دلہن اور وزیر چننے میں ایک جیسی دشواری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے کالج کے دنوں کے ایک دوست ہیں۔ دوستوں کے حق میں بہت اچھے۔ ہر غلط کام میں بھرپور تکنیکی و فنی امداد دینے کو ہر دم آمادہ و تیار رہتے تھے کہ دوست کامیاب و کامران ہوں۔ عشق پیشہ تھے اور واقعی اسے پیشہ سمجھتے تھے گو وہ اس پیشے میں مالی منفعت کی بجائے ذیلی سہولیات کے خواہاں رہتے تھے۔ شکل صورت بھی ایسی تھی کہ واقعی لاکھوں میں ایک تھے۔ گمان ہوتا تھا کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب کا محاورہ انہیں کے متعلق تخلیق کیا گیا تھا۔ لانبا قد، گورا چٹا رنگ، گھنگریالے بال، کتابی چہرہ اور قطعاً غیر کتابی حرکتیں۔

ان کے برخلاف ان کے برادر بزرگ ایک مثالی مشرقی نوجوان تھے۔ شکل و صورت میں تو وہ بھی اپنے برادر خورد پر گئے تھے لیکن باقی معاملات میں وہ شرم و حیا اور عفت و عصمت کا پتلا تھے۔ بھری جوانی میں بھی ہر پرائی بہو بیٹی کو اپنی بہو بیٹی ہی سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ شادی کا بھی اپنی زبان سے نام تک نا لیا کہ انہیں لاج آتی تھی۔

والدین نے ایک دن خود ہی سوچا کہ بچہ بڑا ہو گیا ہے، برسر روزگار ہے، گھر سونا پڑا ہے، اس کی شادی کر دیتے ہیں۔

حسب معمول سب سے پہلے ایسے رشتے داروں کی فہرست نکالی گئی جن کے گھروں میں مناسب عمر، اچھی صورت اور والدین کے خیال میں اچھی سیرت کی چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد وغیرہ وغیرہ موجود تھیں اور ان کے والدین اشارے کنائے سے بارہا ان میں دلچسپی کا اظہار کر چکے تھے۔

اب معاملہ سخت آن پڑا۔ والدین کسی کزن کو سیمی سیلیکٹ کرنے کے بعد ان برخوردار سے رائے لیتے۔ حرام ہے جو انہوں نے کبھی اپنی طبعی شرافت کے سبب اپنی اس عم زاد کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو، اس لیے اپنے برادر خورد سے مشورہ لیتے تھے جو ہر وقت ان عم زادیوں میں راجہ اندر بنا بیٹھا رہتا تھا۔

برادر خورد نام سن کر کچھ دیر غور کرتا تھا۔ پھر اس کا سفید چہرہ رفتہ رفتہ گلابی ہوتا تھا۔ پھر ہلکا سرخ۔ پھر لال ٹماٹر۔ پھر کہتا تھا ”بھائی اسے رہنے دیں۔ مجھے اب اسے بھابھی کہتے ہوئے بہت شرم آئے گی اور وہ بھی بھائی کہتے ہوئے بہت پریشان ہو گی“۔

سیاست کا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب بھی کوئی حکمران بنتا ہے تو وہی چالیس پچاس الیکٹ ایبل کزن رشتے میں پیش کر دیے جاتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں باہر رشتہ نہیں کیا جاتا، ان سیاسی کزنوں میں سے ہی اپنی دلہن چن لو۔ بس یہی تمہاری لسٹ ہے۔

حکمران کی مجبوری ہوتی ہے۔ نوشہ میاں بننا ہے تو دلہن انہیں سیاسی عم زادیوں میں سے چننی پڑے گی جو کسی پرانے وزیراعظم کو اب بھائی کہتے ہوئے شرماتی ہیں اور وہ سابق وزیراعظم بھی انہیں بھابھی کہتے ہوئے لال ٹماٹر ہو جاتا ہے۔

اس لیے یہ کہنا بیکار ہے کہ فلاں وزیر مشرف کی کابینہ میں بھی تھا، زرداری کی کابینہ میں بھی، نواز شریف کی کابینہ میں بھی وہی رہا اور اب عمران خان کی کابینہ میں بھی اسی کے پاس گھر کی چابیاں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ گھر کی رانی چاہے جو بھی ہو، نوشہ میاں کا وہ کتنا کہا مانتی ہے۔ یا پھر معاملہ الٹا آن پڑا ہے اور نوشہ میاں اس کے مرید ہوئے پڑے ہیں۔
وسعت اللہ خان اپنے ایک کالم میں کیا خوب بات کہہ گئے ہیں کہ ” آپ بے شک برخوردار کو کہیں اور داخل کروا دیں مگر نصاب سب جگہ ایک ہی ہے“ ۔

نصاب تو یہی رہے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1296 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *