ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی: ایسی عظمت کو سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ قرآن پاک میں بار بار ارشاد ہوا ہے کہ میں بڑا حکمت والا ہوں۔ بلاشبہ اللہ بڑا حکمت والا ہے۔ وہ انسان کو ایک خاص مدت کے لیے اِس دنیا میں بھیجتا ہے اور وہ بھی کسی مقصد کے تحت۔ جب مقصد پورا ہو جاتا ہے تو اُسے اُٹھا لیتا ہے۔ ہر انسان دنیا میں پاکیزہ پیدا ہوتا ہے بقول ولیم ورڈزوتھ جہاں سے بچہ آتا ہے وہاں کی یادیں اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ آسمانی شان و شوکت اور پاکیزگی ماند پڑ جاتی ہے۔

وڈزوتھ اِس بات کو واضح کرنے سے قاصر ہے کہ کیا تمام بچے اپنا ماضی بھول جاتے ہیں یا کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ ماضی بدستور قائم رہتا ہے۔ میرے خیال میں اکثر بچے اُس ماضی کے زیرِ اثر پروان چڑھتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہوکر صفات کا مرقع بنتے ہیں اور شاید انھی بچوں کے لیے کہا جاتا ہے “ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات “۔ پروفیسر مظہر محمود شیرانی ایسے ہی بچے تھے جو خدائی اور خاندانی روایات کے ساتھ آگے بڑھے تھے اور انھوں نے ہر دو کو انتہائی احسن طریقے سے نبھایا۔

میں اورڈاکٹر مظہر محمود شیرانی تیس سال تک شیخوپورہ ڈگری کالج میں رفیقِ کار رہے۔ مگر میرا تعلق شیرانی صاحب سے، میرے والد پروفیسر سید اکبرعلی شاہ (مرحوم) کی وجہ سے تھا۔ والد صاحب 1962 میں جھنگ سے ٹرانسفر ہوکر گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں تعینات ہوئے تھے۔ چونکہ والد صاحب انگلش، فلسفہ اورفارسی میں ایم۔ اے تھے اس لیے شیرانی صاحب جیسی عالم فاضل شخصیت سے اُن کی جلد آشنائی ہوگئی۔ ” کند ہم جنس بابم جنس پرواز” اس تعلق نے اُن کے درمیان پیر و مرشد کا رنگ اختیار کر لیا۔

شیرانی صاحب سے میرا تعلق ایسا تھا جس میں احترام اور عقیدت کا احساس غالب تھا۔ شیرانی صاحب کی شخصیت میں ایک علمی کشش تھی۔ کالج کے دنوں میں اکثر رفقا شیرانی صاحب سے فیض یاب ہونے کے لیے اُن کے گرد آکر بیٹھ جاتے۔ اُن کی مجلس میں علم و ادب کے ساتھ ساتھ خوش گپیاں اور لطیفہ گوئی بھی جاری رہتی۔ میں اُس مجلس میں زیادہ تر نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ مجھے اکثر گھر یا بازار جانے کی فکر رہتی تھی۔ بہرحال جب کبھی ان کے ساتھ بیٹھنے کا شرف حاصل ہوتا تو ان کی علمی و ادبی شخصیت سے استفادہ ضرور کرتا۔ پرفیسر چودھری نذیر حسین، پروفیسر خورشید بخاری ( مرحوم)، پروفیسر میاں غلام رسول، پرفیسر رانا ثنا اللہ (موجودہ پرنسپل، گورنمنٹ کالج شیخوپورہ) اور پروفیسر محمد عالم (مرحوم) اکثر ان کی محفل میں موجود ہوتے۔ چودھری نذیر حسین ماشااللہ خود بھی علم و ادب میں گندھے ہوئے تھے اور ان کا شیرانی صاحب سے دوستانہ بھی تھا۔ اس لیے شیرانی صاحب کے ساتھ ان کی محفل خوب جمتی۔ کسی دور میں پروفیسر چودھری محمد انور وڑائچ (سابق صدرِ شعبہ فارسی جی۔ سی۔یو لاہور) بھی اس مجلس کے نمایاں رکن تھے۔ ان صاحبانِ علم و دانش کے علاوہ جانِ محفل پروفیسر رانا شجاعت علی، پروفیسر خالد چودھری، پروفیسر قطب حسین وٹو اور پروفیسر فخر حسین بخاری بھی شیرانی صاحب کے حلقہِ ارادت میں شامل تھے۔

ہمارے ہاں بعض اوقات چھوٹے شہروں میں رہنے والے دانش ور اپنے فطری انکسار اور جھجک کی وجہ سے منظرِ عام پر نہیں آتے۔ بھلا ہو پروفیسر چودھری انور وڑائج صاحب کا جو ریٹائر مینٹ کے بعد شیرانی صاحب کو کھینچ کر جی۔ س۔ یو لاہور لے گئے۔ جی۔ سی۔ یو لاہور میں جانے سے ان کے مداحوں کا حلقہ نہ صرف وسیع ہوا بلکہ ان کے عملی و ادبی کارنامے بھی سامنے آنے لگے۔

بہرحال پڑھنے لکھنےکے حوالے سے مجھے جب بھی شیرانی صاحب کی راہنمائی درکار ہوتی میں ” بزمِ شیرانی ” میں جا کر ان سے پوچھ لیتا۔ شیخوپورہ میں ہمارے گھر ایک دوسرے کے نزدیک تھے۔ اس لیے، انھوں نے اگر کوئی تحریر یا کوئی اطلاع مجھ تک پہنچانی ہوتی تو وہ اسے لکھ کر، ہماری گلی سے گزرتے ہوئے بند لفافے میں ڈال کر گیٹ کے اوپر سے پھینک جاتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے یہی طریقہ اختیار کیا گو کہ بعد از ریٹائرمنٹ انھوں نے اپنا گیٹ خاصا اونچا کروا لیا تھا۔ ایک دفعہ موسمِ گرما کی تعطیلات تھیں، جلدی جلدی میں تشریف لائے۔ آنے کا انداز اکثر ایسا ہوتا کہ زیادہ دیر ٹھہرنا نہ پڑے۔ ہاتھ میں دو بڑی بڑی کتابیں پکڑی ہوئی تھیں۔ کہنے لگے یہ میرے پی۔ ایچ۔ ڈی کے مقالہ کی دو جلدیں ہیں اور آپ کو یہ ہدیہ کر رہا ہوں۔ میں نے بصد احترام ان کو قبول کیا اور خود یہ گئے، وہ گئے۔ میری شروع سے یہ عادت رہی ہے کہ جب بھی کوئی کتاب ہدیہ کرے تو اُسے میں ضرور پڑھتا ہوں بلکہ زبانی یا تحریری طور پر رسید بھی پیش کرتا ہوں۔ یہ دونوں جلدیں خاصی ضخیم تھیں، میں انھیں بار بار دیکھتا، مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ خدا کا شکر ہے کہ چھٹیاں تھیں۔ میں نے جلداول کو پکڑا اور اللہ کا نام لے کراُسے پڑھنا شروع کردیا۔ ساتھ ساتھ اہم نکات بھی نوٹ کرتا رہا۔ جلد اول کے بعد جلد دوم کو بھی اسی انداز سے پڑھ ڈالا۔ اب میں اس قابل ہو گیا تھا کہ شیرانی صاحب سے کچھ بات کر سکوں۔ پھر میرے جی میں آیا کہ کیوں نہ ان کا ریویو کیا جائے۔ دورانِ مطالعہ جو نکات نوٹ کیے تھے ان کی مدد سے میں نے ریویو بھی لکھ ڈالا اور شیرانی صاحب نے وہ ریویو ہمارے ایک مشترکہ طالبِ علم کے ذریعے روزنامہ نیوز میں چھپوا دیا۔ کچھ دنوں بعد اخبار سے مجھے 600 روپے کا چیک بھی موصول ہوا۔

ایک دن ہم دونوں کالج سے پیدل گھر واپس آرہے تھے تو اسی تبصرے پر بات شروع ہوگئی۔ فرمانے لگے۔ میں بہت حیران ہوں۔ میں نے کہا وہ کیوں؟ جواب دیا کہ” میں نےتو مقالہ از راہ شفقت ہدیہ کیا تھا “۔ میرے تو گمان میں بھی نہ تھا کہ آپ اس کو اس انداز میں پڑھیں گے۔ بعد میں دوستوں نے بتایا کہ شیرانی صاحب نے اس تبصرے کی ان گنت کاپیاں اپنے چاہنے والوں کو ارسال کیں. اس کے بعد ان کی کوئی کتاب ایسی نہیں تھی جو انھوں نے اشاعت کے بعد مجھے ہدیہ نہ کی ہو۔ میں نے بھی ہمیشہ کسی نہ کسی انداز میں انھیں رسید ضرور دی.

پوسٹل سروس آف پاکستان اختر شیرانی کی صد سالہ برسی پر یاد گاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے محکمہ کو ایک عدد Brochure درکار تھا۔ شیرانی صاحب نے ٹیلی فون پر مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے کہا کہ آپ اردو میں تحریر لکھ دیں، میں اس کا ترجمہ کر دیتا ہوں۔ کسی مصروفیت کی وجہ سے ان کی جانب سے تاخیر ہوئی تو میں نے گھر میں موجود ایک کتاب، “جدید شعرا اردو” سے مدد لی۔ مجھے اس کتاب سے اختر شیرانی پر مواد مل گیا۔ میں نے فوری طور پر Brochure تیار کر کے ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ حیران ہوئے کہ آپ اختر شیرانی پر اتنی معلومات رکھتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ فلاں کتاب سے مدد لی ہے تو مسکرا دیے۔

مجھے اپنے انگریزی تراجم ( بالِ جبریل کی منظومات اور دیوانِ غالب) کے سلسلے میں غالب اوراقبال کے اشعار سمجھنے میں جہاں دقت ہوتی، میں شیرانی صاحب سے رابطہ کرتا۔ وہ عموما تشریح لکھ کر بند لفافہ گیٹ کے اوپر سے گھر پھینک جاتے۔

والدِ محترم پروفیسر سید اکبر علی شاہ کے تراجم کے کام میں بھی شیرانی صاحب کا بہت بڑا کردار تھا۔ وہ اکثر والد صاحب کو ترغیب دلاتے رہتے۔ والد صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد شیرانی صاحب مجھے بھی کہتے کہ شاہ صاحب سے یہ کام کروائیں۔ اقبال کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر اقبال اکادمی پاکستان نے بالِ جبریل کی غزلیات کے تراجم کا کام والد صاحب کو سونپا۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اس میں شیرانی صاحب کی کاوش نمایاں تھی۔ اگرچہ والد صاحب کے تراجم اقبال اکادمی کے رسالہ “اقبال ریویو” میں چھپتے رہتے تھے لیکن والد صاحب کا ترجمہ جب آخری میٹنگ تک پہنچا تو میٹنگ میں ایک ایسے صاحب تھے جو خود بھی اس میدان میں طبع آزمائی کررہے تھے۔ ان کی طبع پر شاید یہ بات ناگوار گزری کہ یہ کون نامعلوم مترجم میدان میں اتر آیا ہے۔

وہ صاحب اس کمیٹی کے صدر بھی تھے۔ انھوں نے والد صاحب کے ترجمے کو اشاعت کے قابل نہ سمجھا۔ اس بات کا والد صاحب اور خاص طور پر شیرانی صاحب کو بہت دکھ ہوا۔ اس کے بعد والد صاحب نے بالِ جبریل کو چھوڑ کر ضربِ کلیم کو پکڑ لیا۔ تقریبا ڈیڑھ سال میں یہ کام انھوں نے مکمل کیا۔ اقبال اکادمی نے” Rod of Moses ” کے نام سے اس کتاب کو شائع کیا۔ یہ کتاب والد صاحب کے انتقال کے بعد اشاعت پذیر ہوئی۔ اس کے دیباچہ میں بطورِ خاص شیرانی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھوں نے دوست کا لفظ استعمال کیا لیکن شیرانی صاحب کی خواہش تھی کہ اس کی جگہ کوئی اور لفظ ہوتا۔

 شیرانی صاحب کا معمول تھا کہ ہر عیدالفطر کے موقع پر پروفیسر صدیق علی مرزا (مرحوم) کی رفاقت میں والد صاحب کو سلام کرنے آتے۔ تھوڑی دیر تشریف رکھتے۔ حقے کے کش لگاتے۔ ادبی گفتگو ہوتی اور پھر چلے جاتے۔ اس دوران میں میرے چھوٹے بھائی تنویرحسین (مرحوم)، امیر حسین سید (مرحوم) اور کرنل اختر حسین بھی شیرانی صاحب کو سلام کرنے آ جاتے۔ تنویر حسین اور امیر حسین تو کالج میں ان کے شاگرد بھی تھے۔ شیرانی صاحب ہم چاروں بھائیوں سے ہمیشہ بڑی شفقت فرماتے۔ عید الفطر پر ملاقات کا یہ سلسلہ والد صاحب کی وفات کے بعد بھی کئی سال تک چلتا رہا لیکن اب ان کے ساتھ پروفیسر نذیر حسین اور پرفیسر میاں غلام رسول صاحب بھی ہوتے۔ وہ کمرہ جہاں ہم بیٹھتے تھے والد صاحب کی حیات میں ان کے زیرِ استعمال تھا، ایک دفعہ عید کے موقع پر شیرانی صاحب کے منھ سے یہ بات نکل گئی کہ ہم تو بڑے شاہ صاحب کو سلام کرنے آیا کرتے تھے۔ میں نے ان کی بات کو اچک لیا اور کہا مجھے علم ہے۔ آپ میرے لیے نہیں آتے۔ آپ تو مزار پر حاضری دینے آتے ہیں۔ یہ جملہ سن کر کافی دیر مسکراتے رہے۔

ان کی شخصیت میں ایک علمی رعب اور دبدبہ ضرور تھا لیکن غرور اور تکبر کا شائبہ تک نہیں تھا۔ وہ سراپا محبت تھے ان کا ایک جملہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ کچھ سال پہلے وہ عمرے کی ادائیگی کے بعد جب پاکستان واپس آئے تو ائیرپورٹ سے علی الصبح اپنے گھر شیخوپورہ پہنچے۔ میں اس وقت صبح کی سیر کے لیے نکلا ہوا تھا۔ جب میں ان کے گھر کے قریب پہنچا تو شیرانی صاحب اپنی فیملی کے ساتھ تھے اور اپنا سامان گھر کے اندر رکھ رہے تھے۔ ہمارا دور سے آمنا سامنا ہوا۔ میں فیملی کی وجہ سے قریب نہ گیا۔ اگلے دن جب میں انھیں عمرے کی مبارک باد دینے ان کے گھر گیا تو کہنے لگے شکر ہے، کل صبح سویرے گھر پہنچنے پر سب سے پہلے آپ کا دیدار ہوا۔

 شیرانی صاحب نمود و نمائش سے دور ایک ایسے انسان تھے جنھیں علم و دانش کا چرچا کسی صورت قبول نہیں تھا۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی خاندانی روایات کا پاس رکھتے ہوئے ہر کسی کی مدد فرمائی۔ یقینا ہر وہ شخصں جو ان کے قریب رہا ہے ان کے متعلق یہ جملہ ضرور دوہرائے گا کہ ” ہمارے خانوادے پر ان کی محبت اور شفقت کا کوئی حساب نہیں” شاید وہ یہی مقصد لے کر اس دنیا میں آئےتھے۔ ایسی عظیم ہستی کو سلام۔۔۔۔

 “True greatness wears an invisible cloak “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
پروفیسر انور حسین سید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply