عدالتی اصلاح کے نام  پر کون سا ادارہ تباہ کیا جائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر ہے کہ تحریک انصاف کے ایک وفاقی وزیر نے بجٹ سیشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے رابطہ کرکے اسے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ اگر اپوزیشن ایسی تحریک لاتی ہے تو تحریک انصاف کے دس بارہ ارکان قومی اسمبلی بھی اس کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے البتہ اس تجویز پر عمل کرنے سے گریز کیا۔ انگریزی اخبار دی نیوز کی اس رپورٹ میں البتہ بتایا گیا ہے کہ رابطہ کرنے پر متعلقہ وزیر نے خبر کی تردید کی ۔

اس خبر کی تردید سے زیادہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ حکومتی زوال کی خبریں تسلسل سے سامنے آرہی ہیں۔ ان خبروں کو امریکی صدر ٹرمپ کی دل پسند اصطلاح کے مطابق ’فیک نیوز‘ قرار دے کر مسترد بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پاکستانی سیاست جس ہیجان کا شکار رہتی ہے، اس کی وجہ سے ایسی خبریں سامنے آنے کی معنویت سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ وزیر اعظم نے بجٹ منظور ہونے کے بعد کی گئی تقریر میں مائنس ون کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا ہو بھی گیا تو بھی اپوزیشن کی جان نہیں چھوٹے گی۔ تردید کا یہ انداز اختیار کرنے سے محض دو روز قبل بنی گالہ میں وزیر اعظم نے اپنی پارٹی اور حلیف جماعتوں کے ایم این ایز سے خطاب کرتے ہوئے خود کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے‘۔

دیوار سے لگے ہوئے وزیر اعظم کی زبان سے اگرچہ یہ بیان سیاسی استحکام کے حوالے سے حوصلہ افزا نہیں تھا لیکن پھر بھی لگتا تھا کہ عمران خان کو یہ اعتماد ضرور ہے کہ انہیں ہٹانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ متبادل دستیاب نہ ہونے سے شاید ان کی مراد یہی ہوگی کہ جن لوگوں نے انہیں وزیر اعظم کے طور پر خدمات سرانجام دینے کا موقع فراہم کیا ہے ، ان کے پاس کوئی دوسرا بہتر امید وار موجود نہیں ہے۔ یہ بیان شاید عمران خان کی شدید غلط فہمی اور ملک میں سیاسی نشست و برخاست سے ناواقفیت کی وجہ سے دیا گیا ہو کیوں کہ جو حلقے کسی امکان کے بغیر کسی ایک چنیدہ پارٹی کو حکمرانی اور ایک شخص کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کرواسکتے ہیں، وہ کسی دوسرے غبارے میں ہوا بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

بجٹ کے بعد اپوزیشن کے بارے میں ایک بار پھر تند و تیز لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو اشارے دیے۔ ایک یہ کہ بجٹ منظور ہونے سے فوری پہلے قومی اسمبلی سے خطاب میں اختیار کیا گیا مصالحانہ لب و لہجہ وقتی تھا۔ شاید بجٹ کی منظوری میں کسی بڑی رکاوٹ سے بچنے کے لئے انہیں ایسی متوازن تقریر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہو۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے بھی عمران خان یہ سمجھنا بھول گئے کہ اگر وہ خود نامزد ہیں تو ان کی حکومت کے رکے ہوئے باقی سارے کاموں کی طرح بجٹ منظور کروانا بھی عمران خان کا ’درد سر ‘ نہیں تھا۔ جو اپوزیشن اس سال کے شروع میں آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے لئے کسی درخواست کے بغیر حکومت کی غیر مشروط حمایت پر راضی تھی، وہ بجٹ جیسے علامتی بل کی منظوری میں رکاوٹ کا سبب نہیں بن سکتی تھی۔ وہ بھی پارلیمانی اختیار کے اسی پرچہ ترکیب استعمال پر عمل کرتی ہے جو عمران خان کے اقتدار کا سبب بنا ہؤا ہے۔

بجٹ کے بعد تقریر کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ عمران خان اپنے روائیتی کنٹینر نما انداز خطابت پر واپس آچکے ہیں۔ یہ طریقہ اس بات کا غماز نہیں تھا کہ بجٹ منظور ہوتے ہی انہوں نے پارٹی کی صفوں میں پیدا ہونے والے انتشار اور حلیف جماعتوں کے ساتھ ابھرنے والے اختلافات پر قابو پالیا ہے لہذا وہ اب پھر ’فائیٹنگ موڈ‘ میں واپس آگئے ہیں۔ یہ لب و لہجہ اختیار کرنے کی وجہ شاید یہ رہی ہوگی کہ وہ اپنے کور ووٹر اور شدید حامیوں سے مخاطب تھے تاکہ جس مقبولیت کی وجہ سے وہ نامزد ہونے کی پوزیشن تک پہنچے تھے ، اسے قائم رکھا جاسکے۔ یہ تقریر پارٹی اور حکومت میں شامل اختلاف کرنے والے عناصر کو پیغام دینے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے کہ ان کی باتیں آج بھی وسیع اپیل رکھتی ہیں اور ان کا حلقہ اثر تمام تر سیاسی مشکلات اور انتظامی ناکامیوں کے باوجود ان کے ساتھ ہے۔ یہی پیغام ’دفتر نامزدگی‘ کے لئے سندیسہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ آج بھی مقبولیت کے منصب پر فائز ہیں لہذا متبادل پر غور کرنے سے گریز کیا جائے۔

اس حکمت عملی کے باوجود اس تقریر میں عمران خان کو مائنس ون کی افواہیں مسترد کرتے ہوئے یہ اقرار کرنا پڑا کہ یہ امکان بہر حال موجود ہے۔ یعنی مائنس ون پر عمل ہوسکتا ہے ۔ اسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن کو متنبہ کیا کہ ان کے مائنس ہونے سے اپوزیشن کی گردن شکنجے سے نہیں چھوٹے گی اور وہ احتساب سے نہیں بچ سکے گی۔ اگر وزیر اعظم اس امید پر یہ انتباہ دےرہے تھے کہ اپوزیشن اپنی ’سازشوں‘ سے باز آجائے گی تو اس سے بڑی سادہ لوحی کیا ہوسکتی ہے۔ اگر اپوزیشن کا بس چلے گا اور اسے بظاہر عمران خان کے جانے سے کوئی فائدہ نہ بھی ہو تو بھی وہ انہیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ تاہم ملک کے سب مبصر اس بات پر متفق ہیں کہ اپوزیشن کے پاس ابھی یہ قوت نہیں ہے اور نہ ہی وہ حکومت کے خلاف تحریک چلا کر اس کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

یوں بھی مائنس ون کا طریقہ سیاسی اپوزیشن اختیار نہیں کرتی۔ یہ صورت حال یا تو پارٹی کے اندر سے ہونے والی بغاوت کے نتیجہ میں کسی پارٹی لیڈر کی علیحدگی کی صورت میں رونما ہوتی ہے یا پھر سیاسی بساط پر مہروں کو مات دینے والے بازی گر یہ کارنامہ سرانجام دیتے ہیں۔ اسی لئے اکثر اس واقعہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ جب بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کے خلاف سیاسی حلقوں میں ناراضی عروج پر تھی تو جنرل ضیا الحق نے دورہ لاہور کے موقع پر نواز شریف کو ساتھ بٹھا کر اعلان کیا کہ’ ان کا کلہ مضبوط ہے‘۔ سیاسی ناراضی کا جوش اسی وقت ٹھنڈا پڑ گیا۔

عمران خان کا کلہ اگر مضبوط ہے اور اگر علی الاعلان نہ بھی سہی درپردہ ہی سہی انہیں یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں کوئی مائی کا لال ان کی طرف بری نگاہ نہیں ڈال سکتا تو وزیر اعظم کو پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں چونکہ اسی ’یقین دہانی‘ کے بارے میں بے یقینی موجود ہے ، اسی لئے وزیر اعظم کے حوالے سے مائنس ون اور متبادل کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے اپوزیشن کو دھمکانے سے کام نہیں چل سکتا۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ وزیر اعظم اس تاثر کو پیدا ہوتے ہی ختم کرتے۔ یعنی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فوا دچوہدری نے جب خود اپنی مرضی سے دیے گئے ایک انٹرویو میں حکومت میں اختلاف، پارٹی کی لڑائیوں اور کارکردگی پر مایوسی کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا تو عمران خان فوری طور سے انہیں کابینہ سے فارغ کرکے پارٹی اور حکومت پر اپنا اختیار واضح کرسکتے تھے۔ افواہیں خود ہی دم توڑ جاتیں۔

 اس کے برعکس کابینہ میں اس حوالے سے سر پھٹول اور وزیر اعظم کی طرف سے ’آگ بجھانے‘ کی کوشش کی خبروں سے افواہ سازی اور انہیں گھڑنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ سوال تو سادہ ہے کہ اگر عمران خان شدید دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قریب ترین ساتھی جہانگیر ترین کو ایک مشکوک رپورٹ کی بنیاد پر مکھن میں بال کی طرح باہر نکال پھینک سکتے تھے تو فواد چوہدری کے خلاف کوئی ایکشن لینے میں کیا چیز مانع تھی؟ ایسے میں افواہ کی بجائے یہ سوال جائز طور سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا جہانگیر ترین کو عمران خان سے دور کرنے والے وہی عناصر تو نہیں ہیں جو فواد چوہدری کو بدستور کابینہ کی میز پر دیکھنا چاہتے ہیں؟

یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ پارلیمانی جمہوری طریقہ میں کسی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لانا یا اس کا کامیاب ہوجانا کوئی اچنبھا نہیں ہے لیکن پاکستان میں سازشوں اور جبر کے ذریعے حکومت کے خلاف نقب لگائی جاتی ہے۔ اس کا کوئی جمہوری جواز موجود نہیں ہے۔ عمران خان کی حکومت ناکام ہو یا نااہل ، جب تک انہیں ایوان کا اعتماد حاصل ہے انہیں برسراقتدار رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ اپوزیشن یا کوئی بھی گروہ یا عناصر اگر سازش اور درپردہ جوڑ توڑ کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنا چاہیں گے، ملکی آئین سے وابستگی اور جمہوری طریقہ سے احترام کا تقاضہ ہے کہ انہیں بہر صورت مسترد کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی قائد ایوان کے طور پر وزیر اعظم کا بھی فرض ہے کہ وہ بے بنیاد معلومات کی بنا پر اپوزیشن پر الزام تراشی کے طومار باندھنے کی بجائے ایوان کے ہر رکن کو احترام دیں۔ احتساب کرنا وزیر اعظم کا کام نہیں ہے۔ ملکی نظام میں متعلقہ ادارے اور عدالتیں یہ فریضہ انجام دے سکتی ہیں۔ آئین کے تحت نیب یا عدالتیں کسی حکومتی عہدیدار کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ پھر وزیر اعظم اور ان کے ساتھی احتساب کا بھاری پتھر اپنے سر پر کس خوشی میں اٹھائے پھرتے ہیں؟ آج ہی وزیر طلاعات شبلی فراز نے وزیر اعظم کی یہ خواہش بیان کی ہے کہ ملک کے عدالتی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ یہ بیان لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کی طرف سے العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو سزا دینے والے جج ارشد ملک کی برطرفی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس لئے اس کی حکمت اور ضرورت سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔

اداروں کی اصلاح کے نام پر اسٹیل مل کے ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا گیا اور پی آئی اے کے پائیلٹس کو مشکوک قرار دے کر پوری دنیا میں ائیر لائن کے علاوہ ایوی ایشن سے وابستہ پاکستانی افراد کی استعداد کو مشکوک بنایا گیا ہے۔ حکومت اگر عدالتوں میں بھی ایسی ہی اصلاحات لانے کا قصد کئے ہوئے ہے تو اسے خود ہی سوچنا چاہئے کہ وہ کیوں کر اور کیسے اپنی مدت پوری کرسکے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1572 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *