اکھ وچ باقی نیر نئیں۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک باپ کو بیٹی کی قبر پہ پچھاڑیں کھاتے دیکھ کے کچھ زخموں کے منہ کھل گئے اور پھر سے رسنے لگے ۔ ہم گزشتہ واقعات سے لگے زخموں کے تعفن اور سڑاند کو عارضی طور پہ فراموش کرتے ہوئے رہ حیات پر پاؤں گھسیٹنا چاہتے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی منظر دانستہ موندی گئی آنکھ میں اس قدر ارتعاش پیدا کرتا ہے کہ ہم پھر سے بلکنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارا راگ پرانا ہے لیکن یقین کیجیے درد پہلے سے فزوں تر ہے کہ کچھ امید نظر نہیں آتی۔

ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جیتی جاگتی بیٹی کو کچھ ناخداؤں کے ہاتھوں سنگ زنی کا نشانہ بن کے موت کی گود میں اتر جانے کا غم کیا ایک باپ کو جینے دے گا؟ وہ باپ جو آسمان کی طرف دیکھ کے دہائیاں دے رہا ہے، مگر آسمان کی طرف ہی کیوں؟ آسمانوں میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔

کیونکہ زمین پہ بسنے والے اندھے اور بہرے خداؤں تک اس کی فریاد پہنچ نہیں پاتی۔ کسی کے گریبان تک اس کے کمزور ہاتھوں کی پہنچ نہیں۔ محلوں میں رہنے والوں کے نزدیک ایک غریب اور اس کی بیٹی کی زندگی کی کیا وقعت؟ غربت کی لکیر سے نیچے جینے والے کیڑے مکوڑے ہی تو ہوا کرتے ہیں۔ جتنے مرضی کچل دو، کچھ فرق نہیں پڑتا، کسی ارباب اختیار کا دل نہیں پسیجتا۔

عورت کی زندگی تو بذات خود ایک سوال ہے، ایک سوال جس کا جواب جرم کی بدصورتی کے ببول نما دیوتاؤں کے پاس نہیں۔ نہ مذہب کی مالا جپنے والوں کے پاس، نہ مفروضہ معاشرتی اقدار کی چھتری میں پناہ لینے والوں کے پاس۔

عورت اس دھرتی پہ اگا ہوا وہ پودا ہے جسے ہر کوئی روند کے گزر جانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ملکیت کا لفظ اس کی قسمت کا ویسے ہی فیصلہ کرتا ہے جیسے کہ کوئی بھی اور شے جو مالک کی نظر کرم کی محتاج ہوتی ہے۔

عورت صرف عورت ہے، انسان نہیں، جو صرف اپنے جسم کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔ اس جسم کے پاس روح اور دل کی موجودگی کے بارے میں نہ کوئی سوچنا چاہتا ہے اور نہ کوئی جاننا۔ ایک مٹی کا بنا ہوا بت رکھا ہے، جہاں چاہے، جو چاہے، کر گزرو۔

مرد کی آسانی کے لئے فرائض کی ایک لمبی فہرست عورت کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے۔ اس سے انحراف کی صورت میں اس کا ٹھٹھا اڑایا جاتا ہے۔

میری شادی قرآن سے! مگر کیوں؟

اری نا سمجھ! شکر ادا کیوں نہیں کرتی، اتنا بڑا مقام ملا، دنیا اور آخرت سنور گئی۔ اب کسی مرد سے بھلا کیا ملتا بیاہ رچا کے!

باپ بھائی کی سزا میں مجھے ونی کیوں؟

سن نیک بخت، بھائی باپ کے نیک کاموں میں تھوڑا ساتھ دے دیا جائے تو کیا غم؟ آخر اسی دن کے لئے تو تجھے چھت اور روٹی مہیا کی گئی تھی۔ ابھی بھی تجھے لاوارث تو نہیں چھوڑا، ایک دوسری چھت اور روٹی کے انتظام کے ساتھ ایک اور سرپرست کے پاس ہی بھیجا نا! یہ بھی شکر کا مقام ہے!

میرا ریپ کیوں؟

نا بی بی نا، اب ایسا اندھیر نہ مچاؤ۔ کچھ نہ کچھ تو تمہاری بھی مرضی ہو گی نا۔ کچھ خطوط کا تبادلہ، کچھ نظروں کے پیام۔ اب وہ تھوڑا کھل کھیلا تو اس میں اس کا کیا دوش ؟

شک کی سزا میں مجھے کاری کیوں؟

ارے لڑکی، اگر چار مردوں کو تیرے کردار میں کوئی کجی کا شک ہوا ہے بھلے غلط ہی سہی تو دوسری عورتوں کو ایک پیغام بھی تو دینا ہے کہ ان کی ہر مسکراہٹ کا انہیں خراج دینا ہے۔ قربانی نہیں کریں گے تو بقیہ سال سکون اور بے فکری سے کیسے گزرے گا؟

میرے منہ پہ تیزاب کیوں ؟

اوہ بھائی، کئ فائدے ہیں اس میں ۔ میک اپ کی ضرورت نہیں پڑے گی، آئینہ نہیں دیکھنا پڑے گا اور پھر گھر کے کاموں میں دل بھی لگا رہے گا۔ شوہر ویسے بھی چہرہ کہاں دیکھتے ہیں؟

چولہا پھٹ کے میرا جسم جھلسا دیتا ہے، کیوں؟

کم عقل عورت جہیز میں اپنا چولہا تو لائی نہیں اور اس پھوہڑ کو اگر سسرال کے گھر کا قیمتی چولہا استعمال نہیں کرنا آیا اور جل گئی تو اس میں ان بےچاروں کا کیا قصور ؟ ایسے ہی فضول میں معصوم شوہر پہ شک!

پندرہ برس کی عمر میں شادی پچاس سالہ مرد سے، کیوں؟

لو اور سنو! بھئ اچھا ہے نا بچی باپ کو یاد کر کے روئے گی نہیں، دن میں باپ کی شفقت اور رات میں … ایک ٹکٹ میں دو مزے!

میرا اغوا کیوں؟

اب یہ لوٹھا کی لوٹھا باہر کدکڑے لگاتی پھریں گی تو سمجھانے کے لئے مرد ہی آئیں گے نا! اور دیکھئے اچھی طرح تفصیل سے سمجھا بجھا کے آخر گھر تک بھی تو چھوڑ جاتے ہیں نا مظلوم مرد!

غیرت کے نام پہ میرا قتل کیوں؟

دیکھئے، اب ایک چیز ہوتی ہے باپ اور بھائی کا شملہ! اب کیا عورت کو اچھا لگے گا کہ برادری میں شملہ نیچے ہو اور ناک کٹ جائے!

 بجلی کے کرنٹ لگا کے جنسی اذیت، آخر کیوں؟

عورت مرد کی کھیتی ہے تو جیسے مرضی استعمال کیا جائے۔ ویسے کرنٹ تو کوئی بڑی بات نہیں، کپڑے استری کرتے ہوئے کئی دفعہ کرنٹ لگ جاتی ہے اب اس میں کیا اتنا شور مچانا!

جائیداد میں میرا حصہ ؟

ارے پاگل عورت ! کیا کرے گی ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ مسجد بنا کے ؟ تجھے سر پہ چھت، تن پہ کپڑا اور دو وقت کی روٹی ہی تو چاہیے وہ تو مرد دیتا ہی ہے اپنی سلطنت نگری میں !

 مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں، کیوں؟

اب بات کچھ یوں ہے کہ ہمارے ملک کی دھوپ بہت تیز ہے۔ لڑکی باہر نکلے گی، رنگ روپ میلا ہو گا۔ پھر رشتہ بھی نہیں ملے گا اور فیر اینڈ لولی کا خرچہ علیحدہ ! پھر لوگ نظر بھی تو لگا دیتے ہیں !

مجھے علم حاصل کرنے کی اجازت نہیں، کیوں؟

خواہ مخواہ موئی عینک لگوائی جائے کتابیں پڑھ پڑھ کے۔ خوبصورت آنکھوں پہ چشمہ لگ گیا تو ظلم تو ہو گا نا۔ آخر لوگ تمہاری آنکھیں ہی تو دیکھتے ہیں !

روزانہ کی بنیاد پہ میرا زدوکوب، کیوں ؟

اب جانے بھی دو! طبیعت میں اضطرار پیدا کرنے کے لئے ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر قران میں اجازت ہے بھئی!

پھر فائدہ دیکھو، مار پیٹ کے بعد شوہر باہر قلفی کھلانے لے جاتا ہے۔ بالکل اس جانور کی طرح جو نکیل ڈالتے ہوئے شور کرے تو چھمک کی ضرب کے بعد چارہ بھی دیا جاتا ہے، آخر دودھ تو دوہنا ہوتا ہے نا!

لیجیے صاحب، ہماری انگلیاں تو فگار ہوئیں اس باپ کا نوحہ لکھتے لکھتے! اب مزید تاب نہیں!

باد صبا میرے پیر کوں آکھیں، اکھ وچ باقی نیر نیئں

انگ نیئں کوئی ایسا باقی جس وچ سو سو چیر نیئں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply