ملیر مندر کے سامنے والا ریلوے اسٹیشن اور حبیب درانی



لاک ڈاؤن کی وجہ سے کراچی کے مقبول عام پٹھان کے چاے والے ہوٹل تو بند ہیں، اس کے علاوہ پابندی کی وجہ سے پارک، ساحل سمندر اور بیٹھنے کے مختلف مقامات پر بھی بیٹھنا ممکن نہیں تو پھر شام کی ٹھنڈی ہوا کا لطف لینے اور دوستوں سے ملنے کے لیے ایسے مقام کی تلاش ضروری ہے جہاں موجودہ ماحول میں لاگو کیے جانے والے تحفظ سے متعلق قواعد و ضوابط پر عمل کو ممکن بنایا جاسکے۔

یہ سوال موجودہ حالات میں بہت اہم ہوگیا تو ہم نے کاوٰچ سرفنگ کے حوالے سے متحرک اک دوست سے رابطہ کیا کہ تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے۔ کاوچ سرفنگ مختلف ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنے اور جاننے کے حوالے سے ایک ایسا رابطے کا سلسلہ ہے کہ ویب سایٰٹ کے ذریعے رجسٹرڈ اس کے رکن دنیا کے کسی بھی ملک، شہر اور علاقے میں جب سفر کر رہے ہوں تو وہاں کے کاوچ سرفرز سے رابطہ کرکے ایک یا دو دن ان کے گھر میں مفت قیام کی درخواست کر سکتا ہے اور اس طرح وہ بہت کم خرچ کے ساتھ ملکوں ملکوں سفر کرنے کے اپنے شوق کو بہت کم خرچ کے ذریعے پورا کر سکتا ہے۔

تو لاک ڈاؤن کے کچھ نرم ہوجانے اور احتیاطی تدابیر اور ضوابط کے ساتھ ملنے کے لیے ہم نے اپنے ایک دوست حبیب درانی سے رابطہ کیا۔ حبیب درانی بہت ہی یارباش اور ملنسار طبیعت کے حامل شخص ہیں۔ عمرانیات (سوشیالوجی) میں ملایشیا سے ایم فل کیا۔ وطن واپسی کے بعد حبیب درانی نے مختلف قومی اور بین الاقوامی سطح کی این جی اوز میں اہم نوعیت کی خدمات سرانجام دیں اور معمول کی زندگی گزارنا شروع کی مگر ان کے اندر کا مسافر اور سیاح ہمیشہ انہیں کہیں دور کے دیسوں میں جانے کے لیے اور آوارہ گردی کرکے زندگی میں کچھ انوکھے تجربے کرنے کے لیے اکساتا رہا۔
این جی اوز کے شعبے یعنی ڈیوپلمنٹ سیکٹر کے تعلق رکھنے والے دوست جانتے ہوں گے کہ ان اداروں میں کام کرنے والے پروفیشنلز کی اکژیت کنٹریکٹ پر کام کرتی ہے اور اس کنٹریکٹ کا تعلق کسی خاص موضوع یا علاقے میں چلنے والے کسی پراجیکٹ کی تکمیل سے ہوتا ہے۔ یعنی پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد اک اور پراجیکٹ یا نوکری کی تلاش۔ اک پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد دوسرے پراجیکٹ میں کام شروع کرنے کے درمیان مختصر یا طویل مدت کے وقفے اتے رہتے ہیں اور بعض اوقات یہ انتظار بہت طویل بھی ہوجاتا ہے.

اسی طر ح کے اک پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد کے وقفے میں ہمارے دوست حبیب درانی نے مختلف نوکریوں کے دوران کی جانے والی بچت پر مبنی جمع پونجی جیب میں ڈالی، اک رک سیک کندھے پر لٹکایا جس صرف چند ملبوسات اور ضروری اشیا مع کیمرے اور گو پرو کیمرے ڈالیں اور مشرق بعید کے اک مختصر سفر کے ارادے سے روانہ ہوئے جو کہ اس کے بعد چھ ماہ پر محیط رہا۔ جب بھی حبیب درانی سے ملاقات ہوتی ہے تو ان سے اس طویل چھ ماہ کے مشرق بعید کے اسفار کے درمیان پیش انے والے دلچسپ واقعات سن کر جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

حبیب درانی صاحب سے فون پر رابطہ ہوا اور وہ تشریف لاے۔ چاے کی پیالی پر مختصر گفتگو کے درمیان انہوں نے ملیر مندر کے سامنے واقع ایک ریلوے اسٹیشن کا تذکرہ کیا۔ ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم برصغیر پاک و ہند کے ادب میں اک رومانوی حیثیت کا حامل ہے۔ ریل، ریل کا سفر، ریلوے اسٹیشن، اس کی مخصوص تعمیر اور ماحول یہ سب مجھ جیسے سفر کے دلداہ افراد کے لیے بہت اہم اور پیارے ہیں۔

چاے کی پیالی کے اختتام سے قبل ہی میں ملیر مندر کے سامنے والے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر جانے، وہاں کے ماحول میں کچھ وقت گزارنے اور حبیب درانی سے ان کے مشرق بعید کے بہت سے ممالک کے چھ ماہ کے طویل سفر سے متعلق واقعات سننے کے لیے تیار ہوگیا۔ تو میں اور حبیب درانی صاحب اپنی موجودہ منزل مقصود کے لیے روانہ ہوئے۔ ملیر ریلوے اسٹیشن کے اندر داخل ہوئے تو احساس ہوا کہ جیسے اک قصبہ کے ریلوے اسٹیشن میں قدم رکھ دیا ہو۔ ریلوے اسٹیشن کے اندر اک سمت ریلوے ملازمین کے لیے ریلوے کے روایتی انداز سے تعمیر شدہ چند
ریلوے کوارٹرز اور دوسری سمت اسٹیشن ماسٹر کا آفس، پارکنگ اور اس کے ساتھ ریلوے اسٹیشن کی چھوٹی سی مسجد۔ اس سے اگے ریل کی ایک پٹری، پھر پلیٹ فارم پھر ریل کی پٹریاں اور
پھر دوسری سمت واقع پلیٹ فارم اور اس سے کچھ فاصلے پر واقع مکانات کا سلسلہ۔ پلیٹ فارم پر لوگوں کی آمدورفت کے لیے ایک پل اور اس کے ساتھ ایک گھنا اور قدیم بڑا درخت جس سے اگے چند اور درخت۔
پہلے پلیٹ فارم کی اک سمت اک ریل کی پٹری اور اس کے بعد بہت سی گھنی سبز جھاڑیاں اور دوسری سمت ریل کے انے اور جانے کے لیے مرکزی پٹریاں جن کے بعد دوسرا پلیٹ فارم اور اس پر مسافروں کے لیے بیٹھنے کو اک سایٰبان اور چند پرانی نشستیں۔ شا ہراہ فیصل سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ریلوے اسٹیشن اور اس کے پلیٹ فارمز اک دیہاتی قصبے کی مانند پرانے سکون اور ٹھہرے سے ماحول میں واقع ہیں جو کسی اردو ادب کی ریلوے پلیٹ فارم سے متعلق کہانی جیسے ماحول کا تاثر دے رہا تھا۔
اس ماحول میں چند گھنٹے کیسے گزر ے، پتہ ہی نہیں چلا۔ سفر کے قصے ملک ملک گھومنے والے مختلف زبان بولنے والے سیاح برادری کی باتیں اور انے والے وقت میں سفر کی خواہشوں پر مبنی منصوبے۔ بس یہی باتیں جیسے وجود کو اندر سے شانت اور آزاد کرتی رہیں اور رفتہ رفتہ اندھیرے نے بڑھتے بڑھتے رات کا روپ دھار لیا۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “ملیر مندر کے سامنے والا ریلوے اسٹیشن اور حبیب درانی

  • 12/07/2020 at 1:27 صبح
    Permalink

    اچھا لگا آپکا کالم پڑھ کر

  • 24/07/2020 at 2:14 شام
    Permalink

    Thanks

Comments are closed.