ہم لوگ نہ تھے ایسے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"jamil-abbasi\"ایشونی دیش پانڈے نے \” چادر ہوگئی بوہت پرانی \” گا کر ختم کیا تو یانی کا \”نائیٹنگل \” شروع ہوگیا۔ سڑک پر رواں دواں گاڑیوں کے حالات جوں کے توں تھے۔ ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی تھی۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ کیا کار، کیا ٹرک۔ ہر ایک دائیں بائیں کندھے مارتا آگے نکل جانے کی کوشش میں تھا۔ جس وقت نائیٹنگل کی ابتدا ہوئی اس وقت ٹوٹی سڑک کا ایک ٹکڑا پیش تھا۔ گاڑی چلنے سے رینگنے تک جا پہنچی۔ یانی کی نائیٹنگل نامی میوزک کیا چلنا شروع ہوئی اندر میں سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی۔ ایک نرم سا بہاؤ دل و دماغ میں جاری ہوگیا۔ اندرایک دلپذیر اثر میں گھر گیا۔ عجب حال ہوگیا۔ \” میں \” جیسے باقی ہی نہ رہا۔ ازلی کڑواہٹ، بے چینی، بیابانی رخصت ہوگئی۔ آنکھوں کے گوشے بھیگ رہے تھے۔ سکون آسے پاسے آ گیا۔ ایک بارہ تیرہ سالہ بچہ سڑک پر رینگتی گاڑی کے قریب ہوا۔ \”لاہوری گاجر لے لو \” اس کی آواز شیشے کے پیچھے مجھ تک کمزور ہوتی پہنچی۔ ساتھ میں اس نے دوسرے ہاتھ سےشیشہ کھٹکھٹایا۔ میں جو ایسے موقعے پر دانت کچکچا کر ترشی کی چادر لپیٹ لیتا ہوں، بلاوجہ ہنس دیا۔ اس نے فاصلہ اور کم کیا اور شیشہ پر منھ رکھ کر زور سے بولا \”گاجر لے لو \”۔ میں نے ہنستے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا۔ اس نے حجت زدہ انداز اختیار کرتے گاجر لینے کا کہا۔ میں نے اسے اسی انداز میں ہنستے ہاتھ سے سلام کیا اور گاڑی بڑھاتا آگے لے گیا۔ وہ مسکراتا دوسری گاڑی کی طرف چلا گیا۔

نائیٹنگل ختم ہوا تو میں نے دوبارہ سننے کو بٹن دبایا۔ تب رفتار لے چکی گاڑی بڑے بڑے سینگ رکھنے والے تھری بیلوں کو لے جاتےایک مزدا کے پیچھے چلتی آہستہ ہونے لگی۔ گاڑی پر کچھ لوگ بیلوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ میں نے آہستگی کا فائدہ لیتے دونوں ہاتھ جوڑ کر سندھی ٽقافت کے مطابق سلام کیا۔ مزدا پر موجود سب لوگوں نے اسی انداز میں جوابی سلام کرتے چہرے میری طرف موڑے۔ سب مجھے اپنے لگے۔مجھ سے۔ کوئی دوری، غیریت نہیں۔ محبت کا بہاؤ آنکھوں سے سرک آیا۔ راستہ\"bhitai-urs-138739\" طے ہوتا رہا۔ سڑک کنارے چھ عورتیں دِکھنے لگیں۔ گنے چھیلتیں، کھاتیں۔ اکثر کے سر پر پڑی اوڑھنیاں سرخ رنگ کی تھیں۔ میں نے رواج پر عمل کرتے بغور دیکھنے سے گریز کیا۔ کچھ دیر بعد ایک منظر تھا۔ ایک راستہ۔ جو نیشنل ہائے وے سے اترتا چند سو فیٹ دور گاؤں کا رخ کر رہا تھا۔ تین بچے تھے جن میں سے ایک تین پہیوں والی سائیکل پر سوار تھا۔ باقی دو صرف قمیص میں ملبوس بغیر شلوار کے اس کی سائیکل کو ہائے وے کے اونچے کنارے سے گاؤں جاتے کچے راستے پر دھکیلتے جا رہے تھے۔ کیا میٹھا منظر تھا۔ پہیہ گاڑی دھکیلتے بچوں کے پاؤں ننگے تھے۔ میں نے سوچا گرمی رخصت ہو چکی۔ نہیں تو ماں بچوں کو ننگے پاؤں باہر جانے کیسے دیتی؟

سفر ابھی باقی تھا۔ بھٹ شاہ کے نزدیک گاڑی کو بریک دی۔ کچھ لوگ کھڑے تھے۔ کچھ بچے بھی۔ میں نے زرق برق سندھی ٹوپی اوڑھے ایک بچے سے پوچھا \” بھٹائی کے میلے پر جا رہے ہو؟\” اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے نئے کپڑے بھی یہی گواہی دے رہے تھے۔ \” وہاں جا کر کیا گروگے ؟\” \”مزہ کریں گے \” اس کے جواب پر اس کا باپ مسکرایا اور قریب کھڑی زرد چمکیلے کپڑے پہنے اس کی چھوٹی بہن ہنس دی۔ مجھے لگا کائنات ہنس پڑی ہو۔ گاڑی چلنے لگی۔ بھٹائی کو میں پیچھے چھوڑتا گیا۔پھر سوچ آئی۔ ہم بھٹائی اور سچل کو پیچھے چھوڑ آئے۔ اسی لئے تو ایسے ہوگئے۔ خیال جیسے تھے۔ وہم جیسے ہوگئے۔

۔ ہم لوگ نہ تھے ایسے ہیں جیسے نظر آتے۔

۔ہم لوگ نہ تھے ایسے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments