بچوں کے ساتھ جنسی تشدد: ایک پیچیدہ اور حل طلب مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے سانحات کے بارے میڈیا اور لوگوں میں گفتگو ہونا شروع ہوئی ہے تو عمومی تاثر یہ لیا گیا ہے کہ شاید ان واقعات میں حال ہی میں اضافہ ہو گیا ہے یا پہلے نہیں ہو رہے تھے تھے حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ یہ واقعات اس سے پہلے بھی ہو رہے تھے لیکن ان واقعات کے بارے میڈیا میں نہیں بتایا جا رہا تھا اور معاشرتی سطح پر عمومی گفتگو میں بھی ان واقعات کا ذکر کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

اس حساس موضوع سے پہلو تہی اور اجتناب کی وجہ سے ہی لوگوں کی اس مسئلے کے عوامل اور وجوہات کے متعلق معلومات حقائق کے برعکس اور سطحی ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنسی تشدد کے نتیجے میں بچوں کی شخصیت اور صحت پر قلیل المدتی، طویل المدتی اور تاحیات منفی اثرات پڑتے ہیں ہیں۔ یہ منفی اثرات انہیں جسمانی، ذہنی اور معاشرتی و سماجی سطح پر متاثر کرتے رہتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بالغ مرد یا عورت کسی بچے یا بچی کو جنسی تسکین کے لئے لیے بہلا پھسلا کر یا اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرے۔ دونوں صورتوں میں پاکستانی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ جرم ہے۔ بنیادی طور پر جنسی زیادتی کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں بچے کے ساتھ جنسی گفتگو کرنا، اس کے جنسی اعضاء کو دیکھنا یا اپنے جنسی اعضاء اس کو دکھانا، بچے کے جنسی اعضاء کی تصویر یا ویڈیو بنانا اور بچے کے جنسی اعضا کو چھونا یا بچے کے ساتھ ریپ کرنا۔

ایسا اگر کوئی بہلا پھسلا کر کریں یا زبردستی کرے دونوں صورتوں میں یہ جنسی زیادتی ہی تصور ہو گی اور قانونی طور پر اس کی سنگینی مساوی تصور ہوگی۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پوری دنیا میں ایک سنگین مسئلہ ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اس کی شرح مختلف ہے۔ معاشی پسماندگی کا شکار ممالک میں رہنے والے بچے اس مسئلے کا زیادہ شکار ہیں کیونکہ ایک تو معاشی مسائل کی وجہ سے بچے ان خطرات میں گھرے ہوتے ہیں ہیں دوسرا ان ملکوں کی حکومتیں اس مسئلے کے حل کے لیے مطلوبہ وسائل اور بجٹ مختص نہیں کرتیں اور اس مسئلے کی سنگینی کے باوجود اسے اولین ترجیحات میں نہیں رکھا جاتا۔

خطے جنوبی ایشیا میں میں ملتے جلتے رسومات ثقافت اور معاشی حقائق کے وجہ سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے عوامل حقائق وجوہات اور شرح ملتے جلتے ہیں۔ راقم الحروف نے پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی شرح اور متعلقہ عوامل پر تحقیق کی تو 8 فیصد لوگوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ بچپن میں ریپ ہوا ہے اور تقریباً 42 فیصد نے بتایا کہ جنسی زیادتی کی پانچ میں سے کم از کم ایک قسم کا وہ بچپن میں شکار ہوئے ہیں۔ یہ تحقیق ایک بین الاقوامی تحقیقی جریدے میں شائع ہو چکی ہے۔ جنوبی ایشیا کے باقی ممالک میں بھی اس کی شرح راقم الحروف کے تحقیقی نتائج سے ملتی جلتی ہے۔

عام طور پر معاشی و سماجی لحاظ سے پائے جانے والے طبقات میں خط غربت سے سے نیچے والے، غریب، متوسط اور امیر خاندان شامل ہیں۔ ان تمام طبقات کے بچے کچھ مشترکہ اور کچھ انفرادی نوعیت کے خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ غربت باقی مسائل کی طرح بچوں کو لاحق جنسی زیادتی کے خطرات کو بھی دو چند کر دیتی ہے اور خاندان کے بچوں کی تعلیم اور خوراک کے اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے یا تو انہیں کم عمری میں ہی کام پر ڈال دیا جاتا ہے ہے یا پھر انہیں کسی خیراتی ادارے کے حوالے کر دیا جاتا ہے جہاں وہ رہائش اور خوراک کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم لیتے ہیں ان دونوں صورتوں میں بچوں کو لاحق خطرات بڑھ جاتے ہیں ہیں اور خاندان میں رہنے والے بچوں کی نسبت یہ بچے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔

غریب خاندانوں کے یتیم ہو جانے والے بچے بھی کم و بیش اسی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں۔ تحقیق کے نتیجے میں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے متبادل رہائشی اداروں میں رہنے والے بچے خاندان میں رہنے والے بچوں کے نسبت زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ امراء اور اشرافیہ طبقے کے بچوں کو بھی حفاظت کے مسائل ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ تر وہ بچوں کو وقت نہیں دے پاتے اور بچے ملازمین کے حوالے کیے ہوتے ہیں۔ کھانے پینے تعلیم اور دوسری بنیادی ضروریات کے لیے بچے ان ملازمین کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور والدین سے مسلسل دوری کی وجہ سے وہ بھی نظر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ باقی خطرات کی زد میں بھی ہوتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 90 فیصد سے زائد واقعات میں قریبی جاننے والے ملوث ہوتے ہیں جن سے بچے باقاعدگی سے ملتے ہیں، کسی نہ کسی حوالے سے ان سے سامنا ہوتا رہتا ہے یہ رشتہ دار، محلے کا دکان دار، مدرسے، سکول یا ٹیوشن والا استاد، بچے کا ہم عمر یا اس سے بڑا ساتھی اور دوست بھی ہو سکتے ہیں۔ زیادہ تر واقعات میں بچے کے ساتھ زیادتی کرنے والا زبردستی کی بجائے دوستی، اعتماد، بہلاوے پھسلاوے یا لالچ کے حربے استعمال کرتا ہے۔

کچھ واقعات میں زبردستی، دھمکی کے ذریعے یا ڈرا کر بھی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے حادثات میں اجنبی بھی ملوث ہوتے ہیں لیکن اس کی شرح جاننے والوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انفرادی، اجتماعی، خاندانی، معاشرتی اور ریاستی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے باقاعدہ لائحہ عمل موجود ہیں جن کے موثر ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ انفرادی سطح پر بچوں کی حفاظت ہر شخص کی ذمہ داری ہے، خاندانی سطح پر والدین یا سرپرست کو چاہیے کہ بچوں کو باقاعدگی سے وقت دیں، بچوں کے ساتھ سخت یا درشت روئیے نہ اپنائیں بلکہ صبر اور تحمل کے ساتھ بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں، انہیں اعتماد میں لیں تاکہ وہ بلاجھجک حساس ترین بات بھی آپ کو بتا سکیں، انہیں بتائیں کہ آپ کے جسم کے پوشیدہ حصوں کو کوئی نہیں چھو سکتا، دلچسپی و معمولات میں تبدیلی، نیند اور صحت میں تغیر اور الفاظ کے استعمال اور چناؤ اور کسی بھی تغیر پر گہری نظر رکھیں اور بچے کے ساتھ شفقت اور اعتماد کا رشتہ قائم رکھتے ہوئے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں جنسی زیادتی کی علامات اکثر بچوں میں ظاہر ہوتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہر بچے میں اتنی واضح ہوں کہ پتہ چل سکے البتہ بچے کے معمولات اور شخصیاتی تغیر پر نظر رکھ کر سانحہ ہونے سے پہلے بھی بچایا جاسکتا ہے۔

اگر بچے کے کے پورے دن کے معمولات میں سے کچھ وقت کا آپ کو پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہوتا ہے یا کیا کرتا ہے، کہیں سے بار بار تحائف لا رہا ہے اور آپ کو پتا نہیں کہاں سے لا رہا ہے، کسی شخص یا دوست کا بہت زیادہ ذکر کر رہا ہے اور آپ کو نہیں پتہ کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے تو آپ کو معاملات خراب ہونے سے پہلے بچے سے معلومات لے کر اس کی مناسب رہنمائی کرنی چاہیے اور مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔

اسی طرح ریاستی سطح پر ماہرین کی مدد سے حکومت کو بچوں کی حفاظت کے لیے آگاہی مہم چلانی چاہیے، اس مقصد کے لیے معقول بجٹ مختص کرنا چاہیے، تمام اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تربیت ہونی چاہیے کہ کام کیسے کرنا ہے اور بچوں سے متعلقہ معاملات کے کیا بنیادی، پیشہ ورانہ اور اخلاقی اصول ہیں۔ عوامی سطح پر ایک عمومی غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ سزا کی شدت بڑھا دی جائے آئے یا سرعام پھانسی شروع کر دی جائے تو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوں نہ ختم ہو جائیں گے حقائق اس کے برعکس ہیں اور جن ممالک جیسے سعودیہ اور ایران ہیں ان میں ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں ہیں اس کے باوجود جہاں اس کی اچھی خاصی ہے یہ بات تحقیق کے ذریعہ ثابت ہوئی ہے کہ سزا کی شدت میں اضافے کی بجائے سزا کو یقینی بنا کر اس کی شرح کم ہو سکتی ہے۔

اس میں یہ پیچیدگی بھی ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اچھی خاصی تعداد ہم عمر یا کچھ بڑے بچوں کی بھی جن کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ وہ باقی زندگی ایسے جرائم کرنے سے بچ جائیں اور معاشرے کے ذمہ دار شہری بنیں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے صحیح اقدامات یہ ہوں گے کہ سزا بڑھانے کی بجائے سزا کو یقینی کیا جائے کیونکہ بہت قلیل تعداد میں مجرموں کا سزا ملتی ہے۔ کمزور کیس، معاشرتی دباؤ، غیر تربیت یافتہ عملے، بروقت کارروائی نہ ہونے، ثبوت ضائع ہو جانے اور اداروں کے درمیان ربط نہ ہونے کی وجہ سے متاثر بچوں اور خاندان کو انصاف ملے بغیر ہی کیس خارج یا داخل دفتر ہو جاتے ہیں۔

ان تمام عوامل پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ معقول بجٹ مختص کیا جائے، اس مسئلے سے متعلق اداروں میں اصلاحات کی جائیں، تمام متعلقہ اداروں کے افراد کی بچوں کی ضروری تربیت باقاعدگی سے کرائی جائے اور ان اداروں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ یہ دور دراز علاقوں میں بھی بچوں کے لئے کام کر سکیں۔ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے وسیع پیمانے پر لوگوں میں آگاہی بھی پھیلائی جائے۔

اب جبکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو معاشرتی سطح پر ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر شناخت کیا جا رہا ہے تو ‏بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لئے کام کرنے والے ماہرین کو حقیقی حل کے لئے لوگوں کو آگاہی دینی ہوگی تاکہ یہ حل اجتماعی عوامی مطالبے کے طور پر ابھریں اور حقیقی حل سے متصادم بے سود مطالبات پر رائے عامہ کی طاقت ضائع نہ ہو اور اسے اس پیچیدہ مسئلے کے حل کے لئے استعمال کیا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سلیم عباس بخاری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *