نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے کن آپشنز پر غور ہو رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے گورنری چھوڑنے کے بدلے وفاق میں پانی و بجلی کے مشیر کا عہدہ مانگ لیا اور اگلے الیکشن کے بعد مرکز یا صوبے میں ”بڑی کرسی“ کو ہدف بنا لیا ہے۔ دوسری طرف نئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے سنٹرل پنجاب سے مختلف آپشنز پر غور شروع ہوگیا جبکہ لاہور سے زیر غور امید واروں میں میاں اسلم اقبال کو ترجیح حاصل ہے۔ اس کے علاوہ عثمان بزدار کی تبدیلی صوبے میں بلدیاتی انتخابات تک مؤخر کردینے کی تجویز بھی پیش کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ دو روز قبل پارٹی کے ایک رہنما اور گورنر پنجاب کے دوست نے ان سے ملاقات میں پوچھا ”چوہدری صاحب، فائنل بتائیں آپ نے الیکشن لڑنا ہے یا نہیں؟“ تو چوہدری سرور نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا ”اگلا الیکشن میں نے ہر صورت لڑنا ہے، یہی میرا فائنل فیصلہ ہے“ ذرائع کے مطابق چوہدری سرور نے جہاں ایک طرف آئندہ عام انتخابات سے کم از کم 2 سال پہلے گورنری چھوڑ دینے کا تہیہ کیا ہوا ہے تاکہ سیاست میں دوبارہ حصہ لینے کے اہلیت کی شرط پوری کرسکیں وہیں دوسری طرف اس عرصہ کے لئے مرکز میں وزیراعظم کے معاون خصوصی / مشیر کا عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو اپنی اس خواہش سے آگاہ بھی کر دیا ہے، باور کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے لاہور کے حالیہ دوروں میں ان کی گورنر پنجاب چوہدری سرور سے ملاقاتوں کے دوران چوہدری سرور نے براہ راست وزیراعظم کو اپنی اس خواہش اور مستقبل کی سیاسی منصوبہ بندی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وفاقی حکومت میں بطور مشیر پانی و بجلی کی وزارت میں خدمات انجام دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ۔

مانچسٹر پلٹ چوہدری سرور بارے سب سے دلچسپ اطلاعات یہ ہیں کہ جنرل الیکشن میں قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوجانے کے بعد ان کا اصل ہدف وفاق یا پنجاب کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ حاصل کرنا ہے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر اسی ہدف کے تعاقب میں انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی، دونوں کا الیکشن لڑنے کی ٹھان رکھی ہے اور قریبی دوستوں سے صلاح مشورے کے بعد قومی اور صوبائی نشست کے لئے لاہور کے 2 مختلف علاقوں سے حلقے چنے ہیں ”چوہدری صاحب کہتے ہیں جیت گیا تو پھر ’پی ایم‘ یا ’سی ایم‘ ۔ ۔ ۔ ایس توں تھلے نہیں“

دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ان کے ممکنہ متبادل کے حوالے سے پرائم منسٹر ہاؤس میں مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق سوچا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لئے ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی تقرری ہوجانے کے بعد وہاں کے مبینہ احساس محرومی میں کافی حد تک کمی آ گئی ہوگی لہذا جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار کو ہٹا دینے سے کسی بڑے سیاسی رد عمل یا نقصان کا اندیشہ نہیں تاہم نئے وزیراعلیٰ کے لئے اپر پنجاب سے تعلق رکھنے والے یاور بخاری کی بجائے سنٹرل پنجاب سے کسی رکن پنجاب اسمبلی کو چن لیے جانے پر غور ہو رہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ تخت لاہور کے لئے نیا بندہ لاہور ہی سے لے لیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے موثر انتظامی کنٹرول کا تاثر زائل کرنے میں مدد ملے۔ ۔

ذرائع کے مطابق لاہور سے صوبے کی وزارت اعلیٰ کے 2 مضبوط امیدواروں میں سے علیم خان کے مقابلے میں میاں اسلم اقبال کو سبقت حاصل ہے تاہم ایک تجویز یہ بھی وزیر اعظم ہاؤس میں زیر غور ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے بعد زیادہ تر اختیارات ویسے ہی منتخب ضلعی میئر حضرات کو منتقل کر دیے جائیں گے لہذا بعد از انتخابات منظر نامے میں ایک غیر موثر عثمان بزدار کو مزید چلایا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply