ہم مس انفارمیشن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مس انفارمیشن سوسائٹی میں کیسے پھیلتی ہے، ہم مس انفارمیشن کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس کو سمجھنے میں ڈیجیٹل دنیا اور سماجی نفسیات کے کچھ تصورات مدد گار ہو سکتے ہیں۔

جب ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو کچھ موضوعات کے حوالے سے زیادہ پڑھتے ہیں، سرچ کرتے ہیں یا کچھ لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔ ہماری ایکٹیوٹی کی بنیاد پر ڈیجیٹل دنیا کو چلانے والے الگوردم ہماری دلچسپی کا مواد زیادہ بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنے ارد گرد ایسا ماحول بنا لیتے ہیں جس میں ہمیں من پسند لکھنے اور بولنے والوں کا مواد اور ایسی معلومات ملتی ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں۔ اس کو ٹیکنیکل زبان میں ”ایکو چیمبر“ کہا جاتا ہے۔

اب ہوتا یہ ہے کہ جب ہم سوشل میڈیا دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ چل رہا ہوتا ہے کہ اگر بہت سارے لوگ کسی خبر کے حوالے سے ایک جیسی رائے کا اظہار کر رہے ہوں یا بہت سارے ذرائع ایک ہی طرح کی خبر یا معلومات دے رہے ہیں تو درست ہی ہوں گی۔ اب چونکہ ہم اپنے ارد گرد ایک ”ایکو چیمبر“ بنا چکے ہوتے ہیں تو ہم جتنی بھی خبریں، تجزیے یا معلومات دیکھتے ہیں وہ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ اس سے ہم یقین کرنے لگتے ہیں کہ ہم تک پہنچنے والی معلومات درست ہیں اور ہم با آسانی مس انفارمیشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سماجی نفسیات کے حوالے سے بات کی جائے تو ہم میں سے اکثر لوگ سوشل میڈیا پر ایسے لوگوں کو فالو کرتے ہیں جن سے وہ خود کو نظریاتی سطح پر قریب محسوس کرتے ہیں (مخالف نظریات والوں کو بھی فالو کیا جاتا ہے مگر کم) ۔ نظریاتی قربت سیاسی، مذہبی، فرقہ ورانہ یا پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہو سکتی ہے۔ جب ایسے لوگوں کی طرف سے کوئی معلومات ہم تک پہنچتی ہیں تو ہم ان کی تصدیق کرنے کے حوالے سے کوئی تگ و دو نہیں کرتے۔ مخالف نظریات والے افراد کی معلومات کی مقابلے میں ”ہم خیال“ لوگوں کی طرف سے آنے والی معلومات کو درست مانتے ہیں۔ اس رویے کو سماجی نفسیات کی زبان میں ”ان گروپ بائس“ کہا جاتا ہے۔ اس تعصب کی وجہ سے مس انفارمیشن کا شکار ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ جب ہم سوشل میڈیا پر کسی خاص گروپ یا نظریے کے لوگوں کے ساتھ آن لائن سپیس میں زیادہ گفتگو کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے خیالات کی ترویج میں باہمی حصہ ڈالتے رہتے ہیں تو آہستہ آہستہ ہم اس گروپ کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ اگر پاکستانی ٹویٹر کی بات کی جائے تو اس میں بہت زیادہ پولارائزیشن ہے، لوگ مختلف نظریاتی گروپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر ٹویٹر یوزر کسی نہ کسی نظریاتی گروپ کے حامی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نفسیاتی سطح پر خود کو اس گروپ کے ممبران کے ساتھ بتدریج ہم آہنگ محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس گروپ کی سوچ کو اپنا لیتے ہیں۔

اس گروپ سے آنے والی معلومات اور دلائل کو پرکھنے کا نہیں سوچتے اور اس گروپ سے مختلف سوچنے کی صلاحیت ماند پڑتی جاتی ہے۔ گروپ کی سپورٹ کھو جانے کے ڈر کی وجہ سے اس گروپ سے اختلاف نہیں کرتے۔ ایسے رویے کو ”گروپ تھنک“ کہا جاتا ہے۔ جب ہم ”گروپ تھنک“ کا شکار ہوتے ہیں تو مس انفارمیشن اور پروپیگنڈے کا زیادہ اور جلدی حصہ بن جاتے ہیں۔

مس انفارمیشن کا شکار ہونے کی تیسری بڑی وجہ ہمارے پہلے سے موجود عقائد اور قائم کی گئی رائے ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمیں وہ مواد زیادہ پسند آتا ہے اور سچا معلوم ہوتا ہے جو ہماری پہلے سے بنی ہوئی رائے کو تقویت دے۔ مثال کے طور پر اگر میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو صرف گھر تک محدود رہنا چاہیے اور اسے نوکری نہیں کرنی چاہیے تو کوئی بھی ایسی جھوٹی خبر جس میں نوکری کرنے والی عورت کے بارے میں منفی بات کی گئی ہو، میں اس خبر کی تصدیق کرنے کی بجائے اسے سچ مان لوں گا کیونکہ میرا یقین پہلے ہی بنا ہوا ہے کہ گھر سے باہر کام کرنے والی عورت اچھی عورت نہیں ہوتی۔

سوشل میڈیا پر مس انفارمیشن کا شکار ہونے کی چوتھی بڑی وجہ ”جذباتی ہم آہنگی“ (ایموشنل ہوموفلی) ہوتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی خاص جذباتی کیفیت سے گزر رہے ہوتے ہیں تو ایسے وقت میں جب ہم سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو ملتی جلتی کیفیت والا کوئی پوسٹ نظر سے گزرے تو ہم اسے لائک کر دیتے ہیں اور اسے درست مان لیتے ہیں۔ مثال کے طور اگر ہم کرونا کی وجہ سے پریشان ہیں تو ہمیں کرونا سے متعلق ہر منفی خبر درست معلوم ہو گی۔ سوشل میڈیا پر دیا گیا ہر ٹوٹکا کرونا کا علاج لگے گا۔ جذباتی ہم آہنگی کی وجہ سے ہم خبر کو پرکھنے کی طرف نہیں جاتے۔

جو لوگ مس انفارمیشن پھیلاتے ہیں اور پروپیگنڈا کرتے ہیں وہ سماجی نفسیات کے ان پہلوؤں کا بخوبی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کریں تو کوشش کریں ان پہلوؤں کو مد نظر رکھیں تاکہ مس انفارمیشن کا شکار نہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *