کاش جنرل ضیا الحق کو قانون کے کٹہرے تک لا سکتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیا الحق نے 1977 میں جب بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تھا تو پاکستان لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ پاکستان کی، بحیثیت آزاد مملکت، تیس سالہ مختصر تاریخ میں آئین و قانون اور غریب عوام کے خلاف شب خون مارنے کی یہ تیسری گھناؤنی واردات تھی۔ ہاں البتہ اس بنیادی جرم کے بعد جو کچھ ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ کیا اس کی مثال پہلے مارشل لاؤں میں کم ہی ملتی ہے۔

اس کی اہم وجہ تو یہ ہے کہ اس ظالم ڈکٹیٹر کو امریکی صدر ریگن اور برطانوی وزیراعظم تھیچر جیسے بے حس جرائم پیشہ حکمرانوں کی حمایت حاصل تھی۔ جنرل ضیاء نے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جنگ کے لیے پاکستانی اور افغان نوجوانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنا تھا اور اس کے بدلے میں انہوں نے جنرل ضیا الحق کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں فوٹو بنوانے تھے اور ڈالروں کی بھیک دینا تھی۔

مرد مومن مرد حق نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف دھڑلے سے یہ جرم اسلام کے نام پر کرنے کی حامی بھر لی۔ مذہب کے نام پر جھوٹ بولنے اور اپنا اقتدار لمبا کرنے کی خاطر اس نے اپنے لیے بہت اچھے پارٹنر یعنی جماعت اسلامی کا انتخاب کیا جو اسلام کا غلبہ قائم کرنے کا بیانیہ چلانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

جنرل ضیا الحق اور جماعت اسلامی نے کوئی نیا کام نہیں کیا تھا۔ اقتدار کی خاطر لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے مذہب کا ہتھیار بہت پرانا ہے۔ انہوں نے بھی وہی ہتھیار استعمال کیا۔ لیکن یہ گٹھ جوڑ چونکہ ایک عالمی سازش کا حصہ تھا جس کا سربراہ امریکہ تھا۔ اس لیے امریکہ نے اپنے یورپین پارٹنرز اور عربی کٹھ پتلیوں کے ساتھ مل کر خوب ڈالر بھیجے۔ بیرونی ڈالروں اور ریالوں کا یہ تڑکا لگنے سے یہ پرانا ہتھیار بہت ہی زیادہ مہلک اور دیر پا ثابت ہوا۔

آنے والے ڈالروں کے مزے جنرل ضیا الحق اور اس کے فوجی اور غیر فوجی حواری لوٹ رہے تھے اور اس کی قیمت ہمارے نوجوان جنت کے لارے پر چکا رہے تھے۔ سب سے زیادہ قیمت تو افغانستان نے چکائی جو مکمل طور پر برباد ہو گیا ہے اور اس کے بحیثیت ملک سنبھلنے کی کوئی امید ابھی تک نظر نہیں آتی۔ اس بربادی میں پاکستان کا نمبر دوسرا ہے۔

جنرل ضیا الحق کی امریکی صدر ریگن اور برطانوی وزیراعظم تھیچر کے ساتھ مل کر پھیلائی گئی جہالت بہت دیر پا ثابت ہوئی۔ مرد مومن مرد حق کو کام آئے تین دہائیاں گزر گئیں لیکن اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے کم ہونے کے جہالت ہر روز بڑھ رہی ہے اور نئی نئی شکلیں اختیار کرتی جاتی ہے۔ اب دوسرے فرقوں کے لوگ بھی نوجوانوں کو سڑکوں پر لاتے ہیں، تشدد پر اکساتے ہیں اور طاقت کے اس مظاہرے سے حکومت میں حصہ مانگتے ہیں۔

اس جہالت کا ایک اہم حصہ موت کو گلیمرائز کرنا اور امریکہ اور سوویت یونین کی افغان جنگ کو اسلام اور کفر کی جنگ قرار دینا تھا۔ ایسا کرنے میں وہ بہت کامیاب رہے۔

لیکن جہالت افغانستان اور پاکستان تک محدود نہ رہی۔ گلوبلائزیشن کے دور میں اس کا اثر تو امریکہ اور یورپ تک پہنچا ہے۔ اسلام اور کفر کی جو جنگ امریکی ڈالروں کی مدد سے شروع ہوئی تھی وہ امریکہ اور یورپ کی اندر بھی محسوس کی گئی۔ وہاں پر خود کش حملوں کے علاوہ ہزاروں یورپین نوجوان خواتین و حضرات نے اسلام اور کفر کی جنگ کا دھوکہ کھایا اور عراق اور شام میں آئی ایس آئی ایس کو جوائن کر کے یورپ کو سوچنے پر مجبور کیا۔ دنیا ایک بہت لمبے عرصے کے لیے بدل گئی۔

پاکستان اور افغانستان میں عورتوں کی زندگیوں پر جنرل ضیاء کی ڈکٹیٹرشپ کے بہت ہی گمبھیر اثرات ہوئے۔ ضیا الحق نے مذہب کے نام پر حمایت پانے کے لیے سب مکاتب فکر کے علما سے رائے لیے بغیر ایسے قوانین متعارف کرائے جو معصوموں پر ظلم ہونے کا باعث بنے۔ جماعت اسلامی کے نظریات جب قانون بنے تو یہ عورت کی ذمہ داری ٹھہری کہ وہ اپنے خلاف کیے جانے والے ریپ کو ثابت کرنے کے لیے چار دیانتدار مرد بطور گواہ پیش کرے۔ ایسا نہ کر سکنے پر جیل جائے۔ ہزاروں عورتوں نے ”ریپ ہونے“ کے جرم میں جیلیں کاٹیں۔

بہاول پور کے قریب ایک فضائی حادثے میں جنرل ضیاء کے ہلاک ہونے کی خبر کے سچے ہونے کا جب یقین ہو گیا تو میرے جذبات ملے جلے تھے۔ خوشی تو ہوئی لیکن ساتھ ہی یہ بھی سوچتا تھا کہ وہ اتنی آسانی سے کیسے موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس نے تو پاکستانی عوام کے خلاف بہت بھیانک جرم کیے تھے۔ ہم اسے عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس خواہش میں شاید میری ذاتی غرض یعنی میرے اندر کا غصہ بھی تھا لیکن اس کے ساتھ اس ملک کے حالات کو درست کرنے کے لیے بھی یہ بہت ضروری تھا کہ جنرل ضیا الحق کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا اور انسانیت کے خلاف اس کے جرائم کی سزا دی جاتی۔

لیکن یہ محض میری سادگی تھی۔ ورنہ روز کے واقعات تو یہ بتاتے ہیں کہ دنیا نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی کہ یہاں انصاف مل سکے۔ پچھلے چالیس سال کے واقعات دیکھیں تو بہت سارے بڑے بڑے انٹرنیشنل قاتل، تقریباً سارے امریکی صدور انسانیت کے خلاف جرائم کرتے ہی چلے جاتے ہیں لیکن تاحال قانون کے کٹہرے انہیں دیکھنے کو ترس ہی رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 237 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “کاش جنرل ضیا الحق کو قانون کے کٹہرے تک لا سکتے

  • 06/07/2020 at 10:27 am
    Permalink

    محترم ضیاءالحق سے نفرت کے اظہار میں اسے ظالم کہئے آمر کئیے، جمہوریت کا دشمن قرار دیجئے یہ بھی ایمانداری سے بیان کیجئےکہ:
    خان عبدالولی خان اور اجمل خٹک کو کس نے غداری کا کیس بنا کر جیل میں ڈالا تھا اور جنرل ضیا نے انہیں رہا کرکے جمہوریت کو کس قدر نقصان پہنچایا؟ معراج محمد خان، جے اے رحیم ، مختار رانا ،افتخار تاری، جیسے سیاسی کارکنوں کو کش نے پابند سلاسل کیا، مولانا نذیر، خواجہ رفیق،علامہ عبدالستار خاں نیازی، احمد رضا قصوری پر کش نے قاتلانہ حملے کروائے تھے۔ جنرل ضیا کس کے حسن نظر کا فیضان تھے، نواب صادق قریشی خاں عبدالقیوم خاں جو پی پی پی کے اذلی دشمن تھے کش نے انہیں مناصب جلیلہ پر فائز کیا تھا؟

Leave a Reply