بڑھاپا… چیخوف کی عالمی شہرت یافتہ کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ازلکوف ایک کامیاب آرکیٹکٹ تھا۔ ماسکو میں رہتے ہوئے اسے تیس سال ہو چکے تھے۔ اس کے آبائی شہر کے مئیر نے اسے شہر کے سب سے بڑے چرچ کی پرانی شان و شوکت کو بحال کر نے کی دعوت دی۔ ازلکوف نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔ وہ اسی شہر میں پلا بڑھا تھا، یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور یہیں اس کی شادی بھی ہوئی۔ ٹرین سے اترتے ہی ازلکوف کو اندازہ ہوا کہ شہر بالکل بدل چکا تھا۔ کیچڑ سے بھرے میدان میں جہاں بچپن میں اس کے ہم عمر لڑکے مینڈک پکڑ کر انہیں گھوڑا گاڑیوں کے اندر پھینکتے اور ان میں بیٹھی ہوئی خواتین کی چیخوں سے لطف اندوز ہوتے، وہاں یہ ٹرین سٹیشن بن گیا تھا۔ سامنے جہاں اینٹوں کی ایک چار دیواری سے گھرے کچے مکان تھے، وہاں اب ایک چار منزلہ ہوٹل کھڑا تھا۔ جہاں ازلکوف کے ٹھہرنے کا بندوبست کیا گیا تھا۔

لیکن سب سے زیادہ جو چیز بدلی تھی وہ شہر کے لوگ تھے۔ اسے کوئی شکل مانوس نظر نہیں آئی۔ اس نے ہوٹل کے بیرے سے پوچھا تو پتہ چلا کہ آدھے سے زیادہ لوگ جن کو وہ جانتا تھا مر کھپ چکے تھے۔

”اچھا یہ بتاؤ کہ تم ازلکوف کو جانتے ہو، وہی جو بڑا مشہور آرکیٹیکٹ بن گیا تھا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی“

”نہیں سرکار میں کسی ازلکوف کو نہیں جانتا“

”یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اسے نہیں جانتے؟ طلاق کا یہ کیس تو سارے شہر میں مشہور ہوا تھا۔ روز اخباروں میں سرخیاں چھپتیں اور سب چائے خانوں میں یہ گپ شپ کا موضوع ہوتا۔ بگیوں کے کوچبان تک چٹخارے لے لے کر مقدمے کی کارروائی سنا کر مزے لیتے۔ خاص طور پر اس شیطان وکیل کے بارے میں تو بہت سکینڈل بنے تھے جو اپنے موکلوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا تھا۔ تم اس کو تو ضرور جانتے ہو گے۔ اس کا نام شاپکن تھا“

” شاپکن الانو وچ تو نہیں؟“
”ہاں، ہاں وہی۔“

”جی ہاں، اس کو تو ہر ایک جانتا ہے۔ اس نے بہت لوگوں کو لوٹا ہے۔ اب تو وہ بہت مالدار ہو گیا ہے حضور۔ اسی مین سٹریٹ پر اس کا دفتر ہے۔ یہاں سے زیادہ دور نہیں۔“

ازلکوف تھوڑی دیر بعد ٹہلتا ٹہلتا شاپکن کے دفتر جا پہنچا۔ جس آدمی کو اس نے وہاں بیٹھے دیکھا اس کا تیس سال پہلے والے شاپکن سے کوئی رشتہ جڑتا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک نوجوان، مستعداور پھرتیلے وکیل کی بجائے وہاں ایک جھریوں والا بوڑھا آدمی اسے تھکی تھکی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

”تم مجھے پہچانے نہیں؟ میں ازلکوف ہوں۔ تمھارا پرانا موکل“
”کون ازلکوف؟“
وکیل کافی دیر تک چندھیائی ہوی آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔
”آہ، ازلکوف، ہاں ہاں اب میں پہچانا۔“
اور اس کے بعد توجیسے سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔

”ازلکوف تم کیسے ہو؟ کتنے بدل گئے ہو؟ تمہاری کیا خاطر کروں ؟ کیویار کھاؤ گے؟ شیمپین پیو گے؟ میں تمہارا بہت احسان مند ہوں۔ تم نے میرے لئے جو کیا میں تو اس کا پاسنگ بھی نہیں کر سکتا۔“

” خیراب اتنا بھی جوش میں مت آؤ۔ میں تو یہاں ایک پروجیکٹ کے لئے آیا تھا۔ گرجا کی بحالی کے لئے۔ تمہارے بارے میں پتہ چلا تو سوچا ملتا چلوں“ ۔

لیکن شاپکن کے جوش و خروش میں کمی نہیں آئی تھی۔

”چلو پہلے چل کر کچھ کھا پی لیتے ہیں۔ پھر میں تم کو اپنی ٹراویکا گھوڑا گاڑی میں چرچ لے جاؤں گا اور تمہیں وارڈن اور دوسرے متعلقہ لوگوں سے ملا دوں گا۔ مگر، مگر یہ کیا بات ہے، تم کچھ اکھڑے اکھڑے سے لگ رہے ہو۔ جیسے مجھ سے خوف زدہ ہو۔ اتنا دور کیوں بیٹھے ہو؟ کرسی ذرا قریب کر لو۔ میں کاٹوں گا نہیں“

یہ کہ کر شاپکن ایک کریہ  سی ہنسی ہنسا اور پھر کہنے لگا،

”تمھیں اب مجھ سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ کسی زمانے میں مجھ میں بہت سی خامیاں تھیں، پیسے کے لالچ نے مجھے وحشی بنا دیا تھا۔ میں سنگدل تھا، بے حس تھا۔ لیکن وہ سب کچھ اب ماضی کا حصہ ہے۔ وہ پرانا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ اب تو میں بالکل بے ضرر ہوں اورجب ماضی کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے شرمندہ ہوتا ہوں۔ بس اس بڑھاپے میں موت کا انتظار کر رہا ہوں۔ کاش جلدی آ جائے اور مجھے اس تاریک ماضی کی ہولناک یاد سے نجات ملے۔“

دونوں نے تفصیلی لنچ کیا۔ کچھ شیمپین بھی چلی اور پھر گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر دونوں چرچ کی طرف روانہ ہوئے۔

گاڑی میں بیٹھے ہوئے گفتگو کا رخ پھر ماضی کے روز و شب کی طرف مڑ گیا۔

”وہ بھی کیا عجیب وقت تھا۔ اب سوچو تو یقین نہیں آتا کہ زندگی لالچ اور طمع سے اتنی بھر پور بھی ہو سکتی ہے۔ نمھیں یاد ہے ازلکوف جب میں نے تمہیں تمھاری بیوی سے طلاق دلوائی تھی؟ تیس سال گزر چکے ہیں۔ شاید تم بھی بہت سی باتیں بھول گئے ہو گے لیکن مجھے ہر تفصیل ایسے یاد ہے جیسے کل کا واقع ہو۔ اوہ خدایا میں نے کیا کیا تانے بانے بنے تھے۔ کتنی حرص اور خود غرضی سے کام لیا تھا۔ میں ان دنوں اپنی طرف سے بہت چالاک بنتا، اپنے آپ کو بہت ہوشیار اور بڑا قانون دان سمجھتا۔ بلا خوف ہر خطرہ مول لے لیتا۔ لیکن صرف اس صورت میں اگر فیس اچھی ہو۔ تم نے مجھے کتنی فیس دی تھی۔ پانچ یا چھہ ہزار؟

”دیے تو دس ہزار تھے“

” خیر، تم تو سب کام مجھ پر چھوڑ کر ماسکو چلے گئے تھے۔ بس یہ کہہ کر کہ تمہیں سونیا سے طلاق دلوا دوں۔ اس کا نام سونیا ہی تھا نا؟“

”ہاں، وہ سونیا ہی تھی۔ سونیا مالوینا۔“

” تو خیر، سونیا تھی تو معمولی سوداگروں کے خاندان سے، لیکن بہت با وقار اور وضع دار تھی۔ اسے بے وفائی کا الزام اپنے سر لینے کے لئے مجھے کیا کیا حربے استعمال کرنے پڑے۔ وہ تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ اسے تم سے محبت تھی لیکن وہ مجھ سے نفرت کرتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ میں فیس کے لالچ میں تمہیں طلاق پر اکسا رہا ہوں۔ میں جب بھی سونیا سے ملنے کے لئے اس کے گھر جاتا وہ زور سے اپنی ملازمہ کو آواز دے کر کہتی، اس بدمعاش شاپکن کو کہو یہاں سے دفعہ ہو جائے اور کبھی اس گھر کا رخ نہ کرے۔

میں نے ہزار کوشش کی کہ اس سے مل کر اسے قائل کر لوں، خط بھی لکھے، لیکن وہ مجھ سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ مجبور ہو کر ایک تیسری پارٹی کو درمیان میں ڈال کر بڑی مشکل سے اسے دس ہزار روبل دے کر الزام اپنے سر لینے پر راضی کیا۔ اس کے لئے یہ رضامندی آسان نہ تھی۔ لیکن وہ دس ہزار کی مزاحمت نہ کر سکی۔ دس ہزار روبل اس غریب لڑکی کے لئے بہت بڑی رقم تھی۔ وہ ب ہت روئی۔ غصے سے اس نے میرے منہ پر تھوکا بھی۔ لیکن بلآخر جھوٹے حلفیہ بیان پر دستخط کر کے بے وفائی کا الزام اپنے سر لے لیا۔ اور خود ہمیشہ کے لئے اپنی ہی نظروں میں گر گئی۔“

”لیکن میں نے تو تمہیں پندرہ ہزار بھجوائے تھے۔ پانچ ہزار کا کیا بنا؟“

”ہاں، ہاں، تم نے پندرہ ہزار ہی بھجوائے تھے۔ خیر اب تو پانی سر سے گزر چکا۔ وہ پانچ ہزار میں خود کھا گیا۔ میں نے تم دونوں کو دھوکہ دیا۔ اب شرمندہ ہونے کا کیا فائدہ۔ میں دولت بنانے پر تلا ہوا تھا۔ تم خود ہی بتاؤ ازلکوف، اگر تم جیسے دولتمند لوگوں سے پیسے نہ بٹورتا تو ایسے اللے تللے کی زندگی کیسے گزارتا۔ تم خوش قسمت رہے۔ تمہیں طلاق بھی مل گئی۔ تم نے دوسری شادی بھی کر لی۔ تمہاری پیشکش کو شہر کے لوگوں نے دریا دلی سمجھا۔ لیکن مجھ سے سب نفرت کرنے لگے۔ ہر ایک مجھ سے گریزاں رہنے لگا۔ میں نے دولت تو بنا لی لیکن اس کے عوض اپنی عزت اور توقیر بیچ ڈالی۔ یہ بڑی دکھ دینے والی باتیں ہیں اب ان کو بھول ہی جایئں تو اچھا ہے۔“

”خیر، مگر یہ بتاؤ، سونیا نے باقی زندگی کیسے گزاری؟“
ازلکوف نے سوال کیا

”بہت ذلت سے۔ دس ہزار روبل اس کو راس نہیں آئے۔ یہ نئی دولت شراب کے نشے کی طرح اس کو چڑھ گئی تھی۔ شاید اسے اپنے وقار اور اپنی عزت کو بیچ دینے کا شدید دھچکا لگا تھا یا اسے اس کا ضمیر ملامت کر رہا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو بھلانے کی کوشش کی۔ اس نے کثرت سے شراب پینی شروع کر دی۔ فوج کے نوجوان افسروں کی صحبت میں وقت گزانے لگی جنہیں صرف اس کے جسم میں دلچسپی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس پیاری سی خوبصورت سونیا کے چہرے پر کرختگی کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے۔ اب اسے اپنی شہرت، عزت، وقار، کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی“

”پھر کیا ہوا؟“

” ایک دن میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور سونیا داخل ہوئی۔ وہ نشے میں دھت تھی۔ اس کے ہاتھوں میں نوٹوں کی ایک گڈی تھی۔ اس نے چلاتے ہوئے کہا، یہ لو اپنے منحوس روبل۔ مجھے تمھاری خیرات نہیں چاہیے۔ اور یہ کہ کر نوٹ میرے منہ پر دے مارے اور بھناتی ہوئی میرے دفتر سے نکل گئی۔ میں نے نوٹ گنے۔ نو ہزار پانچ سو روبل تھے۔ اس نے اس تمام عرصے میں صرف پانچ سو خرچ کیے تھے“

” یہ رقم کہاں گئی؟“ ازلکوف نے اب غصے سے پوچھا۔

”یہ سب پرانی باتیں ہیں۔ تیس سال میں دنیا بدل جاتی ہے۔ تم پوچھ رہے ہو کہ یہ رقم کہاں گئی؟ وہیں جہاں اسے جانا تھا۔ میری جیب میں۔ تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ ذرا صبر کرو۔ ابھی کہانی مکمل نہیں ہوئی۔ دلچسپ حصہ تو اب آنے والا ہے۔ ایسی باتیں تو صرف ناولوں میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔

”ایک مرتبہ میں شراب کے نشے میں رات دیر سے گھر پہنچا۔ دروازہ کھول کر لیمپ جلایا تو دیکھا سونیا میرے صوفے پر بیٹھی ہے۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ نشے میں تھی۔ اس نے غصے میں چیخ کر مجھ سے کہا کہ میرے پیسے فوراً مجھے واپس کر دو۔ لگ رہا تھا جیسے پاگل ہو گئی ہے۔ اس کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ اس کا بس چلتا تو وہ میری جان لے لیتی۔

وہ دیوانگی میں چیختے ہوئے کہہ رہی تھی۔ اگر میں نے برا بننا ہی ہے تو میں اچھی طرح بری بنوں گی۔ میرے پیسے واپس کرو۔ فوراً واپس کرو، ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گی، یا اپنی جان دے دوں گی۔ ”“

”تو کیا تم نے؟ تم نے اسے روبل واپس کر دیے؟“
” میں پاگل تھا کیا؟ میں نے اسے روبل دیے۔ لیکن صرف دس روبل“
اب ازلکوف غصے سے تمتما رہا تھا۔

”یہ تم نے کیا کیا؟ تم ایسی درندگی کیسے دکھا سکتے تھے؟ اگر تم خود وہ پیسہ کھا پی کر برابر کرنا چاہتے تھے تو مجھے کیوں نہیں لکھا؟ میں یہ پیسے بھجوا دیتا۔ مجھے تم نے اندھیرے میں کیوں رکھا؟

”میرے پیارے ازلکوف“
اب شاپکن نے ایک سر پرستانہ انداز اختیار کر لیا تھا۔

”مجھے یہ بتاؤ ازلکوف، میرے لکھنے کا کیا فائدہ ہوتا۔ سونیا نے تو خود تمہیں خط لکھا تھا۔ جب وہ ہسپتال میں اپنے بستر مرگ پر تھی۔“

”ہاں، اس کا خط آیا تو تھا لیکن میں اتنا مصروف تھا کہ مدت تک وہ خط کھول ہی نہ پایا۔ لیکن تم نے اس کی مدد کیوں نہیں کی؟“

ازلکوف نے خفیف سا ہو کر جواب دیا۔
شاپکن نے پھر سرپرستانہ انداز میں کہا۔

”دیکھو ازلکوف، تم پرانی باتوں کو آج کے معیار پر نہیں پرکھ سکتے۔ آج اگر سونیا مجھ سے پیسے مانگنے آئے تو شاید میں اس کو ایک ہزار روبل دے دوں۔ لیکن وہ وقت اور تھا۔ اس وقت وہ دس روبل بھی میں نے اسے مفت میں نہیں دیے۔ ان کی پوری قیمت وصول کی۔“

شاپکن نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا۔

”وہ دس روبل مجھے مہنگے نہیں پڑے۔ خیر یہ نہایت کریہہ کہانی ہے۔ جو ہوا سو ہوا۔ اب اسے بھلانا ہی بہتر ہے۔ یہ لو، ہماری منزل بھی آ گئی“

گھوڑا گاڑی چرچ سے منسلکہ قبرستان کے دروازے پر رکی۔ دونوں نیچے اتر کر ایک محرابی دروازے سے ہوتے ہوئے قبروں کے درمیان بنی پگڈنڈی پر گرجا کی جانب چلے۔ چیری کے سوکھی شاخوں والے درختوں، قبروں پر نسب صلیبوں اور کتبوں کے پتھروں پر ہلکی ہلکی برف پڑی ہوئی تھی سورج کی شعاعیں برف پر قوس قزح کے رنگ بکھیر رہی تھیں۔ ہوا میں لوبان اور تازہ کھدی ہوئی مٹی کی مہک تھی۔

”ہمارے چرچ کا یہ قبرستان کتنا پر سکون ہے“
ازلکوف نے جذباتی ہو کر کہا۔
”ہاں، ادھر لوہے کے جنگلے سے پرے سونیا کی قبر ہے۔ کیا تم دیکھنا چاہو گے؟“

دونوں ساتھی مڑے۔ لوہے کے جنگلے کے دائیں طرف مٹی کے ایک ابھار پر ایک چھوٹا سا کتبہ لگا ہوا تھا جس پر سونیا کا نام اور تاریخ وفات لکھی تھی۔

شاپکن نے کہا۔ ”ایک لیفٹیننٹ نے قبر اور کتبے کا خرچ اٹھایا تھا“

ازلکوف نے خاموشی سے سر سے ہیٹ اتارا۔ شاپکن نے پہلی دفعہ دیکھا کہ اس کا سر بالوں سے محروم ہو چکا تھا اور جو تھوڑے بہت رہ گئے تھے وہ بالکل سفید ہو گئے تھے۔ اس نے بھی پیروی میں اپنی ٹوپی اتاری اور اب سورج کی چمکدار دھوپ برف پر ہی نہیں بڑھاپے کے ان دوترجمان سروں سے بھی منعکس ہو رہی تھی۔ دونوں نے قبر کی طرف دیکھا۔ دونوں کے ذہنوں میں مختلف خیالات متلاطم ہوئے لیکن بہت دیر تک کوئی ایک لفط بھی نہ بولا۔ بلآخر شاپکن نے خاموشی کا سکوت یہ کہ کر توڑا،

”سونیا آرام سے سو رہی ہے۔ اسے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نے بے وفائی کا الزام لیا، شدت سے شراب نوشی کی یا فوجی افسروں کے لئے کھلونا بنی۔ لیکن ازلکوف تم کو ایک بات ماننی پڑے گی۔“

ازلکوف نے پوچھا۔ ”وہ کیا؟“
”وہ یہ کہ ماضی جیسا بھی تھا، کتنا ہی نفرت انگیز تھا، لیکن کم از کم اس سے بہتر تھا“
شاپکن نے اپنے سر کو انگلی سے چھوتے ہوئے کہا۔

” میں کبھی موت کے بارے میں نہیں سوچتا تھا۔ مجھے خیال آتا کہ اگر موت سے میری مد بھیڑ ہوئی بھی تو میں موت کو غچہ دے سکوں گا۔ لیکن اب؟ خیر اب ان باتوں میں کیا رکھا ہے؟ کیا فائدہ؟“

ازلکوف پر اچانک شدید اداسی نے غلبہ پا لیا تھا۔ اسے یاد نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ کبھی زندگی میں رویا ہو لیکن اس وقت رونے کی خواہش اتنی ہی شدید تھی جتنی کسی زمانے میں محبت کرنے کی خواہش۔ وہ رونا چاہتا تھا۔ دل کھول کر۔ بغیر کسی تحفظ کے، بغیر کسی رکاوٹ کے، بغیر کسی شرمندگی کے۔

اسے اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی محسوس ہوئی۔ گلے میں اک خراش سی چبھی لیکن، لیکن شاپکن ساتھ کھڑا تھا اور ازلکوف اپنی کمزوری اس پر آشکار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ شاپکن کو اپنی کمزوری کا گواہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ ازلکوف اچانک مڑا اور چرچ میں داخل ہو گیا۔

دو ڈھائی گھنٹے بعد، چرچ کی انتظامیہ سے پروجیکٹ کے بارے میں گفتگو سے فارغ ہو کر جب اس نے دیکھا کہ شاپکن چرچ کے لوگوں سے باتیں کر رہا ہے وہ نظریں بچا کر سونیا کی قبر کی طرف روانہ ہوا۔ قبر پر پہنچ کر ازلکوف نے چوروں کی طرح ادھر ادھر دیکھا اور پھر یہ یقین کر کے کوئی اسے نہیں دیکھ رہا وہ کتبے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا جس پر سونیا کا نام لکھا تھا۔ اسے لگا جیسے کتبے سے ایک عکس جھانک رہا ہے لیکن یہ ایک شرابی، بد چلن اورطلاق یافتہ عورت کا عکس نہیں بلکہ ایک غمگین، مایوس اور معصوم نوجوان لڑکی کا عکس تھا۔

اب میں رونے کی حسرتیں نکال سکتا ہوں۔ جی بھر کے رو سکتا ہوں۔

لیکن آنسوؤں کے بہنے کا لمحہ گزر چکا تھا۔ اگرچہ اس بوڑھے آدمی نے آنکھیں بھینچ کر آنسوؤں کو نچوڑنا چاہا۔ اپنے جذبات کو جگانا چاہا، لیکن آنسو نہ بہے۔

اس کی آنکھیں آنسوؤں کے لئے رو رہی تھیں۔ تڑپ رہی تھیں، لیکن آنسوؤں نے بہنے سے انکار کر دیا تھا۔ آنسو آنکھوں ہی میں منجمد ہو گئے تھے۔ وہ آنسوبہانے کی نعمت سے محروم ہو چکا تھا۔ مرنے سے پہلے ہی بڑھاپے میں اس کے آنسو مر چکے تھے۔ اس کے آنسوؤں کی بارش نے بدن کے بنجر صحرا کو سیراب کرنا عرصے سے بند کر رکھا تھا۔ رگوں کی سختی نے آنسؤوں کے دریا پر بند باندھ دیے تھے۔ آنسو خشک ہو چکے تھے۔

بڑے شہر کی کامیاب زندگی نے اس کے دل کو پسیجنے میں ناکام بنادیا تھا۔ دل اس کے حلق میں پھنسا ہوا تھا مگر پسیجنے سے منکر تھا۔

دس منٹ تک، جو لگتا تھا اسی کی پوری گزری ہوئی عمر پر محیط تھے، ساکت کھڑے رہنے کے بعد وہ یاس، محرومی اور مایوسی کے جذبات لیے مڑا اور شاپکن کو ڈھونڈنے چرچ کی طرف چل دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply