روات تھانہ اور ہماری ایف آئی آر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسا کم کم ہی ہوتا ہے کہ ہمارے مجازی خدا علی الصبح اٹھ جائیں۔ یہ واقعہ شاذ و نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نماز فجر کے بعد بلکہ کافی بعد سوتے ہیں لیکن اگر تین چار ماہ میں ایک دفعہ وہ رات کو جلد سو جائیں تو صبح صبح گھر میں ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ ان کی پہلی ترجیح اور حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ کسی بہانے سے ہمیں اٹھا دیا جائے۔ سب سے پہلے موبائل کا استعمال شروع ہو جائے گا ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو فون کریں گے اور وہ بھی عین ہمارے کان کے اوپر جہاں سے دوسری طرف بات کرنے والے کی گفتگو بھی صاف سنائی دیتی ہو۔ اس سے فارغ ہوں گے تو اپنے اوزاروں کا بکسا اٹھائے ہر چیز کی ٹھوکا ٹھاکی میں لگ جائیں گے۔ بار بار کمرے میں اندر باہر آنے جانے کا سلسلہ تیزی سے شروع ہو جائے گا۔ اور ہماری نیند ایسی کہ کمرے میں سوئی بھی گرے تو آنکھ کھل جائے۔

آج بھی ایسا ہی دن تھا لیکن آج ہم بھی بستر سے اٹھنے کو تیار نہ تھے۔ جب سرتاج کو عمومی تجربات میں کچھ خاص کامیابی نصیب نہ ہوئی تو برخوردار کو بلا کر ہمارے سرہانے مذاکرات شروع کر دیے۔ باآواز بلند تبادلہ خیالات کے بعد ان کی امید بندھی کہ کامیابی نصیب ہونے ہی کو ہے۔ عین اسی وقت انہیں ہر بھولی بسری بات یاد ستانے لگی۔ جس کا جواب ہمارے پاس، ہوں، ہاں، جی، جی جی، نہیں، پتا نہیں کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔ بلکہ کچھ سوالات پر تو فرمانبردار بیویوں کی طرح بس خاموشی اختیار کی۔ پھر کمرے سے باہر بلکہ گھر سے باہر طوفان کی طرح نکلے اور آندھی کی طرح واپس آ گئے۔ آتے ہی ارشاد ہوا، بیگم موسم بہت خوشگوار ہے چلو واک پر چلتے ہیں۔

جب اس بات کا یقین ہو چلا کہ ہمیں اب ہر حال اٹھنا ہی مقصود ہے تو ہم نے بھی ضد اور بستر دونوں چھوڑ دیے۔ دراصل سرکار کا ایک مسئلہ ہے گھر میں ہمیں دیکھے بغیر محترم کی تسلی نہیں ہوتی۔ بات کریں یا نہ کریں بس ہماری موجودگی کا احساس چلتے پھرتے ان کو رہے تو تب جا کے صاحب کو چین ملتا ہے۔ ناشتہ کرتے ہی ہم بولے اچھا چلیں اب واک پر۔ اس وقت تک محترم خود صوفے پر نیم دراز ہو چکے تھے۔ تو فرمانے لگے کہ میں تو گاڑی پر واک کرنے کو کہہ رہا تھا۔

ہم نے لاحول ولا قوۃ کہا۔ اب لاحول ولا قوۃ کا اثر تھا کہ اسے پڑھتے ہی ہم دونوں گھر سے کچھ دیر کے لیے غائب ہو گئے یعنی گھر کے باہر کچھ دیر چہل قدمی کی۔ ان چالیس پچاس قدموں اور تازہ ہوا کے جھونکوں نے ہمارے اندر ایک ولولہ پیدا کر دیا ہمارے کچھ کام تھے جو بہت عرصے سے کچھ اندیشوں کی بنا پر لٹکتے ہی جا رہے تھے۔ سو آج مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آج تو کر کے ہی دم لیں گے۔ ہسپتال، کوٹ، کچری اور تھانے کے چکروں سے اللہ بچائے۔ مگر کوئی افتاد ان پڑے تو ان جگہوں کا رخ کرنا ہی پڑتا ہے۔ آج ہماری منزل بھی ان میں سے ایک تھی۔

گاڑی پکڑی اور سیدھا روات تھانے کے باہر جا کر بریک لگائی۔ ہمیں ایک ایف آئی آر درج کروانی تھی۔ ہمارا تھانے جانا لازمی تھا۔ کسی چیز کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانی ہو تو اس کے مالک اور اس کے دستخط درکار ہوتے ہیں۔ اس کی ہمیں خبر تھی۔ تھانے کے بارے میں ہمارا خیال وہ ہی تھا جو کہ ایک عام شہری کا ہوتا ہے۔ کہ نجانے ان لوگوں کا رویہ کیسا ہو گا؟ ڈھنگ سے بات کریں گے کہ نہیں۔ نجانے ایک ایف آئی آر کے پیچھے کتنے چکر لگانے پڑیں گے۔ کبھی ایک افسر سے سائن تو کبھی دوسرے سے آج تو بس یہ ہی کرواتے رہیں گے۔

ویسے تو ایک رپورٹ مفت درج ہو جانی چاہیے لیکن رسم دنیا میں نجانے ہم سے یہ چائے پانی کا کتنا خرچہ مانگ بیٹھیں۔ ان کا انداز گفتگو مناسب ہو گا کہ نہیں۔ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کریں گے یا پھر بد تہذیبی سہنی پڑے گے۔ کیا یہ کام بغیر سفارش کے ممکن ہو سکے گا کہ نہیں؟ اور تو اور یہ بھی سوچ لیا کہ ان کے برے برتاؤ پر ہم کچھ نہ کچھ لکھ کر رہیں گے۔

خیر ہم دونوں تھانے میں داخل ہوئے۔ فرنٹ ڈیسک کے پیچھے دو جوان بیٹھے نظر آئے۔ بہت ہی مودبانہ انداز میں انہوں نے آنے کی وجہ دریافت کی۔ ہمارے سرتاج نے چند لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔ انہوں نے کچھ معلومات ہم سے لیں۔ ہمیں بار بار بیٹھنے کی تاکید کی گئی لیکن بوجہ کرونا ہم کہیں بھی بیٹھنے سے پرہیز ہی کرتے ہیں لہذا ہم نے معذرت کی۔ کچھ جگہ ہمارے دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے۔ شناختی کارڈ کی ضرورت پڑی۔ لگ بھگ پندرہ بیس منٹ کے بعد ہمارے ہاتھ میں درج شدہ شکایت کی رسید ہمیں تھما دی گئی۔ ہم حیرت زدہ تھے اور کہہ رہے تھے ہیں بس یہ کام ہو بھی گیا۔ رسید دستانے پہنے ہاتھوں میں تھی اس لیے یقین کرنا لازم ہو گیا تھا۔

ہم ششدر تھے کہ بس اتنا سا مسئلہ تھا اور اس کے پیچھے اتنے اندیشے ہم نے پال رکھے تھے سوچ سوچ کر جان ہلکان ہوئے جاتی تھی کہ نجانے آخر یہ ایف آئی آر درج ہو گی تو ہو گی کیسے؟ پھر اچانک یہ گمان گزرا کہ یقیناً ہم نے نیک کام کیا ہو گا جس کے اجر کی صورت میں ہمارا کام پلک جھپکتے ہی ہو گیا۔ لیکن ایسا ہر گز نہ تھا۔ ان کی سروس، ان کا طریقہ کار ان کا انداز گفتگو سب قابل تعریف تھا۔ دل میں آیا کہ اگر منفی رویے پیش آنے پر قلم اٹھایا جا سکتا ہے تو پھر قابل تعریف رویے پر بھی مثبت بات لازمی ہونی چاہیے۔

جب ہم تنقید کے لیے قلم اٹھا سکتے تھے تو اب کیوں نہیں؟ ویسے جب سے سوشل میڈیا ہر ایک کی گرفت میں آیا ہے تو ہمیں آئے دن ایسی ویڈیو دیکھنے کو ملتی ہیں جس سے وردی والوں اور بغیر وردی والوں کی غلطیوں کو عوام کے سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ اچھا دیکھو یا اچھا سنو تو اس کو بھی بیان کیا جانا اتنا ہی ضروری ہے۔ جو لوگ باعث تعریف ہوں ان کی تعریف کی جانے میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔

تو سچ پوچھیں کہ آج یہ دیکھ کر دل بہت خوش ہوا کہ جو کام کروانے سے پہلے ہم اتنے بدگمان تھے، جن لوگوں کے بارے میں بہت برا سن رکھ تھا جب آج ان سے واسطہ پڑا تو انہوں نے ہمارا مسئلہ حل کرنے میں چند لمحوں کی بھی تاخیر نہیں گی۔ مجھے روات تھانے کے ان جوانوں کے نام تو نہیں معلوم لیکن ان کا اخلاص دیکھ کر ان کا شکریہ اس طرح بھی ادا کرنے کو دل کیا۔ جو بات سب سے قابل ستائش تھی کہ اس تھانے میں ہمارے علاوہ ہم نے کوئی عورت نہیں دیکھی اور ہمارے معاشرے میں عورتوں کو جن نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اس سے آپ لوگ بخوبی واقف ہیں۔ مگر مجال ہے کہ کسی کی نگاہ ہم پر اٹھی بھی ہو۔

ہم نے چلتے چلتے تہہ دل سے تھانے کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

واپس مڑے تو ایک کھڑکی نظر آئی۔ اس کے پیچھے ویسی ہی حوالات دکھائی دی جو ہم بچپن سے ڈراموں میں دیکھتے آئے ہیں۔ ہم نے گاڑی میں بیٹھتے ہی خوشی سے زوردار تالی بجاتے ہوئے کہا کہ حاشر یار آج میں نے سچ مچ کے حوالات بھی دیکھ لیے۔ اس پر حاشر کے جو تاثرات تھے اس پر ہم سارے دن سے سوچ رہے ہیں کہ وہ ہنسنے کے زیادہ قریب تھے یا رونے کے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *