جانا مے خانے میں ثنا خوان تقدیس مشرق کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلاس ختم ہونے کے بعد اس سے پہلے کہ ہم تتر بتر ہوتے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والی کیتھرین اچھل کے اپنی نشست سے کھڑی ہو گئیں،

” آج میری سالگرہ ہے سو آپ سب شام سات بجے مدعو ہیں “

سب تھکے ماندوں میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا، کچھ نے اونچا اونچا ہیپی برتھ ڈے گانا شروع کر دیا، کچھ تالیاں پیٹنے میں لگ گئے اور کچھ لگے تھرکنے!

معاف کیجیے گا، یہ کہانیاں ہم نہیں کہتے، یہ کہانیاں آپ سے ہمکلام ہونے کی خواہش میں یادوں کے نہاں خانوں سے بھٹکتے بھٹکتے ہمارے دروازے پہ دستک دیتی ہیں۔ہم ان کا منہ دھلا، لباس پہنا کر ایک محفل سجا دیتے ہیں آپ کے حضور، دو بدو کچھ کہنے، کچھ سننے کے لئے۔

“سالگرہ کے لئے کہاں پہنچنا ہے؟” ہم نے پوچھا،

“ماسٹرخت کا مشہور و معروف آئرش پب”

اردو ادب اور شاعری سے ناتا اوائل عمر سے جوڑ رکھا ہو اور ساقی اور میخانے کی حقیقت نہ جانتے ہوں، یہ ممکن نہیں۔ لیکن اب تک یہ افسانے کتابی دنیا تک ہی محدود تھے، اصل میں اگر کبھی سامنا بھی ہوا تو ہم دامن بچا کے ادھر ادھر ہو گئے۔

یونیورسٹی سے واپسی کا سفر کچھ یوں طے ہوا کہ چھاجوں برستے مینہ میں چھاتا تانے سارا راستہ سوچتے آئے کہ کیا کریں؟ جائیں اور زندگی کا یہ رنگ بھی دیکھ لیں یا کافی بنائیں اور موسم، کافی اور غزلوں کے سہارے اپنے من کی دنیا آباد کریں۔ دوستوں اور ان دیکھی دنیا کو جاننے کی عاشقی میں کہیں عزت سادات پہ ہی حرف نہ آ جائے۔

گھر پہنچ کے جب کسی کل چین نہ آیا تو تو سوچا ایک فون کال ہی کی تو دوری پہ ہیں مشیر خاص اور مشیر اعلیٰ، سو پوچھ لینے میں کیا حرج ہے ؟

جواب میں ایک بلند آہنگ قہقہہ تھا اور یہ کہ کسی نے جبراً پلانی ہے کیا؟ کافی کے پیالے میں بھی کافی سرور ہوا کرتا ہے اور میخانے میں کافی بھی دستیاب ہوتی ہے۔ لیجیے جناب تھپکی ملنے کی دیر تھی کہ ہم نے بقول اماں پاؤں میں جوتا بھی نہ پہنا اور دوڑ پڑے۔ اماں یاد آ جاتی ہیں ورنہ باہر اس غضب کی برسات تھی کہ لانگ بوٹس کے بغیر دو قدم چلنا بھی محال تھا۔ تیاری کے ساتھ ساتھ ہماری ایشیائی رگ نے بھی جوش مارا کہ سالگرہ پہ تحفہ بھی لے جانا چاہئے سو ایک پاکستانی سووئنیر بھی رنگین کاغذ میں لپیٹ لیا۔

اندھیری رات میں آئرش پب کے دروازے پہ بتیاں جگمگا رہی تھیں۔ باہر بہت سردی اور اندر قہقہوں، موسیقی، اور جذبات کی گرمی وافر تھی۔ دروازے پہ دو سیکنڈ کے لئے رکے اور پھر یہ کہہ کر اندر کود پڑے کہ اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو موصل کا کیا ڈر؟

اندر روشنی کافی مدھم تھی، نیم تاریک ماحول میں جب آنکھ دیکھنے کے قابل ہوئی تو دفعتاً ریزان پہ نظر پڑی۔ ریزان کا تعلق کینیا سے تھا لیکن بہت نبھتی یوں تھی کہ وہ کسی ایکسچینج پروگرام میں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں کچھ عرصہ کام کر چکی تھیں۔ ریزان کی آواز سن کے جان میں جان آئی کہ کسی ناگہانی کی صورت میں یار غار پاس ہی تشریف رکھتے ہیں۔

ایک بڑی میز کے گرد سب براجمان تھے۔ کیتھرین خوب چہک رہی تھیں لیکن کچھ اداس بھی کہ ان کا وطن بھی یہاں سے بہت دور تھا۔ موسیقی اور بلند آہنگ قہقہوں سے کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ دیس دیس کے لوگ اپنی اپنی کہانیاں کہتے تھے، باہر بارش کا جلترنگ اپنے سر بکھیرتا تھا۔

کچھ ہی دیر میں ویٹریس آن دھمکی، سب کے آرڈر ویسے ہی تھے جو میخانے کا معمول تھا۔ البتہ ایک کافی کا آرڈر لیتے ہوئے بھنویں تن گئیں اور آنکھوں میں گہری حیرانی اتر آئی۔ ہم نے بھی دل ہی دل میں کہا، ساقی تو نے کہاں دیکھے ہوں گے ایسے دل جلے؟

شام گہری ہوتی رہی، بات سے بات نکلتی چلی گئی اور جام چلتے رہے۔ ہم وقفے وقفے سے اچٹتی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ لیتے کہ کوئی تو آپے سے باہر ہونے والا ہو گا؟ کوئی اٹھ کے ڈگمگاتا ہوا جام لہرائے گا؟ کوئی گرتا پڑتا اونچی آواز میں نہ جانے کس دور کے قصے سنائے گا؟

فلمیں دیکھ دیکھ کے بنائے ہوئے ہمارے تصورات کے سب ہی محل زمیں بوس ہو گئے جب کچھ بھی نہ ہوا۔ ہماری میز اور پب میں بیٹھے ہوئے سب ہی لوگ انتہائی مہذب انداز میں اپنے جامے میں سمٹے سمٹائے بیٹھے تھے۔ یقین جانیے سخت مایوسی ہوئی یعنی ہت تیرے کی…

مشروبات کے ساتھ ساتھ کھانا پینا بھی چل رہا تھا۔ ہم نے ایک سلاد کی پلیٹ منگوائی اور پھر ایک اور کافی۔ سالگرہ کا اختتام ہونے کو تھا لیکن ٹھہریے ابھی جہان حیرت کدہ میں کچھ باقی تھا۔

ویٹریس بل لے آئی تھی اور اب سب میز پہ جھکے اپنے ڈرنکس کی تعداد گنتے ہوئے بل کی رقم دیکھ رہے تھے۔ ہم ٹھہرے لاہوری پینڈو جو تحفہ باندھ کے سالگرہ میں شریک ہونے آئے تھے، یہ جان کے بھونچکا رہ گئے کہ یہ سب موج میلہ ذاتی خرچے کا کمال تھا۔ خیر ایک طویل بل میں دو کافی اور سلاد کی پلیٹ ڈھونڈنا قطعی مشکل نہیں تھا۔ سب دونیاں چونیاں گن کے میز پہ رکھ رہے تھے۔

 ہم نے بھی اپنی رقم میز پہ رکھی، کیتھرین کا شکریہ ادا کیا اور غالب کو یاد کرتے میخانے سے باہر نکل آئے… الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *