شرمندگی کا شکار بلوچستانی ایئر ایمبولنس
کمزور اختلاف رائے اور منافقانہ ڈمی سیاست نے بلوچستان کو ہر سطح پر مزید کمزور بنا دیا ہے یہاں پر اختلاف رائے کی کمی ہے کہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ماہر لوگ کچھ اس ڈھٹائی سے سرعام بکری کو شیر اور شیر کو بکری بنا دیتے ہیں عالم یہ ہے کہ کروڑوں کے مجمعے میں بڑی آسانی سے داد دی جاتی ہے اور سب اس کوحقیت تسلیم بھی کرلیتے ہیں اور ہرطرف تالیوں کی گونج اس جعلی اور جھوٹے مداریوں کو مزید ڈھٹائی سے یہ کرتب دکھانے کا موقع فراہم کرتی ہے کیونکہ مداری سمجھتا ہے کہ مجمعے میں موجود لوگ کم فہم اور دھوکا کھانے پر افسوس کرنے کے بجائے داد دیتے ہیں یوں میلہ جاری ہے اور مداری اپنے ہاتھ کی صفائی دکھا کر اپنی روزی روٹی بنا رہا ہے کسی نے کال کی کہ کیا تم سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ آغا تمیور شاہ کو جانتے ہومیں نے ایک دم جواب دیا اصول پسندی کا پیکر اورانتہائی ایماندار ترین افسر اور نظام کی بقا کا چاہنے والا افسر ہے جنہوں نے اپنے مفادات کی بجائے ریاستی قوانین کا تحفظ پوری سروس میں کیا ہے بلکہ بلوچستان میں تو یہ مشہور ہے کہ آغا تیمور شاہ کی انکوائری کے خلاف آپ آج تک کوئی متاثرہ شخص کسی کورٹ سے بھی اپنے حق میں فیصلہ لے کر نہیں آیا ہے تو فون کرنے والے نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا کہ یہ تم لوگوں نے مخصوص ایمانداری کا چورن دے کر ہمیں معاشرے اور نظام سے الگ تھلگ کھڑا کر دیا ہے آغا تیمور شاہ کوکورونا ہوگیا ہے لیکن حالت یہ ہے کہ وہ خود سکریڑی ہوکر بھی سکریڑی صحت تک ان کا فون نہیں سنتا ہے ہم کچھ دوستوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان کو بی ایم سی سرکاری ہسپتال لیجا کر داخل کیا ہے ایسی ایماندار کا کیا ہم نے اچار ڈالنا ہے۔
خدارا ہمیں ایماندار نہ کہیں اگر وہ کرپشن کرتے تو آج کم از کم ان کے پاس بیوروکریسی کی لائن لگی ہوتی لیکن مجھے لگتا ہے کہ آغا تیمور شاہ کو نظام کی بھلائی کی خاطر سے ناراض کر رکھا ہم بیزار ہیں اس ایمانداری سے اور فون بند کر دیا لمحے بھر کے لئے میں بھی سوچ میں پڑگیا کہ اس کرپٹ نظام میں ایمانداری کا صلہ کیا ہے ساتھ میں سوچتا رہا ہے کہ صوبائی حکومت ڈھائی ارب روپے خرچ کر۔ کے ایئر ایمبولینس کس مقصدکے لئے خرید رہی ہے سوشل میڈیا پر شدید تنقید ہوئی تو اس بارے میں وزیراعلی بلوچستان نے ٹویٹر پر وضاحت کردی جسے دیکھ کر یقیناً ان کے ساتھیوں چمچوں اور سیلیکٹ کرنے والوں کو بھی شرمندگی محسوس ہو رہی ہو گی۔
موصوف فرماتے ہیں کہ ہم نے موجودہ بجٹ میں کورونا کے بعد کی صورتحال کے لئے 8 ارب پورے بلوچستان میں تعمیر نو، لیبارٹریز اور ہیومن ریسورس کے لیے مختص کیے ہیں۔ یعنی پورا بلوچستان صرف آٹھ ارب روپے اور ایک ایئر ایمبولینس اڑھائی ارب کی۔ کیا منطق ہے۔ مطلب چونکہ پورے بلوچستان میں 8 ارب سے پورے بلوچستان کی طبی ضروریات پوری ہو چکی ہوں گی۔ ہر جگہ لیبارٹریز بن چکی ہوں گی۔ زمینی ایمبولینس ہر ہسپتال میں موجود ہو گی۔
وینٹیلیٹر، ایکس رے مشینیں، اور دیگر سہولیات صوبے کے چپے چپے پر مہیا کر دی گئی ہیں لہذا اب ہوائی ایمبولینس کے لیے پیسے بچا لیے گئے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے جام سے فرمایا کہ یہ غریب لوگوں کے لیے فری ہو گی اور امیروں کے لیے جو افورڈ کر سکتے ہوں گے ان سے پیسے لیے جائیں گے۔ یہ بتائیں صاحب حیثیت کتنے ہیں جو ایئر ایمبولینس کے پیسے دے سکتے ہیں۔ اور جو ہیں وہ آپ کے ساتھ حکومت میں ہیں یا آئندہ حکومت میں ہوں گے ان سے کوئی پیسے لے سکتا ہے۔
ایسے یہ یقین کرنا کہ ایئر ایمبولینس عام آدمی کو مفت دی جائے گی ہنسی کے سوائے کیا کیا جاسکتا ہے کہ جہاں ایک سکریڑی دوسرے سکریڑی کی اپنے علاج کے لئے کال نہیں سنتا ہے وہاں پر عام ادمی کو جہاز مفت دینے کی بات مخصوص سورج کو دو انگلیوں سے چھپانے جیسا عمل ہے۔ وزیراعلی کا یہ فرمانا کہ ہمارے پاس پہلے سے تمام عملہ موجود ہے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بندہ کسی ویرانے میں فرج، ٹی وی، اور بہت سارے برقی آلات خرید کر رکھ لے اور بضد ہو جائے کہ اب اس کے لئے اربوں روپے کی بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے
یہ کیسی وضاحت دی ہے، خریدنے کا کوئی جواز تو نہیں دیا گیا۔ کیا کسی اور صوبے نے بھی ایئر ایمبولینس خریدی ہے۔ ؟ نہیں اگر اس کی جہاز کی زیادہ ضرورت ہو توپی آئی اے اور ایدھی ائر ایمبولینس بھی موجود ہے۔ جو ایک فون کال پر آ جاتی ہے۔ یہ آنے والی حکومتوں کے لئے دردسر بن جائے گی۔ شفافیت کی دعوی دار صوبائی حکومت ذرا سی ایم کے جہاز کا سالانہ خرچہ اور مینٹینینس مرمت کی تفصیل تو سامنے لائیں۔ یہ غریب صوبہ ان خرافات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایئر ایمبولینس کی ضرورت تب ہوتی ہے جب مریض کو سات آٹھ گھنٹے کی لمبی فلائٹ میں طبی سہولیات دینا ہوں۔ یہاں تو ایک گھنٹے میں کراچی، لاہور یا اسلام آباد پہنچایا جا سکتا ہے۔ کچھ بھی نہ ہو تو سیریس مریض کو سی ایم یا پولیس کے جہاز میں بھی ایئر لفٹ کیا جا سکتا ہے۔ اور ماضی میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ پھر یہ اللے تللے کیسے۔ ؟ کوئی صوبائی حکومت کو غریب عوام کے پیسوں سے کھلواڑ کرنے سے روکے اگر کسی بھی بلوچستانی کے دل میں ذرا بھی درد ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھائے۔
کیا ڈھائی ارب روپے کی ایئرایمبولینس خریدنی چاہیے جس میں ایک مریض لے جانے کی گنجائش ہو جس صوبے میں مریض پیناڈول بھی باہر سے خریدتے ہوں۔ وہاں اس طرح کی خریداری مناسب ہے۔ اس ایئرایمبولینس میں مریض کہاں لے جائیں گے ظاہر ہے کراچی تک۔ باعث شرم ہے کہ اگر سندھ میں اتنی اچھی صحت کی سہولتیں ہیں تو چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت اس سے بہتر صحت کی سہولتیں اس صوبے کے مکینوں کو مہیا کرتے۔ نا کہ ڈھائی ارب کا جہاز خریدتے جس سے ایک بہترین آغا خان کے مقابلے کا ہسپتال بنایا جا سکتا تھا۔
اگرحکومت میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے تو میں اس کے دوراندیش ساتھیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ پیسوں کے اس بے جا استعمال کو روکیں۔ میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ہمارے جیسے کتنے غریب ملک ائر ایمبولینس رکھتے ہیں۔ ؟ اس وقت بلوچستان حکومت کے پاس تو اربوں روپے کے جہاز ہوگئے جس کے مینٹیننس اور دیگر اخراجات پر سالانہ کروڑوں روپیہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ جس صوبے میں کورونا وائرس کے نام پر اربوں روپے ہوا میں اڑا دیے گئے ہوں وہاں صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں اکسیجن پریشرکی کمی سے اسسٹنٹ کمشنر جان کی بازی ہار جائے وہاں عوام کو یہ لالی پاپ دے کر خوش کرنے کی کوشش کی جائے کہ یہ خریداری عام ادمی کے لئے کی جارہی ہے بذات خود ایک بڑا مذاق ہے موجودہ بجٹ میں 7 ارب 156 اسکیموں کے لیے رکھے گئے ہیں جبکہ ہوائی ایمبولینس کے لیے اڑھائی ارب یہ ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد بنتا ہے اور غیر ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 31 ارب ہے اور فخریہ کہا گیا ہے کہ غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ 40 فیصد ہے۔ چونکہ ہوائی ایمبولینس بھی غیر ترقیاتی اخراجات سے خریدنی ہے۔ جو کہ تقریباً 9 فیصد بنتا ہے جبکہ کورونا سے بچنے کے لیے ساڑھے چار ارب رکھے ہیں اگر ان دونوں فگرز کو نکال دیا جائے تو اضافہ صرف 6 فیصد بنتا ہے۔ جو کہ اچھا ہے یا برا فیصلہ خود کر لیں


