پاکستانی‘ ترک افواج تعاون بڑھانے پر متفق‘ فکر مند نہ ہوں دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے: آرمی چیف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"raheel-sharif-gilgit\"

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی جہاں وزیراعلیٰ پنجاب سمیت مختلف ارکان پارلیمنٹ جن میں رشید گوڈیل بھی شامل تھے، نے ان سے ملاقات کی۔ صحافیوں نے آرمی چیف سے گفتگو کی کوشش کی لیکن انہوں نے گریز کیا۔ صحافی جنرل راحیل کے ساتھ سیلفیاں بناتے رہے۔ جنرل راحیل نے کہا کہ فکر نہ کریں ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ آرمی چیف قومی اسمبلی کی گیلری پہنچے تو متعدد ارکان پارلیمنٹ نے گیلری میں جاکر ان سے مصافحہ کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ایوان میں داخل ہوئے تو گیلری ہی کو گزرگاہ بناکر آرمی چیف سے مصافحہ کیا اور پھر اپنی گیلری کی جانب چلے گئے۔ آرمی چیف ہال میں موجود دیگر افراد کی نظر کا مرکز رہے۔ اجلاس کے بعد آرمی چیف سکیورٹی کلیئرنس تک ڈپٹی سپیکر کے چیمبر میں رہے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے میڈیا کو آرمی چیف کی فوٹیج بنانے سے روکا تو آرمی چیف نے کہا کہ صحافیوں کو ویڈیو بنانے سے نہ روکیں۔ آرمی چیف نے ترک صدر کے خطاب کی بھی تعریف کی۔ آرمی چیف نے صحافیوں سے کہا کہ ہمیشہ آپ کی باتوں کا جواب دیتا ہوں لیکن آج نہیں دوں گا۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ترکی کے ترک چیف آف جنرل سٹاف نے ملاقات کی۔ ملاقات میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں جغرافیائی سیاسی صورتحال اور سکیورٹی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کی افواج میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ترک چیف نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا۔ جنرل راحیل نے رجب طیب اردوان کے خطاب کو خوش آئند قرار دیا اور کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ ہمارے طویل برادرانہ تعلقات ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوئے، آرمی چیف نے کہا کہ ترک صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب دل کی گہرائی سے کیا۔ ترک صدر کے خطاب سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید استحکام ملے گا، کشمیر کے معاملہ پر ترکی کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے آرمی چیف کے پاس جا کران سے مصافحہ کیا۔ تمام جماعتوں کے رہنما آرمی چیف سے مصافحہ کرنے کے لئے ان کے پاس گیلری میں گئے۔ مشاہد حسین سید نے مصافحہ کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی توجہ محمود خان اچکزئی کی جانب مبذول کروائی مگر محمود خان اچکزئی نے آرمی چیف سے مصافحہ کرنے کی بجائے اپنی نشست پر بیٹھے ہی ہاتھ ہلا دیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •