لڑتے جھگڑے ہمسائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہمسائے بہت عجیب ہوتے ہیں۔ ساتھ ساتھ رہتے لیکن ایک دوسرے سے شدید خار رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کا پورا دھیان اور آنے جانے والے ہر مہمانوں پر نظر بھی رکھتے ہیں۔ گھروں کو ملانے والی دیوار پر مسلسل چوکیدار کھڑے رہتے ہیں جو اپنے تئیں گھر کی حفاظت کے ساتھ ہمسائے کی طرف ہونے والی حرکات و سکنات پر مکمل طور پر چوکنا رہتے ہیں۔ دونوں ہمسائے غریب ہیں لیکن چوکیدار کی تنخواہ سب سے پہلے نکالتے ہیں۔ ان گھروں میں پیدا ہونے والے بچوں کو کچھ مذہبی عقائد اور احترام کے بعد پہلا سبق یہی پڑھایا جاتا ہے کہ ہمسایہ تمھارا دشمن ہے اور اس سے دشمنی تمھارا اپنے گھر کی طرف پہلا فرض ہے۔ اگر اس دشمنی میں تھوڑی سی بھی چوک ہوئی تو تمھاری وفاداری مشکوک ہو جائے گی۔

کچھ ایسے ہی ہمسائے ہیں انڈیا اور پاکستان جیسے جو کبھی اکٹھے تھے پھر الگ ہوئے چاہتے تو ایک دوسرے کو ہنسی خوشی قبول کر سکتے تھے لیکن ایسا ہوا نہیں کیونکہ شاید دونوں ملکوں کی خارجہ ایک جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کی نظر میں اسی دشمنی میں ان کی بقا ہے۔ یہ دشمنی کئی نسلوں پر محیط ہے اور ہر نسل اپنے آنے والی نسل سے اسے نبھانے کے عہد و پیما لیتی ہے۔ ایک عجیب سی نفسیات نے ہم دونوں قوموں کو چاروں اطراف سے گھیرے رکھا ہے۔

شروع کرتے ہیں انڈیا پاکستان کے کرکٹ میچ سے جو ہمارے لئے کسی جنگ سے کم نہیں ہوتا میڈیا اور سوشل میڈیا اس جنگ کو بڑھاوا دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ زور شور سے دعائیں ہوتی ایک دوسرے کو اپنی جیت کا یقین دلایا جاتا غرض یہ کہ زندگی موت کا مسئلہ بنا دیا جاتا میچ کے اختتام پر کسی ایک ملک میں ٹی وی ضرور ٹوٹتے ہیں اور پھر ہارنے والا ملک دشمن ملک کے مخالف کھیلنے والی ہر ٹیم کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ چاہے خود بھی ان کے ہاتھوں بدترین شکست سے دو چار ہوئے ہوں لیکن ہم دشمن کا دشمن دوست والی پالیسی پر ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہیں۔

اسکے بعد باری آتی ہے۔ دونوں اطراف کے ہیومن رائیٹس ایکٹوسٹس کی جو اپنے اپنے ملکوں میں انسانیت کے خلاف اٹھنے والے ہر قدم پر آواز اٹھاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے ملک میں غدار، دشمن ملک کی ایجنسیوں کے ایجنٹس جبکہ دشمن ملک کے ہیروز ہوتے ہیں۔ بھارت کے مسنگ پرسن پر بولنا ایک پاکستانی کے لئے اعزاز اور پاکستانی مسنگ پرسنز کے لئے بولنا اس کی غداری کہلاتا ہے اور یہی رواج سرحد پار بھی ہے۔

دونوں سائیڈوں کے ملیٹنٹس اپنے دیس کے لوگوں کے لئے دہشت گرد اور سرحد پار لوگوں کے لئے ہیرو ہوتے ہیں۔ اپنے ملک کے لوگوں کا اسلحہ اٹھانا دہشت گردی اور ہمسایہ ملک کے لوگوں کا اسلحہ اٹھانا آزادی کی جنگ کہلاتا ہے۔ خون میں لت پت تصویریں دیکھ کر دونوں ملکوں کی پبلک اپنے اپنے جذبہ حب الوطنی کے حساب سے دہشت گرد اور مجاہد کا فیصلہ کرتی ہے۔ اپنے ملکوں میں اٹھنے والی حق کی آواز فتنہ اور دشمن ملک سے اٹھنے والی آوازیں آزادی کے ترانے محسوس ہوتی ہیں۔اپنے ملک میں سٹوڈنٹس تحریکوں میں لگنے والے نعرے تکلیف اور سرحد پار لگنے والے نعرے دل کو تسکین دیتے ہیں اور اس بات کا اندازہ دونوں ہمسایہ ممالک میں کچھ مہینے پہلے چلنے والی سٹوڈنٹس تحریکوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کچھ سٹوڈنٹس اپنے حق کے لئے باہر نکلے غداری کے فتوے لگ گئے لیکن دہلی مظاہروں نے ہمیں بہت متاثر کیا اور وہاں کا عالم ملاحظہ فرمائیں کہ دہلی مظاہروں میں اظہار یکجہتی کے لئے جانے والی اداکارہ کو ہیٹ کمپین اور غداری کے فتووں کا سامنا کرنا پڑا۔

اب چلتے ہیں حادثات کی طرف۔ دونوں دشمن ممالک میں ہونے والے حادثات پر جہاں ایک دوسرے سے اظہار افسوس ہوتا وہیں دونوں اطراف سے کچھ ایسے جملے سننے کو بھی ملتے ”کہ اچھا ہوا مر گیا ہندو تھا، مسلمان تھا“ وغیرہ وغیرہ۔

ابھی کچھ دن پہلے انڈین ایکٹرز کی ڈیتھ اور پلین کریش پر اس قسم کے جملے دیکھنے کو ملے خبروں میں گردش کرتی ننھے بچے کی اپنے نانا کے خون میں لت پت جسم پر بیٹھے ہوئے تصویر انسانیت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے لیکن یہ تصویر بہت سارے ایسے لوگوں کو بھی رلائے گی جو سانحہ ساہیوال کے بچوں کو بھول چکے ہیں جنہیں باپ کی تصویریں اٹھائے سسکتے بلکتے بلوچ بچے کبھی نظر نہیں آتے اور بالکل اسی طرح سرحد پار سے بلوچوں کے دکھ میں گھلنے والے بوڑھے نانا کو دہشت گرد قرار دے چکے ہوں گے۔

نفرت اور دشمنی کے اس کاروبار میں ہم بری طرح جکڑے جا چکے ہیں۔ سفارتی پالیسی جو بھی ہو چاہے سرحدوں پر مٹھائی بٹے یا حکمرانوں کی آپس میں ملاقات، اکٹھی مشقیں ہوں یا بھنگڑے ڈالے جائیں، کشمیر کو شہ رگ قرار دیا جائے یا خاموشی اور صلح صفائی سے تقسیم کر لیا جائے، عوام نے ہر حال میں اس نفرت کو نبھانا ہے۔

جلتی پر تیل کا کام دونوں اطراف کا میڈیا انتہائی احسن طریقے سے سر انجام دیتا ہے۔ بارڈر پر حالات کشیدہ ہوتے ہیں۔ ان کی چاندی ہو جاتی ہے۔ اپنی اپنی فوج کی وردیاں پہن کر یہ لوگ جنگی کمنٹری کرنے سٹوڈیوز میں پہنچ جاتے ہیں جو اپنے الفاظ کی گولہ باری کے زیادہ جوہر دکھاتا ہے اس کی ریٹنگ میں اتنا اضافہ ہوتا ہے۔

دونوں ممالک کے لوگ اپنی اقلیتوں کو دبا کر رکھنا چاہتے ہیں اور دشمن ملک کی اقلیتوں کے لئے پورا حق مانگتے ہیں اور یہی حال عبادت اور عبادت گاہوں کا ہے۔ آئے دن اقلیتوں کو ملک چھوڑنے کے پیغامات دیے جا رہے ہوتے ہیں۔ چاہے یہ پیغامات کسی حکومتی عہدے دار انتہا پسند تنظیم کی جانب سے ہوں یا کسی سوشل میڈیا ایپ پر عام پبلک کی طرف سے نفرت کے اس عالم میں انسانیت آپ کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔

کاش ان دونوں ملکوں کی پبلک یہ سمجھ پائے کہ ہمسایہ ملک سے دشمنی کے جذبے کو تقویت دینا ہی حب الوطنی کی واحد شرط نہیں دونوں اطراف کے صاحب اختیار لوگ اس نفرت کو کم کر سکتے ہیں۔ سرحدوں پر ہونے والا لامحدود خرچہ ملکوں کی غربت ختم کرنے کے کام آ سکتا ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خرچ کیا جا سکتا ہے۔ تھوڑی سی کوشش سے ہم اپنے آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ ماحول دے سکتے ہیں۔ بارڈر پر آئے دن ہونے والی جھڑپوں کو کم کر کے سکون کا سانس لیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کو جنگ میں نہیں بلکہ ترقیاتی دوڑ میں ہرا کر حب الوطنی کے جذبے کو تازہ رکھا جا سکتا ہے لیکن ہم وہی راستہ چنے گے جس میں ملک کا نہیں بلکہ چند گروپس کا مفاد ہے۔
اس لئے ہم دونوں ملکوں نے دشمنی کے رشتے کو مضبوط کرنا ہے اور اسی تعلق کو لے کر گرتے پڑتے آگے بڑھنا ہے جب تک ہم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو جاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *