گوریلے کو تلاش کریں۔ مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ مثال میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی، ذہن میں چپک کر رہ گئی، میری پسندیدہ ہے، شاید اسے مثال کہنا ٹھیک نہیں ہوگا، دراصل یہ ایک تجربہ تھا۔ دو ٹیمو ں کے درمیان باسکٹ بال میچ کروایا گیا، ایک ٹیم نے سیاہ رنگ کی قمیضیں پہنیں اور دوسری نے سفید رنگ کی۔ میچ شروع ہوا تو درمیان میں ایک شخص گوریلے کی کھال پہن کر 9سیکنڈ کے لیے نمودار ہوا اور سکرین کے سامنے اپنی چھاتی پیٹ کر نکل گیا۔ موقع کی فلم کھینچی گئی اور یہ فلم مختلف لوگوں کو دکھا کر پوچھا گیاکہ وہ بتائیں کہ میچ میں سیاہ قمیض والی ٹیم نے ایک دوسرے کو کتنے پاس دیئے۔ لوگوں نے اِس سوال کے مختلف جواب دیئے۔ تاہم فلم دیکھنے والوں سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کوئی گوریلا دیکھا تو تقریباً پچاس فیصد لوگوں نے کسی گوریلے کی موجودگی سے انکار کیا، وجہ اِس کی یہ تھی کہ وہ لوگ سیاہ قمیض والوں کے ’پاس ‘گننے میں اِس قدر محو تھے کہ انہیں چھاتی پیٹتا ہوا گوریلا نظر ہی نہیں آیا۔ اِس تجربے کو The Invisible Gorillaکہتے ہیں، غالباً کتاب کا نام بھی یہی تھا۔ مصنف نے اِس سے یہ نتیجہ نکالا کہ بعض اوقا ت ہمیں سامنے کی چیز بھی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ہمارا دماغ ’اندھا‘ہو جاتا ہے اور اِس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے اِس اندھے پن کا احساس ہی نہیں ہو پاتا۔

اسی سے ملتی جلتی ایک دوسری مثال بھی ہے۔ اسے Muller-Lyer Illusionکہتے ہیں، مولر اُس جرمن ماہر عمرانیت کا نام تھا جس نے یہ تجربہ کیا۔ اسے تحریر سے سمجھانا ذرا مشکل ہے۔ اِس مثال میں دو متوازی خطوط کھینچے جاتے ہیں، ایک خط کے سروں پر اندر کی جانب تیر کا سا نشان بنا دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے خط کے سروں پر باہر کی جانب ویسا ہی نشا ن بنا دیا جاتا ہے جس سے دُم کی سی شکل بن جاتی ہے۔ جب آپ اِن دونوں خطوط کو متواز ی رکھ کر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے دُم والے خط کی لمبائی پہلے خط کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے لیکن جب آپ پیمائش کرکے دیکھتے ہیں تو پتا چلتاہے کہ یہ محض نظر کا دھوکا ہے اور در حقیقت دونوں خطوط کی لمبائی برابر ہے۔ اسے فریب نظر کہتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے دماغ کے اُس حصے میں جس کا تعلق بصارت سے ہے ایک نقطہ سا ہوتا ہے جسے Scotomaکہتے ہیں، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ نقطہ ’فیصلہ ‘کرتا ہے کہ ہمارا دماغ ہمیں کیا دکھانا چاہتاہے یا یوںکہیے کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ سو پچاس لوگوںکے ایک گروہ کو کسی جگہ سیر کے لیے لے جائیں اور واپسی پر اُن سے پوچھیں کہ انہوں نے کیا دیکھا توآدھے لوگوں کی فہرست باقی لوگوں سے مختلف ہوگی کیونکہ بقول شخصے، انسان وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔

اِس زمین پر سات ارب انسان بستے ہیں، یہ اربوں انسان مختلف نظریات اور خیالات کے مالک ہیں، کبھی یہ انسان آپس میں کسی بات پر متفق ہو جاتے ہیں اور کبھی اختلاف کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی نظرئیے سے وابستہ لوگ بھی آپس میں اُس نظریئے کے ہر پہلو کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتے۔ مثلاً دہشت گردی کی مذمت سب کرتے ہیں مگر اِس مسئلے پر ہر زاویے سے اتفاق رائے حاصل کرنا قریباً نا ممکن ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی آلودگی بھی عالمی مسئلہ ہے مگر اِس حوالے سے بھی ہر شخص کے اپنے خیالات ہیں۔ ایک ہی مذہب کے ماننے والے حتی کہ ایک مسلک کے پیروکار بھی آپس میں اختلاف رکھتے ہیں اور یہ اختلاف معمولی نوعیت کے نہیں ہوتے۔ اورتو اور آج کل کرونا وائرس کی وبا جس سے ہر بندے کو خطرہ ہے، کے بارے میں بھی ہر انسان کے سوچنے کا اپنا طریقہ ہے جو دوسرے سے مختلف ہے۔ زیادہ تر انسان جب ایک عقیدہ یا نظریہ اپنا لیتے ہیں یا کسی تحریک یا فکر سے وابستہ ہو کر اُس کی ترویج میں جُت جاتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھنے لگتے ہیںکہ وہ درست سمت میں ہیں اور اُن سے اختلاف کرنے والا یقینا کسی بڑی غلط فہمی کا شکار ہے۔ دوسروں پر کیا طنز کرنا اکثر میں خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جن معاملات پر میں نے اپنی رائے قائم کی ہے کیا اِس بات کا امکان نہیں کہ وہ غلط ہوں؟ جواب ملتا ہے کہ ہاں اِس بات کا امکان موجود ہے تو میں سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھے بھی فلم میں 9 سیکنڈ والا گوریلا نظر نہیں آرہا، کہیں مجھے بھی نظر کا دھوکہ تو نہیں ہو رہا یا کہیں میں بھی صرف وہی چیزیں تو نہیں دیکھ رہا جو میں دیکھنا چاہتا ہوں؟

سچی بات ہے کہ میرے پاس اِن باتو ں کا کوئی جواب نہیں کیونکہ جب کوئی شخص ایسے ذہنی اندھے پن کا شکار ہوتا ہے تو اصل مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اسے اِس اندھے پن کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا۔ جب میں یہ باتیں سوچتا ہوں تو ساتھ ہی مجھے اُن پیران عظام پر رشک آتا ہے جو دو ٹوک پیش گوئیاں کرتے ہیں، حتمی نوعیت کے تجزیئے پیش کرتے ہیں اور جنہیں اپنے خیالات اور نظریات پر پختہ یقین اور ایمان ہوتا ہے کہ وہ غلط نہیں ہو سکتے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص جو کسی بھی فکر، تحریک، عقیدے، نظرئیے یا خیال کو کسی بھی وجہ سے اپنا چکا ہے، اُس کے بارے میں سو فیصد یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ درست ہے ؟میرے پاس اِس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں۔

اب آپ کہیں گے کہ اگر میرے پاس اِن سوالات کے جواب ہی نہیں تھے تو پھر مجھے اِس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہی کیا تھی، خواہ مخواہ صفحے کالے کیے (ویسے صفحے کالے کرنا نسل پرستانہ محاورہ نہیں؟)۔ تو بہت سوچ بچار کے بعد ایک جواب میرے ذہن میں آیا ہے۔ بعض اوقا ت ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کسی معاملے پر ہمارے رائے میں وزن نہیں مگر اِس کے باوجود ہم اسے تبدیل کرنے کی ہمت نہیں رکھتے کیونکہ اُس سے ہماری انا کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اپنی رائے تبدیل کرنا اِس لیے بھی مشکل کام ہے کیونکہ بظاہر اِس سے ہمارا سرمایہ دانش گھٹتا ہے۔ جس طرح کسی کاروبار کی ساکھ کا دارومدار اُس کی اچھی بری شہرت(goodwill) پر ہوتا ہے اور کوئی کاروبار بھی مشکوک شہرت کا متحمل نہیں ہو سکتا بالکل اسی طر ح دانشوروں کا المیہ بھی یہی ہے کہ وہ اِس خوف سے اپنی رائے تبدیل نہیں کرتے کہ اُن کی ساکھ مجروح ہو جائے گی۔ حالانکہ یہ ایک مغالطہ ہے۔ گاہے بگاہے اپنے نظریات کا نیک نیتی سے جائزہ لینا اور اُن کی تطہیر کرتے رہنا ایک قابل ستائش فعل ہے جبکہ ذاتی مفاد، سستی شہرت یا کسی ایجنڈے کے تحت اپنی رائے یہ کہہ کر تبدیل کرنا کہ مجھ سے اندازے کی غلطی ہو گئی تھی  بالکل دوسری بات ہے جو بد دیانتی کے زمرے میں آتی ہے۔ برٹرینڈ رسل نے کہا تھا ہ جب آپ کسی معاملے پر سوچ بچار کریں یا کوئی فلسفہ پڑھیں، تو خود سے صرف یہ سوال پوچھیں کہ حقائق کیا ہیں اور یہ حقائق کس حد تک سچائی کو منکشف کرتے ہیں، کبھی بھی اپنی خواہشات کے دام میں نہ آئیں اور اِس بات کی پرواہ نہ کریں کہ حقائق آپ کو اُس جانب کیوں نہیں لے جا رہے جس طرف جانے کی آپ کی خواہش ہے اور نہ ہی اِس بات کی پرواہ کریں کہ خاص قسم کے نظریات کا پرچار آپ کے لیے سماجی طور پر منفعت بخش ہوگا، صرف اور صرف حقائق کو پرکھیں، دانش کا یہی تقاضا ہے۔

کالم کی دُم: منور حسن صاحب فوت ہو گئے، اب اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ میری اُن سے کوئی ملاقات نہیں، سنا ہے کہ وہ سادہ، دبنگ اور دیانت دار انسان تھے مگر سوال یہ ہے کہ کسی شخص کی سادگی یا درویشی اسے اِس بات کا لائسنس دیتی ہے کہ وہ معصوم بچوں کے قاتلوںکو شہید کہے اور اُن سے لڑنے والے پاک فوج اور پولیس کے جوانوں کو شہید کہنے سے گریز کرے؟ مرحومین کے محاسن بیان کرنا بے شک ہماری تہذیب ہے مگر تاریخ درست رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 111 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *