جدیدیت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جدیدیت بنیادی طور پر آرٹ سے متعلقہ شے کا نام ہے، آرٹ کو زیر بحث لانا ہی جدیدیت کا اصل مقصد ہے، ہم اس اعتبار سے جدیدیت کی متنوع جہات کو یہاں پیش کریں گے، جدیدیت جہاں معاصر شعوری تجربہ ہے وہاں یہ زمانی اعتبار سے اپنے معاصر تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا نام بھی ہے۔ جہاں یہ قدیم سے انکار کرتی ہے وہیں یہ روایت کی بہتر تعبیر بھی کرتی ہے، یہ کہنا بھی صائب ہو گا کہ ہر دور کی اپنی جدیدیت ہوتی ہے، ہر آنے والا دور پچھلے دور کے لئے جدید ہوتا ہے۔

مگر جدیدیت جن معاشروں میں باقاعدہ رجحان یا تحریک کے طور پر موجود ہو وہی معاشرے اپنے سے پچھلے معاشروں کے لئے جدید ہوتے ہیں ورنہ صورت حال اور رائے مختلف ہوتی ہے، دیکھا جائے تو ہر سماج اپنے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا ہے اور ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، جدیدیت بھی ایک طرح سے معاصر تقاضوں سے ہم آہنگی کا نام ہے، جدیدیت کے لئے جو چیز میں سب سے اہم سمجھتا ہوں وہ ہے ”ذہن کی آزادی“ اس کے بغیر انسان خود یا اپنے سماج کو جدید نہیں کر سکتا کیونکہ جب ذہن ہی عقائد کی وادیوں میں جکڑا ہو گا تو انسان کیسے لبرل و سیکولر ہو کر اپنے سماج کے خلا کو پر کرے گا؟

سماج کے خلا کا ادراک عقل و شعور سے ممکن ہے اور عقل یہ کام تب سر انجام دے گی جب اسے عقیدہ کی جکڑ بندیوں سے آزاد کیا جائے گا۔ عقائد، انسان کو معاصر تقاضوں کو قبول نہیں کرنے دیتے۔ میں سمجھتا ہوں انسان نے ابھی تک جتنی بھی ترقی کی ہے وہ ناگزیر ضرورت کے تحت کی ہے، ضرورت نے انسان کو ترقی یافتہ بنایا اور ضرورت نے ہی انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مزید پروان چڑھایا، مثلاً ایک چیز کی ضرورت جب جب محسوس ہوئی ادھر انسان نے سوچنا شروع کر دیا۔ لہذا انسان کچھ نیا تب ہی سوچ سکتا ہے جب وہ عقائد کی وادیوں سے باہر نکلے گا۔

جدیدیت اپنا وجود تب ہی قائم کر پائی جب اسے بعد از رد عقائد سے صاف ستھرا میدان میسر آیا اور ایسا میدان اسے صحیح معنوں میں مغرب میں ہی ملا۔ اس کے لئے مغرب والوں کی کاوشیں و قربانیاں بے مثل ہیں، کلیسا سے نجات کے لئے انتھک تگ و دو اور انقلاب فرانس سے پہلے والٹیئر اور روسو کی روشن فکر تحریریں ہمارے سامنے موجود ہیں، اس کے علاوہ وہاں بے شمار متحرک و جدید سوچ کے حامل انسانوں نے اپنی تحریروں، تقریروں اور تحریکوں کے ذریعے اس سوچ کو فروغ دیا۔

جدیدیت کو جب ہم شعور سے جوڑتے ہیں تو اس میں عقل کا کردار ناگزیر ہو جاتا ہے، شعور کا تصور عقل کے بغیر ممکن نہیں، عقل ہی سے شعور وجود پاتا ہے، لہذا اس درج بالا بات کی بنیاد پر ہم جدیدیت کو عقل کی تحریک کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ جدیدیت بنیادی طور پر عقل و شعور کی بات کرتی ہے لیکن عقل و شعور کو جدیدیت کے ساتھ جوڑنے کا مقصد یہ ہے کہ جدیدیت کا اتصال معاصر شعور سے ضروری معلوم پڑتا ہے۔ میں ”عقل“ کی بات روشن خیالی پروجیکٹ کے تحت جدیدیت کے ساتھ ناگزیر نہیں کروں گا، گو کہ دونوں میں ”عقل“ کے کردار کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لیکن دونوں کی سمت الگ الگ ہیں۔ یہ الگ بات ہے جدیدیت کسی بھی شے کو پہلے عقل کے معیار پر پرکھتی ہے بعد ازاں اس شے سے متعلقہ لوازم کی جانکاری شعور سے مشروط ہے۔ عقل جدیدیت کا دروازہ ہے باقی سارا کام شعور کے ذمہ ہے۔

جدیدیت کو ہم شعوری میلان کا نام بھی دے سکتے ہیں کیونکہ یہ اپنے معاصر تقاضوں سے باخبر ہو کر جدید و ناگزیر علوم و اشیا کو قبول کرنے کا نام ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب شعوری طور پر میلان اس طرف ہو گا۔

جدیدیت انسان کو تاریکی سے نکالنے میں مدد کرتی ہے یہ انسان کو خوف و وہم سے بچاتی ہے اور آگے کی طرف دھیان دلواتی ہے۔

جدیدیت جہاں تحریک ہے وہیں اسے میں انفرادیت کی شے بھی سمجھتا ہوں۔ مثلاً ایک انسان داخلی سطح پر خارج کی تفہیم کرتے ہوئے اس کی پیش آمدہ اور معاصر تقاضوں سے بھی آگے کی تعبیر کرتے ہوئے اپنی ذات تک اپنائے ہوتا ہے وہ اپنی ذات میں جدید ہوتا ہے یہ صورت حال میں نے زیادہ تر مذہبی سماج میں دیکھی ہے کیونکہ وہاں جدیدیت کو اپنی ذات کے خول سے باہر نکالنا ایک جرم کے منافی سمجھا جاتا ہے لہذا جدیدیت، انفرادیت کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھتی ہے اور داخلی سطح پر پنپتی رہتی ہے۔

جدیدیت انسان کو نئے شعور کی راہ دکھاتی ہے۔ جدیدیت ایک لحاظ سے وقت سے آگے کی چیز ہوتی ہے۔ جدید سماج میں اپنے ناگزیر تقاضوں و ضرورتوں کی قبل از وقت پیشین گوئی کر لی جاتی ہے، نہ صرف کر لی جاتی ہے بلکہ اسی کے مطابق عصر حاضر میں علوم و فنون اور اشیا کو ترتیب دینا بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ تو وہ معاصر دور میں مکمل عملی صورت میں بھی نظر آتا ہے۔

جب ہم جدیدیت کو اتھارٹی کے خلاف کہتے ہیں تو اس سے بالخصوص عقائد کے جبر کی اتھارٹی مراد لی جائے اور دوسرے معنوں میں قدامت پرستی کی حتمیت کو چیلنج کرنا ہے۔ جدیدیت کی یہ بات بالکل صائب ہے کہ جب تک اتھارٹی سے انکار نہیں کیا جائے گا تب تک آزادی و ذہن کی آزادی کیسے ممکن ہے؟ جدیدیت کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ اتھارٹی و قدامت سے مفر کرے، تبھی کوئی بات بن سکتی ہے۔ آزادی ہی نئی سوچ کی ضامن ہے اور اتھارٹی آزادی کے خلاف ہے۔

اشیا کو ڈیزائن کرنے کا فن جدیدیت کے زیر اثر ہی پروان چڑھا بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہو گا کہ یہ فن اس تحریک کے ہی زیر سایہ فروغ پذیر ہوا۔ اشیا کو ڈیزائن فن و دولت سے کیا گیا۔ اس میں بنیادی اہمیت جدید خیال کو جاتی ہے، پہلے خیال آیا ساتھ فن کا عمل بھی دماغ میں چلا اور اب اس کو عملی شکل دینے کے لئے سرمایہ کی ضرورت تھی۔ سو، سرمایہ دار نے اپنا سرمایہ لگایا اور اس جدید خیال کو فن کے ذریعے عملی صورت دے دی یہ خیال بھی ابتدا میں طبقہ امرا کے ذہن کی پیداوار تھا انہوں نے ہی اپنے خیال، فن اور دولت سے اسے مکمل کیا، اسی لئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جدیدیت خاص لوگوں کی شے تھی۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ جدیدیت اشیا و علوم کی توڑ پھوڑ کرتی ہے، جب کسی بھی چیز کو جدید کیا جاتا ہے تو پہلے ٹوٹ پھوٹ کا عمل ہوتا ہے تبھی تو جدیدیت پہلے روایت و قدیم سے انحراف کرتی ہے پھر خیال و فن سے اسے از سر نو ترتیب دے کر متشکل کرتی ہے یہ سب جدیدیت کہلائے گا۔

ادب میں شعری ہیئتوں کے مختلف تجربات بھی جدیدیت کی دین تھے۔ جدیدیت نے ہر علوم و فنون میں کثیر تجربات کیے اور علم و فن کو متنوع سطح پہ مضبوط کیا۔

رومانویت کے جذبات بھی جدیدیت کے لئے قوت محرکہ ثابت ہوئے کیونکہ علوم و فنون کو جدید کرنا رومانوی جذبے کے بغیر نہ ممکن تھا۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *