جڑانوالہ میں رانا عبد الرحمان نے مقامی حکومت کا کامیاب تجربہ کیسے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے حکومتی نظام میں تبدیلی لانے کا کام سب سے آسان مقامی حکومت کی سطح پر ہے۔ اور تبدیلی کا کام ہمیشہ آسان سے مشکل کی طرف ہونا چاہئے۔ اگر شروع ہی مشکل سے کریں تو ناکامی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تبدیلی لانے کا کام کوئی بھی کر سکتا ہے۔ تبدیلی لانے والے بندے میں سب سے بڑا گن یہ ہوتا ہے کہ وہ پنچایتی ہوتا ہے۔ اسے دوسروں کے ساتھ مل کے چلنا آتاہے۔ اسے مونچھیں نیچی رکھنی آتی ہیں۔ تبدیلی روکنے والا اندر خانے کام کرنے کا ماہر ہوتا ہے۔ اسےلوگوں میں پھوٹ ڈالنے کا فن آتا ہے-اور دھڑے بندی کر کے اپنے وفاداروں کا حلقہ بنا کر قیادت حاصل کرنے کے فن میں مہارت ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں دو اور معاملات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ لوگوں کے بنیادی مسائل کا بہت زیادہ تعلق مقامی حکومت سے ہوتا ہے۔ کوئی پارٹی کیسے ہی انقلابی منشور دیتی رہے۔ مقامی حکومت کو مالی اور انتظامی اختیارات دئے بغیر روٹی، کپڑا، مکان، تھانہ، کچہری، روزگار کی بہتری کا نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ مقامی انتخابات میں درمیانے اور نچلے طبقے کے لوگوں کا کامیاب ہونا نہایت آسان ہوتا ہے۔ دوسرے، غریب لوگوں کی نوے فیصد بیماریوں کا تعلق آلودہ پانی اور ناقص سیوریج کے نظام سے ہے۔ اس نظام کو بہتر بنانے سے غریبوں پر بیماریوں کے علاج کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ یہ کام بہتر طور پر مقامی حکومت ہی کر سکتی ہے

پاکستان میں جمہوریت کا ایک المیہ یہ ہے کہ مقامی حکومت کے اداروں کو اختیارات فوجی حکومتوں کے دور میں دئے گئے- اس بھلے کام کی بنیاد کیوں کہ اس بد نیتی پر تھی کہ غیر جماعتی مقامی انتخابات کے ذریعے سیاسی جماعتوں کا بستر گول کر دیا جائے اس لئے سیاسی جماعتوں میں شدت سے اس کی مخالفت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ سیاسی قیادت کی ایک اور کمزوری یہ تھی کہ وہ ترقیاتی فنڈ خرچ کر کے اپنے ووٹ بنک کو قائم رکھتے تھے۔ قانون سازی جو ان کا اصل کام ہے اس میں ان کی دلچسپی بہت کم ہے اور زیادہ تر قوانین آرڈی نینس کی شکل۔ میں متعارف کرائے جاتے ہیں۔

میرے خیال میں مقامی حکومت کے وسیع مالی اختیارات اور باقاعدہ انتخابات کے بغیر اور پارٹیوں کے اندر باقاعدہ انتخابات کے بغیر جمہوریت اور انصاف اور خوشحالی کی بات کرنا ہتھیلی پر سرسوں اگانے کی کوشش ہے۔ میں جنرل مشرف کے زمانے میں جڑانوالہ شہر کے ناظم کے انتہائی دلچسپ تجربے کا ذکر کر کے مقامی کارکنوں اور شہریوں کو سماجی انصاف کے ایک اہم ماڈل سے متعارف کرانا چاہتا ہوں-

لوگوں کے قدم سے قدم ملا کر پینے کے پانی  کی فراہمی کے نظام کو عمدگی سے چلانے کا ایک دلچسپ تجربہ 2001 کے بعد جڑانوالہ شہر میں ہوا۔ مقامی حکومت کے انتخابات میں رانا عبد الرحمان تحصیل ناظم منتخب ہوئے تو ان کے لئے بڑا چیلنج یہ تھا کہ شہر کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی کیسے فراہم کیا جائے اور سیوریج کے ناقص انتظام کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ حکومتی افسران کی دانش اور مہارت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا۔ لوگ سروس چارجز نہیں دیتے تھے اور میونسپل حکومت معیاری طریقے سے کام نہیں کر رہی تھی۔ سب سے پہلا کام موقع کو دیکھنا، حقائق اکٹھے کرنا اور لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔ لوگوں کے تعاون کے بغیر کوئی حکومت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ رانا صاحب نے صلاح مشورہ شروع کیا تو ایک تجربہ کار سیاسی کارکن نے انہیں مشورہ دیا کہ شہر کا نقشہ بنوائیں اور ہر وارڈ میں مردوں اور عورتوں کے الگ الگ اجلاسوں میں کمیٹی کے منتخب کاموں کے بارے میں ان کی رائے لے کر ایک سکور کارڈ بنوائیں۔ اس سے موجودہ نقائص کا پتہ چلے گا اور آئندہ کام کی بہتری ناپنے کے لئے ایک پیمانہ مل جائے گا۔

سکور کارڈ پہ کام شروع ہوا۔ خانہ شماری ہوئی۔ ہر گھر کے لوگوں سے کمیٹی کی کارکردگی کے بارے میں رائے لی گئی۔ اس دوران نقشہ بھی بن گیا جس میں شہر کی تمام گلیوں اور بازاروں میں پانی اور سیوریج کی لائنیں، پانی کی ٹنکیاں، مین ہول، اور ڈسپوزل یونٹ دکھائے گئےاور ان کی ٹوٹ پھوٹ اور کارکردگی کو ظاہر کرنے کے لئے نشانات بھی لگا دئے گئے۔ اگلے مرحلے میں نقشے اور اعداد و شمار کو ڈجیٹائز کر کے کمپیوٹر پہ منتقل کر دیا گیا۔ اس طرح کمیٹی کے منیجمنٹ کے کام کو بہتر طور سے چلانے کیلئے ایک جیوگریفک انفارمیشن سسٹم قائم ہو گیا- اس نظام سے ایک کمال کی تبدیلی آئی۔ شہر کے بارے میں معلومات سرکاری ‘راز’ نہیں رہیں۔ حکومت دفتر سے نکل کر چوراہے میں آگئی۔ اب ناظم بلدیہ، دفتری کلرک یا عام شہری ایک کمپیوٹر کلک سے پورے شہر کی تصویر دیکھ سکتے تھے۔ اس نظام کی بنیاد پر مرمتوں کا کام مکمل کیا گیا، بل جاری کئے گئے اور بلوں کی ادائیگی کا حساب کتاب بھی کمپیوٹر مانیٹر پر آگیا۔ کوئی شہری شکایت لے کرآتا تو نقشہ دیکھا جاتا۔ اور بل کی ادائیگی بھی چیک کی جاتی۔ اس طرح دو طرفہ جوابدہی اور بہتر کارکردگی کا نظام قائم ہوا جس کی باقاعدہ نگرانی رانا صاحب خود کرتے تھے۔

رانا صاحب دل سے ایک عوامی آدمی تھے۔ عوام کو کمیٹی کے معاملات میں شریک کرنے کے لئے انہوں نے ایک اور دلچسپ کام کیا۔ جس ہال میں تحصیل کونسلروں کی میٹنگ ہوتی تھی اس کے ساتھ ایک دوسرے ہال میں انہوں نے وڈیو کیمرہ لگوا دیا۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران عام شہری پوری کارروائی سن سکتے تھے۔ بول نہیں سکتے تھے لیکن انہیں اپنے نمائندوں کی کارکردگی کا پتہ چل جاتا تھا- نقشہ سازی کے دوران رانا صاحب کو پتہ چلا کہ میونسپل کمیٹی کی زمین کے ایک حصے پر مقامی تھانے نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے پولیس تجاوزات کا خاتمہ کر کے وہاں دکانوں کے لئے زمین الاٹ کر دی اور ان کی کرائے سے میونسپل کمیٹی کے بجٹ میں اضافہ کیا۔

شہر کی ساتھ ایک نہر گزرتی تھی۔ نہر کنارے تختے لگوا کر ایک پلیٹ فارم بنایا اور ایک ریسٹورینٹ کو کرائے پر دے دیا۔ ہمارے حکومتی نظام کی کمزوری کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں مقامی اقتدار بڑے شہروں میں رہنے والے غیر حاضر سیاستدانوں کے پاس ہے۔ جیسے ہماری زراعت کا زیادہ تر نظام غیر حاضر زمینداروں کے ہاتھ میں رہا ہے۔ جمہوریت کا صرف ایک ہی پیمانہ ہے کہ منتخب نمائندہ اپنے حلقے کے لوگوں سے ایک ٹیلیفون کال کے فاصلے پر یا دروازے کی ایک دستک کے فاصلے پر ہو۔ یہ نہیں تو عوام کے پاس کچھ بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *