فریڈا کاہلو: رنگوں کے جھولے میں بیٹھ کر آسمان چھونے والی عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیو کے ننھے وائرس سے ہونے والی جسمانی معذوری سے ابھی تن من سنبھلا نہ ہو کہ ٹریفک حادثہ جسم کو ادھیڑ ڈالے، خستہ حال رگ و ریشہ اور سوختہ بدن، کیسے جئیں اب؟

اور اس نے جواب ڈھونڈھ لیا!

“اماں، چلیے فریڈا کوہلو کی تصاویر کی نمائش پہ چلتے ہیں”

“ضرور، مجھے فریدہ کاہلوں سے ملنا ہے، نام تو بالکل پاکستانی ہے” ہم شرارت سے مسکرائے،

“کیا کہہ رہی ہیں، کون فریدہ کاہلوں؟”

“تم نہیں سمجھو گی، تم کیا جانو؟ کاہلوں، کلو، بٹر، گردیزی، لغاری، ٹوانہ اور جاٹ” ہم نے اپنے آپ سے سرگوشی کی

میکسیکو کی نامور مصورہ فریڈا کاہلو کی وجہ شہرت اپنے پورٹریٹ بنا کر اپنی ذات کو منوانا اور تصویروں کے ذریعے اپنے اندر کے موسموں کا اظہار کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی پرندہ پنجرے میں قید پھڑپھڑا رہا ہو۔ زخمی پروں کے ساتھ پرواز کی آرزو جس درد، اضطراب، بے چینی کو جنم دیتی ہے وہی فریڈا کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔

فریڈا چھ جولائی انیس سو سات کو میکسکو میں پیدا ہوئی اور صرف چھ برس کی عمر میں پولیو کا شکار ہو گئی۔ ابھی فلک کے ترکش میں کچھ اور تیر باقی تھے۔ سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں بس ایکسیڈنٹ میں ریڑھ، کولہے، کندھے اور پاؤں کی ہڈیاں اس بری طرح ٹوٹیں کہ ساری زندگی کے کرب میں مبتلا کر گئیں۔ سینتالیس برس کی کلُ عمر میں اس کے تیس آپریشن ہوئے۔

زندگی جینے کے لئے فریڈا نے آرٹ میں پناہ ڈھونڈی اور اپنے آپ کو پینٹ کرنا شروع کر دیا۔ اس کی 143 پینٹنگز میں 55 پورٹریٹس اس کے اپنے گرد گھومتے ہیں۔

فریڈا کی ذاتی زندگی بھی بہت نشیب وفراز کا شکار ٹھہری۔ ساتھی آرٹسٹ ڈیگو ریورا سے شادی، علیحدگی، دوبارہ شادی اور ڈیگو کی بے وفائی کے افسانوں سے فریڈا کا دکھ اور آنسو اس کی انگلیوں میں اتر آئے۔ اس نے اپنا حال دل پینٹنگز میں خون جگر سے رنگ بھر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

 “بروکن کالم” نامی پینٹنگ میں اس کے چہرے اور جسم میں آہنی میخیں گڑی نظر آتی ہیں۔ اس کی آنکھ میں آنسو ہیں لیکن وہ تن کے کھڑی ہے اور یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ اس آزمائش کا سامنا کس جرات سے کر رہی ہے۔

“فریڈا اور ڈیگو” نامی پینٹنگ شادی کے فورا بعد بنائی گئ۔ لحیم سحیم ڈیگو کے سامنے چھوئی موئی سی فریڈا نے اس تصویر میں اپنا کردار ایک جنیئس کی محبت میں ڈوبی ہوئی عورت کا دکھایا، اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیے ہوئے ۔

“ ڈیگو کی بیوی ہونا ایک حیرت انگیز تجربہ ہے ، اگرچہ وہ کسی ایک کا ہو کے نہیں رہ سکتا، پھر بھی وہ بہت اچھا ساتھی ہے”

“روٹس” میں وہ زمین پہ نیم دراز نظر آتی ہے اور اس کے پیٹ سے جڑیں پھوٹتی نظر آتی ہیں۔ اس نے اپنے آپ کو زندگی کے درخت سے تشبیہہ دی ہے ایسا درخت جسے وہ اپنے خون سے سینچ رہی ہے۔ اس تصویر میں اس کی ماں بننے کی خواہش بھی عیاں ہے۔

“ میموری دی ہارٹ” نامی پینٹنگ اس وقت بنائی گئی جب ڈیگو کسی اور خاتون کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس پینٹنگ میں نے اپنا دل زمین پہ قدموں میں روندا ہوا دکھایا۔ تصویر میں اس کے پسندیدہ لباس نظر آتے ہیں جن کا ایک ایک بازو نہیں ہے۔ اس کے اپنے دونوں بازو غائب ہیں، بال کٹ چکے ہیں اور چہرہ آنسوؤں سے بھرا ہے۔

 “ میں اور ڈیگو” میں وہ روتی ہوئی نظر آتی ہے اور ڈیگو کا چہرہ اس کی جڑی ہوئی بھنوؤں کے اوپر بنایا گیا ہے۔ وہ ڈیگو سے محبت کر رہی تھی اور اس کی بے التفاتی سے قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی۔ وہ اپنی ڈائری میں لکھتی ہے، “ڈیگو، میں اکیلی ہوں”، کچھ صفحات چھوڑ کے، “میرے ڈیگو اب میں تنہا نہیں ہوں، تم میرے ساتھ ہو ، تم مجھے سلاتے ہو اور تم ہی زندہ کر دیتے ہو”

فریڈا نے “کراپڈ ہیر “ نامی پینٹنگ طلاق کے بعد بنائی جس میں وہ مردانه سوٹ پہنے دائیں ہاتھ میں قینچی تھامے اپنے لمبے گھنگریالے بال کاٹ کے چاروں طرف بکھیرے کرسی پہ بیٹھی نظر آتی ہے۔ یہ بال ڈیگو کو بے حد پسند تھے سو انہیں کاٹ کے پھینک دینے کا معنی مردانہ بالا دستی سے آزاد ہونا تھا۔

“ دو فریڈا” نامی پینٹنگ بھی طلاق کے بعد بنائی گئی۔ اس میں فریڈا نے اپنی شخصیت کے دو رخ ظاہر کیے، روایتی اور ماڈرن۔ روایتی اور ماڈرن ہاتھ میں ہاتھ دیے ساتھ ساتھ بیٹھی ہیں۔ روایتی فریڈا کے زخمی دل سے قطرہ قطرہ خون ٹپک رہا ہے, زیادہ خون بہہ جانے موت منڈلاتی نظر آتی ہے جس کا اظہار بیک گراؤنڈ میں طوفانی بادلوں سے ہوتا ہے۔ ماڈرن فریڈا پرسکون اور بااعتماد نظر آتی ہے۔ روایتی فریڈا معاشرے کا دیا ہوا روپ ہے جبکہ ماڈرن فریڈا نے معاشرے کی روایات کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

“بنا امید” نامی پینٹنگ میں وہ بستر پہ بے بسی کی حالت میں دراز نظر آتی ہے۔ بیماری کی شدت سے بھوک پیاس اڑ چکی ہے اور اب ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ہر دو گھنٹے کے بعد اسے خوراک دی جا رہی ہے۔ جانوروں کی کھوپڑیاں اسی ایزل پہ لٹکی ہیں جس پہ وہ اپنی پینٹنگ بناتی تھی۔

فریڈا اور اس کی پینٹنگز ایک استعارہ ہیں جو عورت کے درد اور ان کہی کو ظاہر کرتی ہیں۔ فریڈا نے اپنی زندگی کو کسی مقفل الماری میں رکھی البم بنانے کی بجائے ایک ایسا آئینہ بنا دیا جس میں ہر کسی کو اپنا چہرہ نظر آ سکتا ہے۔ فریڈا چاہتی ہے اگر عورت آنسو بہائے تو اس کو ساری دنیا دیکھے اور سمجھے۔ عورت کا درد اور مشکلات عورت کی کمزوری نہیں بلکہ اس نظام کے منہ پہ طمانچہ ہیں جن سے عورت گزرتی ہے۔ فریڈا نےعورت کو آخر دم تک ہار نہ ماننے کا سبق دیا ہے۔

سینتالس برس میں زندگی کو خیر باد کہہ دینے والی فریڈا کا آج جنم دن ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *