مغربی جمہوریت اور چینی آمریت کے تضادات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تضادات کا مجموعہ بنے میرے چند دوست امریکہ و مغرب کی جمہوری حکومتوں سے تو بغض رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی مغربی جمہوریت کے سائے تلے پیدا ہو کر پروان چڑھے کیپیٹل ازم، پرائیویٹ کارپوریٹ سیکٹر اور فری ٹریڈ اکانومی کے گن گاتے ہیں۔

چین کو محبوبہ سمجھ کر کی اس کی الفت میں رومیو بنے رہتے ہیں، لکین ساتھ ہی سوشلسٹ معاشی نظام کو برا بھی کہتے ہیں۔

حالانکہ کمیونزم صرف سوشلسٹ معاشی انتظام کا نام نہیں ہے۔ نہ ہی مغربی جمہوریت کسی آزاد معیشت، فری مارکیٹ اکانومی یا جدید کیپیٹل ازم کا نام ہے۔

مغربی جمہوریت عوام کو شخصی آزادیاں اور اظہار رائے کی آزادیاں دیتی ہے جب کے کمیونسٹ رجیم انہیں سلب کرتی ہے اور آمریت پر یقین رکھتی ہے۔

کسی سوشلسٹ ریاست کی ڈکٹیٹر کمیونسٹ پارٹی یا جمہوری ریاست کی بر سر اقتدار پارٹی آئین کی روشنی میں وہاں کی ڈیپ سٹیٹ کے ساتھ مل کر اپنی ریاست کے باشندوں اور باقی دنیا سے، کیا عمرانی معاہدہ بناتی ہے؟ کیا قومی اور انٹرنیشنل پالیسیاں بناتی ہے؟ ان پر کیسے عمل درآمد کراتی ہے اور ذمہ داری کے ساتھ کتنا پریگمیٹک رویہ رکھتی ہے؟ یہ سب عناصر مل کر اسے کامیاب یا ناکام بناتے ہیں۔

مغرب کے سٹیک ہولڈرز نے اپنے لوگوں کو شخصی آزادیاں دینے کے بعد کالونیل ازم اور عالمی تسلط کو تیاگتے ہوئے گلوبلائزیشن کے ذریعے بقائے باہمی، عالمی شراکت اور دنیا پر اعتبار کا سفر شروع ہی کیا تھا کہ کمیونسٹ چین اس سے تمام فائدے سمیٹ کر اس کی مخالف سمت چل پڑا۔

ایک کمیونسٹ آمریت کے سائے تلے پنپتی ریاست کا اقتدار سے چمٹا آمر جمہوری ممالک کی کارپوریٹ جاسوسی کر کے، چوری، نقل یا نوسربازی کر کے، رسائی ملنے پر مغربی کنزیومرزم کو کیش کر کے بھلے لاکھ عالمی چیمپئن بن جائے، ایسی ریاست اپنی عوام کی شخصی آزادیوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے معاملے میں جبر، دھوکے اور گرواٹ کا شکار ہی رہتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک کب تک سرقہ اور تجارت کے توازن کو صرف چین کے حق میں برداشت کر سکتا ہے۔

آج چین کی تمام پالیسیاں چند سفاک کمیونسٹ آمروں کے ساتھ مل کر سپر سرویلنس رکھتی سپر آرٹیفیشیل انٹیلیجنس بنا رہی ہے، آج یہ تمام سیٹ اپ کامیاب ہونے کے باوجود ہر قسم کے کمپیشن اور انسانی اقدار سے عاری ہے۔

کچھ فاضل دوست اجارہ داری کے خلاف بات کرتے ہیں کہ ”مغرب کی ایجاد کردہ ایک چیز کی پیداواری قیمت میں لیبر اور انٹلکچول رائٹس کا حصہ تین گنا ہو اور وہ پھر بھی بک سکے یہ کیسے ممکن ہے“ لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ چوری شدہ ٹیکنالوجی پر کمیونسٹ رجیم کے ڈنڈے کی نیچے کام کرتی سستی لیبر فورس آج بھی آزادی، اختیار اور فیصلے سے عاری ہے۔ یہ ورک فورس آج بھی کیمونسٹ پارٹی کے استعمار کے انجن کی بھٹی کا بے شعور ایندھن ہے اور کل بھی ہو گی۔

بیشک ہمیں پوری انسانیت کے لیے سوچنا چاہیے اور سب کو ان کے حصہ بقدر جثہ ملنا چاہیے۔ امریکہ و مغرب کو دنیا سے انسانی تعاون زیادہ کرنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں ہر فراڈ، ہر مکاری، ہر نوسربازی اور دنیا کو درپیش بین الاقوامی کیمپس کی اجارہ داری کی کشمکش میں فئیر ٹریڈ پریکٹسز کے انحراف کو روکنے اور ٹیکنالوجیکل چوری کی بیخکنی کے لیے ہر ممکن کوشش کسی تعصب یا بغض سے بالاتر ہو کر کرنی چاہیے۔ مغربی دنیا کب تک ریسرچ اینڈ دویلمنٹ پر اربوں کھربوں ڈالرز خرچ کر کے اس کے ثمرات کی چین کے ہاتھوں چوری برداشت کرے گی۔

چین آج جو بھی ہے امریکہ و یورپ کے اعتماد اور کنزیومرازم کی بنا پر ہے۔ جس کے جواب میں اس کے پاس سوائے دھوکے، خودغرضی، مکاری، نفرت اور زہریلی ٹوٹلیرین کمیونسٹ رجیم کے سوا کچھ نہیں ہے جو مکاری کے ساتھ دنیا کے پانچ یا چھ سو ٹاپ بلینرز اور بڑے کاروپوریٹ مالکان کو ہر عوامی احتساب سے بالاتر بنا کر، ان کے اشتراک سے اپنی انسانی اقدار سے بے بہرہ سستی لیکن غلام ورک فورس کی بنا پہ، ایک ناقابل چیلنج بالادست قوت بن کر عالمی برادری کا مغرب یا امریکہ کے حمکرانوں سے کئی گنا زیادہ بدتر استحصال کرنا چاہتی ہے۔

سابق امریکی صدر اوبامہ اور ان کی لبرل پارٹی جرمن چانسلر مرکل کے ساتھ مل کر اچھے بھلے گلوبلائزیشن اور لبرل ازم کی طرف جا رہے تھے کہ کمیونسٹ کیمپ کی جانب سے امریکہ کا الیکشن مبینہ طور پر ہیک کر کے کنرویٹیو کیمپ کے ٹرمپ جیسے کم فہم اور متعصب شخص کو صدر بنوایا گیا۔

پھر چینی صدر شی اور امریکی صدر ٹرمپ ایک اکنامک وار لڑ پڑے۔ دونوں کی غیر روایتی لڑائی اور اس کے دوران سامنے آنے والے نئے چینی وائرس نے اچھی بھلی دنیا کو مصیبت میں ڈال دیا۔

کووڈ نائنٹین بیماری اگر امریکی حکومتوں کی نالائقی یا مبینہ سازش کی وجہ امریکہ سے نکل کر دنیا میں پھیلی ہوتی تو چین سے الفت اور امریکہ سے نفرت میں مبتلا لوگوں نے اب تک امریکہ کو اس سے زیادہ پتھر مار چکے ہونے تھے کہ جتنے پاکستان سے گئے حاجی بھائی حج پر شیطان کو نہیں مارتے ہوں گے۔

آج ہمارے کچھ لوگ چین کا دفاع کرتے ہوئے کہ رہے ہیں کہ چین کی ایگزوٹک ویٹ مارکیٹس تو صدیوں سے موجود ہیں اور عرصے سے دنیا بھر میں وبائیں پھیلا رہی ہیں۔ یہ لوگ تو عرصے سے کتے، بلیاں، جنگلی جانور، کیڑے اور چمگادڑیں کھا رہے ہیں۔ اس میں چین کا کیا قصور۔ یعنی بین الاقوامی ذمہ داری اور نوع انسانی کی بقا کوئی چیز نہیں۔ چین کا مفاد ساری عالمی برادری کے مفاد سے بڑھ کر ہے۔

مجھے ایک جمہوری ملک کے ایوان نمائندگان میں سر جھکائے بیٹھا فیس بک کا مالک کسی چینی آمریت کو سپورٹ کرتے عوامی احتساب سے بلند علی بابا ڈاٹ کام کے بلینر مالک سے زیادہ اس لیے پسند ہے کیونکہ فیس بک کا مالک کسی نہ کسی سطح پر عوام کو جوابدہ تو ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ تنقید یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی پسندیدگی میں تضادات ہونے چاہیں۔ یہ کیا کہ آپ کوے سے تو نفرت رکھیں لیکن اس کی بیٹ کی بدبو آپ کی پسندیدہ خوشبو ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *