پائلٹ دوستو گھبرانا بالکل نہیں۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تو کیا ہوا جو پائلٹ نے امتحان جعل سازی سے پاس کیا۔ اسے جہاز اڑانا تو آتا ہے نہ۔ ملک میں لاکھوں اڑن کھٹولے عرف موٹر سائیکل رکشہ سڑکوں پر فلی لوڈڈ ( مکمل پر۔ جسم پر خارش کرنے کی جگہ بھی نہیں ) تیز رفتاری سے دوڑتے پھرتے ہیں انھیں کون لائسنس دیتا ہے؟ وہ ٹرالی دیکھی ہے جو وزن کے زور سے ٹریکٹر کو پہلا گیر لگتے ہی پینتالیس ڈگری پر سلامی دلاتی ہے۔ ٹریکٹر شریف پچھلے دو ٹائروں پر سلامی دیتا سڑک کی زینت بنتا ہے۔ موٹری گدھا گاڑی کو سڑک پر کرتب دکھانے کی اجازت کون دیتا ہے؟

اندھے ہو کیا کبھی سرکاری گاڑی پر سوار نظر نہ آنے والے اس بچہ ڈرائیور کو اشارہ توڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیا کہا منشی کا بیٹا ہے۔ اسے کون پوچھ سکتا ہے؟
کبھی منٹھار بس پر سواری کی ہے؟ ڈرائیور کی مہارت دیکھی ہے۔ جرمنی میں ہو تا تو مائیکل شوماکر کا کوچ ہوتا۔

کیا تم بھول گئے افغان جنگ غلیل سے لڑنے والوں نے کیسے دیکھ دیکھ کر ٹینک اور جہاز اڑانا سیکھا۔ تب تو یو ٹیوب بھی عام نہیں تھی۔ اور سوویت فوج کو افغانی دھول چٹائی۔ آج امریکہ کو بھی پسپائی کے رن وے پر ڈال دیا ہے۔

جو خاص قو میں ہوتی ہیں انھیں کچھ سیکھنے کے لئے ٹرینگ یا لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی بس ان پر تو ایک خاص کرم ہوتا ہے اور راستہ خود بخود بنتا جاتا ہے۔

یہ جعلی اصلی کیا ہوتا ہے۔ کیا جعلی صحافی کامیابی سے جعلی خبریں بیچنے کا دھندا نہیں کر رہے، پریس ریلیز کو اپنی خبر اور ترجمانوں کی ترجمانی کو تفتیشی رپورٹنگ کا رنگ دے رہے؟ کیا جعلی وکیل عدالتوں میں جعلی مچلکے نہیں جمع کرا رہے؟ کیا جعلی حکیم، اتائی اور ٹھیکیدار ہسپتال نہیں چلا رہے؟ کیا جعلی کمپنیاں کاروبار نہیں کر رہی؟ کیا جعلی شراب اور جعلی ادویات نہیں بیچی جا رہیں؟ کیا جعلی مینڈیٹ سے حکومتیں بنائی اور گرائی نہیں جا رہیں؟ کیا جعلی تعلیم نہیں دی جا رہی؟ کیا جعلی ڈگریوں کا کاروبار نہیں ہو رہا؟ جو جتنا جعلی اتنا کامیاب۔ کیا یہ معاشرتی حقیقت نہیں؟

کیا تکلیف ہے پھر اگر جعلی ڈگری والا پائلٹ بن کر اپنی روزگار کما رہا ہے۔ اسے سائیکل چلانی آتی ہے اس نے موٹر سائیکل بغیر لائسنس کے چلائی پولیس نے روکا بھی تو مٹھی میں سلامی دی اور یہ جا وہ جا۔ اور گاڑی کا لائسنس وہ بھی کسی یار دوست کی مہربانی سے بن گیا۔ تو کیا کر لیا تم نے؟ گاڑی تو چلتی رہی۔ اور اب جب اپنے شوق اور لگن سے جہاز اڑانا سیکھ لیا ہے تو امتحان کی رکاوٹ ڈال دی ہے۔ جاؤ نہیں امتحان پاس کرتا جہاز اڑانا ارادہ میں سیکھا اب انگریزی میں امتحان کیوں؟ میٹرک سائنس بار بار فیل ہونے پر آرٹس سے تھرڈ ڈویژن میں اعلی نمبروں سے پاس کیا۔ اب سائنسی ناموں اور انگریزی کی رنگ بازی کیوں؟ اچھا چلو اگر بہت ضروری ہے اور بیرون ملک زیادہ رقم پر نوکری بھی مل جاتی ہے تو اس کا حل بھی تم ہی نکالو۔ یہ پکڑو پیسے اور لاؤ دو بیکار کا کاغذ۔ اب خوش؟

ویسے ون ویلنگ والے من چلے بھی تو موٹر سائیکل اڑاتے ہیں۔ اور جنہیں قانون کی ق بھی نہیں پتہ کیا وہ قانون سازی نہیں کرتے؟ میرے جہاز اڑانے پر اعتراض کرتے ہو۔ اصل بات کام ڈالنا آنا چاہیے۔ اور ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے۔ جعلی تو اور بھی اچھی ہوتی ہے۔ شکر کرنا چاہیے ایسی ذہانت کا جو دیکھ دیکھ کر نقل نقل میں بڑے سے بڑا کام نکال لیتی ہے یہ جہاز اڑنا تو معمولی بات ہے۔ ایک دن آئے گا جب ہم میں سے ایک پائلٹ اڑن کھٹولا خلا میں لے کر جائے گا تم اب بھی حسد کرتے ہو تب بھی حسد کر و گے۔ پر عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے۔ وہ خود اڑنا سکھاتی ہے۔

تو میرے پائلٹ دوستو گھبرانا بالکل نہیں۔ یہ تیز ہوا تو چلتی ہی تجھے اونچا اڑانے کے لئے ہے۔ تو بس اپنے پروں پر بھروسا رکھ۔ تیرے دم سے ہی ہے ان فضاؤں کی رونق۔ وہ دیکھ بالک ایک ٹائر پر سائیکل کیسے دوڑا رہا ہے۔ یہ بھی پائلٹ ہی بنے گا۔ پائلٹ کوئی بناتا نہیں یہ تو بس بچپن سے ہی ہوتا ہے۔ بس موقع ملنا چاہیے سیکھ خود ہی جاتا ہے۔ جہاز اڑانا کون سا کوئی راکٹ سائنس ہے۔ جنونی پائلٹ محاذ کا اگلا مشن مارس ہے۔ تب تک آپ سیٹ بیلٹ باندھ کر ماسک لگا کر اسٹار ٹریک دیکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمران نسیم چغتائی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *