پاکستان کی سیاست کے راکھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سیاست میں ناپ تول کانظام عجیب و غریب ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ جوموجودہ اسمبلیوں میں براجمان ہیں۔ اسمبلی میں آئے دن جو مچھلی بازار نظرآتا ہے۔ اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کواپنی زبان کا پاس نہیں ہے۔ اگر حزب اختلاف میں جو بڑے نجیب الطرفین لوگ ہیں اورووٹ کو عزتدلانے کے لیے ووٹ کی حرمت کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ان کوذرا بھی احساس نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کو ان کے جمہوری رویے سے کوئی سکون میسرنہیں آرہا۔

اس اسمبلی کو دو سال ہونے کو ہیں مگر عوامکے مفاد میں نہ کوئی قانون بن سکا ہے اور نہ ہی عوام کے مفاد کے لیے کوئی بات کی گئی ہے۔ ان کا اپناہیرونا پیٹنا ہے۔ ان میں سے قائد حزب اختلاف اور پیپلزپارٹی کے پردھنوں کے خلاف نیب میں کیس چلرہے ہیں اوران پر کرپشن کے الزامات زیادہ ہیں۔ ان کا منہ زبانی صفائی پر بہت زور ہے مگرعدالت میں جانے سے مسلسل کتراتے ہیں۔ پھر کمال یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز جو ووٹ کو عزت دو کے نعرے پرسیاست کررہی تھی۔ اب اس کانعرہ ماضی کا خواب بن چکا ہے۔

اس وقت قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں بہت ہی سلوک سے عمران خان کی سرکار کو گرانے کے لیے زور لگا رہی ہیں۔ یہ ان کا جمہوری حق ہے اور صرف جمہوریت میں ہی ایسا ممکن ہے مگراس جمہوریت سے ملک کا مستقبل مسلسل خطرے میں نظرآ رہا ہے۔ اک عرصہ تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ہمارے سیاسی نیتا اس جنگ کو بھول کر اپنی جنگ میں مصروف ہیں اورکوئی ان لوگوں کا نام لینے پرتیارنہیں جو اس لولی لنگڑی جمہوریت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان پرالزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کو پسند نہیں کرتے۔ یہ اشارہ ہمارے معروف اخبار نویس خصوصی طور پر لگاتے ہیں

مگر صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں۔

اس میں الزام یہ ہے کہ پاکستان کے عسکری ادارے سرکار کے ساتھ ہیں۔ یہ الزام نہیں حقیقت ہے۔ ان کا سرکار کے ساتھ ہونا ملک کی بقاءکے لیے ضروری ہے مگر شک ہے کہ وہ مخلص نہیں۔

عوام کو یہ بھی شک ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اس ملک پاکستان کے ساتھ مخلص نظر نہیں آتی۔ اس کمال کی جمہوریت میں ایسا قانون بھی بنایا گیا ہے جوکہجمہوریت کے بنیادی اصول کی نفی کرتاہے۔ آپ کو اپنی پارٹی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہے اوراگر پارٹی کو اسمبلی میں ووٹ نہ دیا تو ان کی رکنیت بھی منسوخ ہو سکتی ہے۔ جب سینٹ کے چیئرمین کے لیے رن پڑ رہا تھا تو اس وقت ایک طرف نواز لیگ تھی اور دوسری طرف پیپلزپارٹی تھی اس وقت جمہوری اصولوں کے مطابق پی ٹی آئی نے بڑے حوصلے سے پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا اور چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی کو کامیاب کرایا۔

اس وقت بھی الزام لگا کہ عسکری مہربانوں نے اس الیکشن میں مداخلت کی تھی۔ اس کا جواب تو صرف آصف علی زرداری دے سکتے ہیں جو خود صدر پاکستان بننے کے لیے عسکری حلقوں کے محتاج نظر تھے اوران کی مدد سے ان کی کلیرنس ہوئی تھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے عسکری حلقے اس وقت امریکہ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مگر جمہوریت کے لیے امریکہ کو اور پاکستان میں اپنا کردارادا کرنا اس کے اپنے مفاد میں بھی ضروری ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان کی شفافیت مشکوک ہے اورجب الیکشن کمیشن ان شکایات پر غور کرتا ہے تو کسی کے ہاتھ میں سرا نہیں آتا اورپھر کبھی بھی اس معاملہ میں وقت پر کوئی فیصلہ بھی نہ ہوسکا۔ مگر جمہوریت کے اس دنگل میں الیکشن کمیشن کا کردار بہت اہم ہے۔ انتخابات کے بعد اس کا کردار ختم نہیں ہوتا مگر وہ اپنے فرائض کے سلسلہ میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ پھر الیکشن کمیشن اگر کوئی فیصلہ بھی کرتا ہے تو صوبے کی بڑی عدالت میں اس کے خلاف اپیل ہوجاتی ہے اور جمہوریت کا جذبہ تاخیرکے باعث بے توقیر ہوتا رہتا ہے۔

اب جمہوریت کا مشہور نعرہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ بالکل سچ ثابت ہورہا ہے اورانتقام کا نشانہ بے چارے عوام بن رہے ہیں۔ پھر جمہوریت کے اصولوں کے مطابق آئین میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس سے صوبوں کو غیر معمولی اختیارات مل گئے ہیں اور عوامی مسائل ان اختیارات کی وجہ نظرانداز ہورہے اس وقت صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ان اختیارات کے کارن عوام کو نظرانداز کر رہی ہے اور صورت حال اتنی گمبھیر ہے کہ اس کا فیصلہ کسی اعلیٰ عدالت کو کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس وقت قومی اسمبلی میں کبھی مائنس ون کا نعرہ بلند ہوتا ہے اور حزب اختلاف کو اس بات پر یک سوئی نظرنہیں آتی۔ سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ عمران خان سے جان چھوٹ جائے مگراس کے لئے کوئی بھی جمہوری طریقہ اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ دوسری طرف عمران خان جو سوچ کر وزیراعظم بنا تھا اس کا تصوراس وقت ہی ختم ہوگیا تھا جب دوست ممالک نے مالی امداد کے سلسلہ میں وعدوں کے علاوہ سب کچھ کیا۔ پھرآئی ایم ایف کے ساتھ سابقہ حکومتوں کے معاہدے اس قسم کے تھے اور ہیں کہ اگران کی امداد اور قرض لینا وقت کی ضرورت کے مطابق واحد راستہ تھا۔ آئی ایم ایف کی بنیادی شرط یہ تھی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر ان کا نامزد ہوگا۔ وزیراعظم کا مالی معاملات پرمشیر بھی آئی ایم ایف کی مشاورت سے رکھا جائے گا۔ ابتدائی دنوں میں آئی ایم ایف سے اسدعمر نے بات چیت کی۔ ان کو اندازہ ہوگیا کہ پاکستان کو مالی امداد دینا خطہ میں اپنے رسوخ کی وجہ سے ضروری ہے۔

آئی ایم ایف نے ایک قابل عمل امدادی پیکیج کے لیے اسدعمر سے بات چیت شروع کی اور آخر کاراسد عمرنے وزیراعظم کو بتایا کہ مناسب اور قابل عمل شرائط پرآئی ایم ایف پاکستان کی مدد کرنے پر تیار ہے۔ آخری لمحوں میں ائی ایم ایف نے عمران خان کی سرکار پر واضح کر دیا کہ ان کے معاہدہ پر عمل اسد عمر کے بغیرہی ہو سکتا ہے۔ عمران خان بے بس تھا۔ کوئی مسلمان ملک قرض اور مالی امداد کے لیے دستیاب نہ تھا پھر اسد عمر کو مجبوری کے ساتھ فارغ کر دیا گیا۔

ان تمام مراحل میں حزب اختلاف نے بھی عمران خان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ لوگ اس مشکل گھڑی میں عمران خان کی مدد کرکے اپنی سیاست آسان کر سکتے تھے مگران سب کا خیال تھا کہ عمران کی کامیابی کے پیچھے عسکری حلقوں کا ساتھ ہے اورایسے میں وہ امریکی اور برطانوی امداد سے محروم ہو جاتے۔ دوسری طرف عمران خان نے نیب کے ذریعے کرپشن کے خلاف موثر اقدامات کر کے اپوزیشن کو مزید پریشان کر دیا۔

پاکستان اس وقت دنیا کی دو طاقت ور اقوام کے درمیان پرآشوب وقت سے گزار رہا ہے۔ بھارت اس وقت پاکستان سے جنگ پر تلا ہوا ہے۔ امریکی مداخلت کی وجہ سے جنگ وقتی طور پر ٹلی ہوئی ہے مگر اب چین بھارت سے مثبت مذاکرات پر تیار ہے۔ اب بھارت پاکستان کے لیے میدان جنگ تیار کر رہا ہے۔ پاکستانی افواج بھی تیار ہیں۔ ان کی امریکہ، برطانیہ اور چین سے مشاورت بھی ہے۔ اندرون ملک کی سیاسی صورت حال نے عسکری حلقوں کو جمہوریت پر توجہ دینے کا عندیہ دیا ہے مگر سابق وزیراعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری فوج کو جتا رہے ہیں کہ ان کی مدد کی وجہ سے جنرل باجوہ کو ملازمت میں توسیع ملی۔ اس لیے افواج کو ان کے معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد میں خبریں گرم ہیں کہ عمران خان الیکشن کروانے کا سوچ رہے ہیں مگر پاکستان میں جمہوریت انتخابات سے اور کمزور ہو جائے گی۔ اب نظام کی تبدیلی ضروری ہو چکی ہے مگر عمران خان کی تبدیلی بھی لازمی ہے وہ کیسے اور کب ہوگی۔ اس کا فیصلہ پاکستان کے عوام نے نہیں بلکہ ہمارے مہربان دوست ممالک امریکہ، برطانیہ اور چین کریں گے۔ کب اور کیسے اس کے لیے گنتی شروع ہونے میں کچھ وقت باقی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *