ہماری ناکامی کی پانچ وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اول تو اس کالم کا عنوان ہی غلط ہے۔ ہم ناکام نہیں ہوئے، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کامیابی ابھی ہم سے کچھ دور ہے۔ کتنی دور ہے، اس بات کا تعین کرنا باقی ہے۔ دوسرے، خود ملامتی کوئی اچھی بات نہیں، ہزار خرابیاں ہماری ذات میں ہوتی ہیں مگر ہم مان کر نہیں دیتے، یہی رعایت اپنے ملک کو بھی دینی چاہیے۔ لیجیے ہو گئی تمہید، اب ناکامی کی وجوہات دیکھتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ وہم ہے کہ ہم کوئی چنندہ قوم ہیں، اس کرہ ارض پر ہماری ٹکر کی کوئی دوسری مخلوق نہیں پائی جاتی اور اقوام عالم میں ہمارا ایک اچھوتا مقام ہے۔ ہمارے ملک کے جغرافیے کا تعین چونکہ آسمانوں پر ہوا تھا اور یہ خاص با برکت لمحات میں وجود میں آیا تھا اسی لیے زمین کا یہ ٹکڑا سب سے انوکھا اور منفرد ہے۔ اس ملک کے پاس کچھ ایسے پوشیدہ خزانے ہیں جو دنیا میں کسی اور ملک میں نہیں پائے جاتے، ان خزانوں کی کنجیاں البتہ ہم کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں، جونہی یہ کنجیاں ملیں گی ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔

ایک مرتبہ کسی غیر ملکی کمپنی نے ریکوڈیک کے خزانے کو تلاش کرنے کی پیشکش کی تھی مگر ہم چونکہ اڑتی چڑیا کے پر گننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں (یہ بھی اوپر والے کا خاص تحفہ ہے ) سو اس فریب میں نہیں آئے اور لعن طعن کر کے کمپنی کو بھگا دیا۔ ہمارے ملک کے سوا دنیا میں کہیں بھی پہاڑ، دریا، ریگستان، سمندر یا مرغزار نہیں پائے جاتے اور اگر کہیں ہیں تو ہمارے جتنے خوبصورت نہیں۔ اس ملک کی طرح اس کے کے لو گوں کو بھی انوکھے پن کا واہمہ ہے، ان کا خیال ہے کہ جذبہ ایمانی میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں، ہنر مندی میں ان کا کوئی ثانی، جس دن یہ جیت پر تل جائیں اس دن دنیا کی کوئی طاقت انہیں ہرا نہیں سکتی۔ دو چار سال میں ایسا دن ایک مرتبہ ضرور آتا ہے۔

ناکامی کی دوسری وجہ ہماری ’طفیلی ذہنیت‘ ہے۔ کامیڈین امان اللہ مرحوم ایک دلچسپ مثال دیا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں اگر کسی سے پوچھو کہ کہاں سے آرہے ہوتو جواب ملتا ہے ”روٹی کھا کے آ رہا ہوں“ ۔ تھوڑی دیر بعد پھر پوچھو کہ کہاں جا رہے تو جواب ملتا ہے ”روٹی کھانے جا رہا ہوں“ ۔ اس کے بعد اگر پوچھو کہ میاں سارا دن کھاتے رہتے ہو، کیا کچھ کام وام نہیں کرتے، تو جواب ملتا ہے ”کام ابا کرتا ہے!“

یہی خلاصہ ہے ہماری معاشی اور خارجہ پالیسیوں کا ۔ عالمی بنک سے معاہدہ ہو گیا، ایک ارب ڈالر دے گا، آئی ایم ایف ڈیڑھ ارب ڈالر دینے پر رضامند، مزید خوش خبری، سعودی عرب تین سال تک پاکستان کو مفت تیل فراہم کرے گا، چین نے ہمارے بنکوں میں دو ارب ڈالر رکھوانے کا عندیہ دے دیا، امریکہ نے امداد بحال کر دی، ایران ہمیں کیوں نہیں کچھ دیتا، ترکی سے ہم کیا فائدہ لے سکتے ہیں، امیر کویت کے پاس بھی بہت پیسے ہیں، قطر سے مفت میں کیا مل سکتا ہے۔ ۔ ۔ گویا ہم نے صرف روٹی کھانی ہے، کام ’ابے‘ کریں گے۔ اس حقیقت سے ہم آشنا ہی نہیں کہ دنیا میں کوئی کھانا مفت نہیں ہوتا۔ ذاتی سطح پر بھی یہی حال ہے۔ نوکری کے متلاشی بہت ملتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں نوکری نہیں وظیفہ چاہیے بالکل اسی طرح جیسے داماد چاہتا ہے کہ سسر انہیں ’سیٹ‘ کروا دے۔ اسی کو طفیلی ذہنیت کہتے ہیں۔

تیسری خامی یہ ہے کہ ہم علت و معلول کے قانون سے نا آشنا ہیں۔ ذاتی زندگی میں بھی اور قومی سطح پر بھی۔ کسی بھی واقعے یا سانحے کے بعد ہم اس کی وجوہات کا تعین عقلی اور سائنسی انداز میں کرنے کی بجائے جذباتی اور سطحی انداز میں کرتے ہیں جس کی وجہ سے پے درپے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے واقعے کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے، ایک یونانی فلسفی کے بقول کوئی بھی شے عدم سے وجود میں نہیں آتی۔ اول تو ہم اس وجہ کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو بے حد غیر منطقی انداز میں جس سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔

ہمارا ملک کیوں ٹوٹا، ہم دہشت گردی کا شکار کیوں ہوئے، عالمی سطح پر ہماری رسوائی کیوں ہوئی، ریکوڈک میں اربوں ڈالر کا جرمانہ کیوں ہوا، کرپشن کے خلاف مہم چلانے کے باوجود ملک ترقی کیوں نہیں کر سکا۔ ۔ ۔ ان تمام ناکامیوں کے پیچھے کچھ عوامل پوشیدہ ہیں جن کا تعین ہم آج تک نہیں کر پائے۔ تنقیدی سوچ اور سائنسی ذہن کے ساتھ ہم نے ان عوامل کی پڑتال نہیں کی، اگر یہ کام کیا ہوتا تو آج ناکامیوں پر ماتم نہ کر رہے ہوتے۔ قومیں اپنی ناکامی کی وجوہات تلاش کر کے انہیں ’فکس‘ کرتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں جبکہ ہم ان وجوہات کو بد قسمتی، تقدیر کا لکھا اور خدا کی مرضی کے کھاتے میں ڈال کر لا تعلق ہو جاتے ہیں اور یوں اگلا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔

ہماری ناکامی کی چوتھی وجہ بھی اسی سے جڑی ہے اور وہ ہے حقیقت سے فرار۔ ہم حقائق کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ حقائق ہمیں پسند ہی نہیں۔ ہمیں کھوکھلے نعرے پسند ہیں جن مطلب بھلے کوئی نہ ہو مگر وہ دل بہلاتے رہیں، چٹ پٹی حکایتیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو مگر وہ ہمیں آسودگی بخشیں، من گھڑت قصے جن کا بے شک کوئی تاریخی وجود نہ ہو مگر جن کی بنیاد پر ہم خود کو دنیا کا امام تصور کرسکیں۔ جب کوئی بھی فرد یا ملک ایسے حقائق ہمارے سامنے رکھتا ہے جن سے ہماری انا کو ٹھیس پہنچتی ہو یا جن سے ہمارا موقف غلط ثابت ہوتا ہو، تو بجائے ان حقائق کی روشنی میں اپنی اصلاح کرنے کے الٹا ہم ان حقائق سے انکار کر دیتے ہیں۔ اسے denialism کہتے ہیں۔

آخری تو نہیں البتہ پانچویں وجہ ہماری خود غرضی ہے۔ ذاتی استحقاق کو ہم اجتماعی ترقی اور خوشحالی پر فوقیت دیتے ہیں۔ جس دیوانگی کے ساتھ ہم اپنے ذاتی فائدے کے پیچھے بھاگتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی اجتماعی سطح پر نظر نہیں آتا۔ یقیناً یہ انسانی نفسیات بھی ہوگی، انسان سب سے پہلے اپنا ہی فائدہ سوچتا ہے مگر قومیں اس خود غرض سوچ کے ساتھ ترقی نہیں کرتیں، اپنے ذاتی مفادات کو بہرحال پس پشت ڈالنا پڑتا ہے۔
کسی موٹیویشنل سپیکر کی طرح میں نے ناکامی کی وجوہات تو بیان کر دی ہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ موٹیویشنل سپیکر ملک نہیں چلا سکتے، اگر ایسا ہوتا تو پاکستان اس وقت عالمی طاقت ہوتا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 111 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *