہونے کے ساتھ ساتھ بے رحم بھی ہے۔ 1947 کے بعد ابتدائی دو دہائیوں کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو سیاست کا طالب علم سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا کہ اس مدت میں ہوتا کیا رہا۔ کمی تو خیر بعد کی دہائیوں میں بھی کوئی نہیں چھوڑی گئی تا ہم ان دو دہائیوں میں جتنی مضحکہ خیز سیاست ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان کے انتخابات میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے کا طریقہ پہلے دن سے موجود ہے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد مارچ 1951 میں پنجاب اسمبلی کی 197 نشستوں کے لیے جو انتخابات ہوئے اس میں ووٹرز کی تعداد صرف 10 لاکھ کے قریب تھی۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 30 فیصد سے بھی کم تھی۔ اس کے بعد سے لے کر ہر ہونے والے عام انتخابات میں ایک مربوط نظام کے تحت من پسند نتائج حاصل کیے جاتے رہے صرف 1970 کے عام انتخابات میں پہلی بارعوامی پسند نا پسند پر فیصلے سامنے آئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ہی کے دوٹکڑے ہو گئے۔

جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کی سیاسی بساط لپیٹ دی۔ غیر مستحکم جمہوریت سے خائف عوام نے جنرل ایوب خان کو خوش آمدید کہا۔ 1962 میں ایک آئینی کمیشن بنا جس نے 1962 کا صدارتی آئین بنایا۔ اس آئین کے تحت 156 اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی وجود میں آئی جس کی مدت تین سال تھی۔ اس اسمبلی کے ممبران کا چناؤ عوام نے نہیں بلکہ ایوب خان کے بیسک ڈیمو کریٹس نے کیا تھا۔ بیسک ڈیمو کریٹس بنیادی جمہوریتی نظام کے تحت منتخب ہونے والے کونسلرز تھے۔ ان کی تعداد ملک بھر میں 80 ہزار تھی۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کر کے اراکین اسمبلی کی تعداد 218 اور بیسک ڈیمو کریٹس کی تعداد 80 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ بیس ہزار تک کر دی گئی۔

2 جنوری 1965 کو صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا۔ جنرل ایوب خان صدارت کے عہدہ کے لیے مضبوط ترین امیدوار تھے۔ منتشر اپوزیشن میں اس وقت کوئی ایسی سیاسی شخصیت نظر نہیں آ رہی تھی جو ایوب خان کا مقابلہ کرسکتی۔ ایوب خان مسلم لیگ کنونشن کے پینل سے صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ اپوزیشن جمع ہوئی اور مشاورت کر کے محترمہ فاطمہ جناح کو اپوزیشن کی پانچ جماعتوں کے اتحاد کمبائینڈ اپوزیشن پارٹیز کی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔

اس میں جماعت اسلامی نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن کے فیصلے نے ایوب خان کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا۔ ایوب خان نے علما سے عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوئے حاصل کرنا شروع کر دیے۔ تا ہم عوام جوق در جوق محترمہ فاطمہ جناح کے جلسوں میں شریک ہونے لگی۔ انتخابی مہم کے لیے پہلے ایک ماہ کا وقت دیا گیا مگر عوام کا رحجان دیکھ کر پابندی لگا دی گئی کہ ہر امیدوار زیادہ سے زیادہ 9 پروجیکشن میٹنگز کر سکتا ہے جس میں بیسک ڈیمو کریٹس اور میڈیا کے لوگ شریک ہوسکتے ہیں جبکہ عوام پر پروجیکشن میٹنگز میں شرکت پر پابندی لگا دی گئی۔

بات پر بھی نہیں بنی محترمہ فاطمہ جناح کی تقاریر عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہی تھیں وہ اپنی تقاریر میں ایوب خان کو خفیہ ہاتھ کہہ کر مخاطب کرتیں۔ آمریت اور عوام کے درمیان رسہ کشی عروج پر پہنچ گئی۔ ایوب خان نے سرکاری مشینری کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ہر ضلع میں ایوب خان کی انتخابی مہم ڈپٹی کمشنرز نے سنبھال لی۔ اس دوران ایوب خان کی انتخابی مہم کا ایک اشتہار بیسک ڈٰیمو کریٹس کے لیے نکلا جس میں حجت تمام کرتے ہوئے کہا گیا کہ محترمہ فاطمہ جناح پختونستان کے لیے کام کر رہی ہیں۔

قائد کی بہن کو انتخابی مہم کے دوران غدار وطن کہا گیا۔ اشتہار کی تحریر کچھ یوں تھی کہ ”ظاہر ہے کہ عبدالغفار خان کابل اس لیے گئے ہیں کہ پختونستان کا قضیہ پھر پیدا کریں۔ عبدالغفار خان اور ان کے ساتھی اصل میں مس فاطمہ جناح کے ساتھ پختونستان کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آپ کو ان حقائق کا علم ہونا چاہیے کہ بنیادی جمہوریتوں کے ارکان کی حیثیت سے آپ کو حقائق کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے پاکستان دشمنوں میں گھرا ہوا ہے خدا نے پاکستان کو آپ کی حفاظت میں دیا ہے۔ پاکستان ہر شخصیت سے بلند ہے۔ پاکستان کو ترقی کی ضرورت ہے۔ ترقی کو استحام چاہیے۔ استحکام کو مضبوط حکومت چاہیے۔ آپ کو پاکستان کا مستقبل جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر طے کرنا ہے۔ اپنے قابل اعتماد اور محبوب لیڈر پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار ایوب خان کو ووٹ دیجئے۔ ایوب خان کو ووٹ دینا ملکی ترقی واستحکام کو ووٹ دینا ہے“

صدارتی انتخابات ہو گئے اور ایوب خان نے 951، 49 ووٹ لے کر واضح کامیابی حاصل کی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے 691، 28 ووٹ حاصل کیے۔ انتخابات کے بعد کراچی اور مشرقی پاکستان میں دھاندلی پر بہت شور مچا تا ہم کچھ نا ہو سکا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی شکست سے سیاسی حلقوں میں مایوسی پھیل گئی۔ یہی مایوسی تین سال بعد صدر ایوب خان کے خلاف ایجی ٹیشن کا سبب بنی۔ تا ہم ان صدارتی انتخابات میں ملک کو غداروں سے بچا کر اس طرح ہی محفوظ ہاتھوں میں دے دیا گیا جیسے اس بار دیا گیا ہے۔

ویسے بھی عوام کا سیاسی شعور ان کو غدار ہی کہلواتا ہے اور اسی عوام کو سیاسی شعور دینے والے کے لیے تو نا قابل معافی سزا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جتنی اجازت دی جائے اس سے زیادہ کی سیاست نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اب تک کی تاریخ سے یہی بات معلوم ہوئی ہے کہ جس بھی سیاسی قیادت نے من پسند فیصلے کرنے کی کوشش کی ہے وہ غدار کے میڈل سے سرفراز ہوا ہے۔ موجودہ عہد بھی اسکندر مرزا کے عہد سے مختلف نہیں ہے نا ملک چل رہا ہے اور نا ہی حکومت۔ جبکہ اس دوران صدارتی نظام کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں تو کیا پھر سے بیسک ڈیموکریٹس کا انتظار کریں جو ماضی کی طرح ملک کو ایک بار پھر سے غداروں سے بچا کر انتہائی محفوظ اور محب وطن ہاتھوں کے سپرد کردیں یا پھر اس بار کوئی نئی تھیوری ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply