تیری چوائس ہی میری چوائس ہے پاپا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا ہینڈ سم وزیر اعظم تقریر بڑی شاندار کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تقریروں کا نتیجہ مختلف آتا ہے۔ وزیر اعظم کی اسمبلی والی تقریر سننے کے بعد نہ جانے کیوں میرے منہ سے بے ساختہ یہ لفظ نکلا۔ بے چارہ ہینڈ سم وزیر اعظم۔ تقریر تقریر ہوتی ہے اور پاکستانی تاریخ میں جانے والے وزیر اعظموں کی تقاریر ایسی ہی ہوتی ہے۔ کرسی مضبوط ہے سے لے کر پانامہ کیس تک سارے احوال ہمارے سامنے ہیں۔

کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں ہوتا ہے کہ وزیر اعظم جلد فارغ ہونے والے ہیں۔ لیکن حالات اور واقعات بہت جلد تصویر کا دوسرا رخ سب کو دکھا دیتے ہیں۔ کامران خان اینکر پرسن ایک پروگرام کرتا تھا ”عجب کرپشن کی غضب کہانی“ یا ”غضب کرپشن کی عجب کہانی“ جو بھی ہے اس ملک کے لئے دونوں ہی سوٹ کرتے ہیں عجب کو پہلے لکھو یا غضب کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ یہ ملک غضب اور عجب طریقے سے ہی وجود میں آیا ہے۔ غضب اس لئے کہ ہندو مسلمانوں پر غضب کے ستم ڈھاتے تھے اور اس غضب سے بچنے کے لئے مسلمانوں نے قائد کی سربراہی میں عجب اور ناقابل یقین قربانیاں دی تھیں۔

اس لئے ابھی تک غضب اور عجب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس ملک کے ساتھ پہلا عجب واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیمار قائد کو کوئٹہ سے کراچی لانے والی گاڑی کا پیٹرول راستے میں ختم ہوا۔ پھر بے چارے قائد کس حال میں کراچی پہنچے وہ بھی غضب کہانی ہی ہے۔ اس کے بعد لیاقت باغ کا واقعہ بھی بڑا عجیب ہی ہے لیاقت علی خان مکہ لہراتے دنیا سے چلے گئے اور غضب یہ ہوا کہ گولی چلانے والا بھی بچ نہ پایا۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری قصہ ختم۔

قصے ختم کہاں ہوتے ہیں ایک قصے کو ختم کرو تو ایک اور کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ اسمبلیاں ختم کرنے اور توڑنے اور بحالی کی بھی عجب اور غضب کہانیاں اس ملک کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ تاریخ سے ہی اندازہ یا سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں وزیر اعظم کو نکالنے اور رکھنے کا عمل یکسر مختلف ہے۔ لیاقت علی خان کے بعد خواجہ ناظم الدین دوسرے وزیر اعظم پاکستان کو غلام محمد گورنر پاکستان نے دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا۔

محمد علی بوگرہ کی بھی گورنر سے نہ بن سکی یوں ان کی اسمبلی غلام محمد گورنر کے ہاتھوں شہید ہوئی۔ اس شہید اسمبلی کو کچھ وقت کے لیے سندھ ہائی کورٹ نے بحالی کا گلوکوز لگا دیا تھا مگر پھر ہوا کیا؟ اس عجب پر جسٹس منیر نے غضب ڈھایا اور سندھ ہائی کورٹ کی اسمبلی بحالی کا قصہ تمام کر دیا۔ یوں جن لوگوں نے اپنی ضرورت پوری کرنی تھی انہوں نے نظریہ ضرورت کو ایجاد کیا۔ چودھری حسین شہید سہروردی اور اسماعیل چندریگر وزراء اعظم پاکستان سب ہی غلام محمد گورنر پاکستان کے دور میں ایک ایک ہوکے رخصت ہوتے گئے اور ایک دن وہ بھی آیا کہ اسی نظریہ ضرورت کو بروئے کار لاتے ہوئے اسکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خان نے غلام محمد گورنر پاکستان کو علاج کے بہانے یورپ بھیج دیا۔

یوں غلام محمد گورنر کا جانشین سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بن گئے اور آئین میں گورنر کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور پھر 1958 میں سکندر مرزا نے ملک میں پہلا مارشل لا لگا دیا۔ ایک تقریر کے حوالے سے بات کہاں سے کہاں پہنچی اور کیسے نہ پہنچے تقریریں ہی ایسی ہوتی ہیں ان تقریروں کو سن کر بہت سے واقعات اور قصے ذہن میں گھوم جاتے ہیں جن کو بیان کیے بغیر بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ اب جب کہ میں یہ بات لکھ رہا ہوں ایک اور قصہ مجھے یاد آ رہا ہے اسے بھی بیان کر ہی دیتا ہوں۔

1977 میں قومی اتحاد کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان اور اس کے ساتھی ٹیلی ویژن پر بھٹو کی تقریر سن رہے تھے اور جب بھٹو نے یہ کہا کہ میں کمزور ہو سکتا ہوں لیکن کرسی میری مضبوط ہے۔ اس پر نواب زادہ نصر اللہ خان نے اپنے ساتھیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا مبارک ہو بھٹو کا اقتدار چھوڑنے کا وقت بہت قریب آیا ہے۔ پاکستانی تاریخ میں سیاست جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ کا چولی دامن کا ساتھ ہے بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے جہاں تم وہاں ہم اور جہاں کوئی نہیں وہاں مارشل لا۔ چاہیے وہ سول مارشل لا ہو یا اصلی۔

جنرل ایوب خان اور سکندر مرزا صدر پاکستان اپنے دور کے یار غار تھے لیکن ہوا کیا؟ ایوب خان نے سکندر مرزا کو معزول کر کے اصل مارشل لا لگا دیا اور خود کو فیلڈ مارشل کہلوایا۔ جس دور کو آپ اٹھائیں بلی اور چوہے کا کھیل ہی ہمیں نظر آتا ہے جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت پاکستان کی تاریخ میں نظریہ ضرورت نہیں بلکہ نظریہ اندھیر ثابت ہوا ہے اور آج کے دن تک اسی نظریہ کو بروئے کار لایا جا رہا ہے بس طریقہ کار ذرا مختلف ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو سچی بتائیں کہ آج جو حالات ملک کے ہیں وہ ہوتے ہر گز نہیں بس یہ تو تبدیلی لانے والوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے زنگ آلود ورلڈ کپ 1992 کو قلعی اور پالش کر کے نمائشی طور پر عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب وقت کے ساتھ جب ورلڈ کپ کا پالش اترتا جا رہا ہے تو کپ کو پالش کرنے والے سوچ رہے ہیں کہ اب اس ورلڈ کپ میں مزید پالش کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے اس لئے اس کو تاریخی نوادرات میں رکھا جائے۔ جیسے پہلے سے ہوتا آیا ہے۔

اصل اصل ہوتا ہے چاہیے وہ ظاہر ہو یا پردے کے پیچھے اور پر دے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے سب کو معلوم ہو یا نہ ہو۔ جاننے والے تو جانتے ہی ہیں کہ پردے کے پیچھے کام کرنے والے اپنے کام میں جتے ہوئے ہیں میرے اور آپ کے کہنے لکھنے اور تقریر کرنے سے کسی کی دم بھی نہیں ہلنی والی۔ بھٹو کی پھانسی سے لے کر جونیجو کی اسمبلی کی فراغت ہو یا جمالی کا استعفا اور شوکت عزیز کا وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ متبادل تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور جس دن وہ حالات ہوں گے اس دن ثابت ہو جائے گا کہ پاکستانی تاریخ میں ایک پیج پر جو لکھا ہوا ہوتا ہے اس میں اضافہ یا کمی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے اور اگر کوئی اس پر مزید کچھ لکھنا چاہیے تو ایسے میں اس پیج کو پھاڑ دیا جاتا ہے یا لکھنے کے لئے نیا پیج درکار ہوتا ہے۔

لگتا یہی ہے کہ نئے پیج کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ اتنا مشکل کام بھی نہیں کہ یہ پیج نہ لکھا جائے یا اس کے لیے بڑے جتن کرنے پڑ جائیں۔ یہ نیا پیج تو بس ایک ٹیلیفون ہی کی دوری پر ہے اور جب ٹیلیفون کی گھنٹی بج جاتی ہے تو خواہ اپوزیشن ہو یا حکومت سب کے سب اچھے بچے بن جاتے ہیں اور اچھے بچے ضد نہیں کرتے ہیں اور اپنے بڑوں کا کہا مان کر روٹی بھی کھاتے ہیں اور پاپا کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں اور ساتھ میں کہتے ہیں ”تیری چوائس ہی میری چوائس ہے پاپا۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ہدایت اللہ اختر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *