جنرل ضیاء کے جوتے اور جمہوریت سے انتقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل ضیاء الحق صاحب کا زمانہ تھا۔ جنرل صاحب حسب روایت سرکاری غیر سرکاری تقریبات کی رونق بڑھاتے۔ جنرل صاحب حج زکوٰۃ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ جنرل صاحب کی عادت تھی جہاں نماز کا وقت ہوا وہیں سر بسجود ہو گئے۔ یہ سلسلہ یہ عادت سفر و حضر میں بھی جاری رہتی۔ جنرل صاحب ایک تقریب میں تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہنے لگے تو انہیں کچھ دشواری ہوئی جوتا تنگ تھا یا جراب کا مسئلہ۔

کچھ دنوں بعد جنرل صاحب ایسی ہی کسی دوسری تقریب میں رونق افروز تھے کے نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد جنرل صاحب جیسے ہی جوتا پہننے لگے اک صاحب فوراً جوتا پہنانے میں مدد دینے ولا آلہ لے کر دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ جنرل صاحب نے شکریہ ادا کیا۔ مگر پاس کھڑے ساتھی نے کہا خوشامد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ( دنیا حاسدین بد سے خالی نہیں ) ۔ اس سے اگلی تقریب میں جب جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہننے کے لیے کرسی پہ تشریف فرما ہوئے تو وہی صاحب جوتا پہننے میں مدد دینے والا آلہ لے کر قدموں میں بیٹھ گئے۔

احسان تیرا ہوگا مجھ پر دل چاہتا ہے جو کہنے دو مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے مجھے قدموں کی چھاؤں میں رہنے دو۔ جنرل صاحب نے تبسم فرمایا، شکریہ ادا کرتے ہوئے بولے آپ کے اس اہتمام کی ضرورت نہیں میرا یہ جوتا کھلا ہے۔ ساری محفل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پتہ نہیں اس خوشی کی وجہ جنرل صاحب کا تبسم تھا یا جوتا پہنے کی خوشی۔

ہمارے ہاں اوپر سے نیچے تک خوشامد کا کلچر ہے۔ وزیر مشیر اور دوسرے سیاستدان حاکم وقت کی خوشامد پہ لگے رہتے ہیں یہی رواج درجہ بہ درجہ نیچے تک چلتا جاتا ہے۔ بولنے، روکنے ٹوکنے کی عادت ہے نہ طاقت۔ لیڈروں کو معصوم عن الخطا، دیوتا اور اوتار سمجھا جاتا ہے۔ لیڈر چاہے کتنی بڑی غلطی کر لے اس کی تردید کی بجائے تاویل کی جاتی ہے بہانے تراشے جاتے ہیں دفاع کیا جاتا ہے۔ دور کی کوڑیاں لائی جاتی ہیں۔ چہ کنم عقل بہانہ جو۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کے ساتھ نہیں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ سبھی پارٹیوں کا یہی حال ہے۔ یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں۔

کسی میں اتنی جرات رندانہ نہیں وہ یہ کہہ سکے بادشاہ ننگا ہے۔ سیاسی پارٹیاں وراثت کی طرح تقسیم ہوتیں ہیں اور کارکن جہیز کی طرح تفویض کر دیے جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پہ جھول گئے۔ پارٹی ورثہ میں بے نظیر بھٹو کے قدموں میں آ گری۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دیوانے پرستار، جیالے پارٹی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے کوڑے کھانے والے ذلتیں برداشت کرنے والے خوشی سے دھمال ڈالنے لگے۔ بے نظیر قیادت کے قصیدے پڑھنے لگے۔

بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری کے عقد میں آتے آتے سارے سیاسی کارکن جہیز میں لے گئی۔ بے نظیر کا قتل ہوا۔ پارٹی آصف علی زرداری اور بلاول کو وصیت میں مل گئی۔ جس طرح رنگین ریشمی غلاف میں لپٹے آسمانی صحیفوں کو عقیدت سے چوم کر آنکھوں سے لگایا جاتا ہے پیپلزپارٹی کے کارکنان نے بھی وصیت کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر آنکھوں سے لگایا دل و جان سے قبول کر لیا۔ کسی نے حرف انکار بلند نہیں کیا۔ جوانوں کا تو خیر ذکر ہی کیا پیپلز پارٹی کے وہ بابے کارکن جو قائد اعظم سے بھی دس سال بڑے لگتے تھے ان کو بھی بلاول میں ذوالفقار علی بھٹو نظر آنے لگا۔ پرانے جیالے بے نظیر جن کو انکل کہا کرتی تھی وہ بھی بلاول کے سامنے اس پوزیشن میں کھڑے ہوتے جو رکوع و سجود کے درمیان بنتی ہے۔

اک ٹکٹ میں دو مزے لینے والے جمیعت علما اسلام کے پیروکاروں علما کے وارث کہلانے والوں کو مفتی محمود کی شکل مولانا فضل الرحمٰن میں نظر آنے لگی۔ وہ بھی چپ سادھے رہے جو ہر جمعہ منبر پہ جہاد اور حریت کی تقریریں کیا کرتے تھے۔ جن کو شعلہ بیان مقرر کہلوانے کا شوق تھا۔ کوئی دن جاتا ہے مولانا فضل الرحمٰن کا ترکہ مولانا اسعد محمود کو مل جائے گا۔

باچا خان چلے گئے تو ان کی جماعت پکے ہوئے پھل کی طرح ولی خان کی جھولی میں آ گری۔ کسی نے چوں چرا نہیں کی۔ ولی خان سیاست سے کنارہ کش ہوئے تو پارٹی کا وارث اسفندیار ٹھہرا۔ ساری جماعت اسفندیار کی تعریف کرنے لگی۔ اس تعریف کو سب نے حرف حق کہا کسی کو خوشامد نظر نہیں آئی۔ عبدالصمد اچکزئی کی جماعت کا بوجھ محمود خان اچکزئی کے کندھوں پہ آن پڑا۔ کارکن اس انتخاب پہ آج تک بلوچی رقص کر رہے ہیں۔ پوری جماعت میں صرف یہی اک نابغہ تھا جو قیادت کے لائق ٹھہرا۔ نون لیگ کی سیاست، وراثت اور خوشامد الگ کالم کی متقاضی ہے۔
یہ پاکستان کی صف اول کی سیاسی جماعتیں ہیں جو یہاں جمہوریت کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ہے ان کی جمہوریت اور ان کا جمہوریت سے انتقام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply