’دی گریٹ گیم‘: قراقرم کی چوٹیوں کے سائے میں روسی اور برطانوی جاسوسوں کی آنکھ مچولی
برطانوی فوجی افسر نے روسی کیپٹن کے نقشے پر کیا دیکھا
ینگہزبینڈ آٹھ اگست 1889 کو کشمیری اور گورکھا سپاہیوں کے ایک گروپ کے ساتھ لیہہ سے قراقرم پاس کے ذریعے ایک دور افتادہ گاؤں شاہد اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔
بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر اس گاؤں میں زیادہ تر تاجر رہتے تھے جو لیہہ یارکند روٹ پر اکثر سفر کرتے تھے۔ وہ ان تاجروں سے اس خفیہ راستے (شمشال پاس) کے بارے میں معلوم کرنا چاہتے تھے۔
انھیں اس گاؤں تک پہنچنے میں 15 روز لگے۔ وہاں لوگوں نے بتایا کہ چینی حکام ان کی لٹیروں کے بارے میں شکایات پر دھیان نہیں دیتے کیونکہ وہ انڈیا اور سنکیانگ کے درمیان تجارت کے حق میں نہیں تھے کیونکہ اس سے ان کی اپنی چائے کی تجارت متاثر ہوتی تھی۔
ینگہزبینڈ اس گاؤں سے شمشال پاس کے بارے میں معلومات حاصل کر کے روانہ ہوئے اور 41 روز کے بعد ایک انتہائی مشکل راستے سے گزر کر اس قلعے تک پہنچے جو ڈاکوؤں کا ٹھکانہ تھا اور جہاں سے اس خفیہ راستے شمشال پاس پر نظر رکھی جاتی تھی۔
قلعے میں لوگوں سے بات چیت کر کے انھیں اندازہ ہوا کہ یہ لوگ کسی کے کہنے پر لیہہ یارکند روٹ پر قافلے لوٹتے ہیں۔
اسی دوران ایک دلچسپ پیشرفت ہوئی۔ کیپٹن ینگہزینڈ کو اطلاع ملی کہ روسی کیپٹن گرومچیوسکی علاقے میں واپس آ چکے ہیں اور انھوں نے ان سے ملنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
کیپٹن ینگہزبینڈ نے بعد میں اس ملاقات کے بارے میں لکھا بھی تھا۔ انھوں نے اُس رات پہاڑوں روسی میزبانوں نے پُرتکلف کھانا پیش کیا اور خوب ووڈکا پی گئی۔
برطانوی کیپٹن نے روسی افسر کے نقشے پر پہاڑی سلسلے پامیر میں ایک راستے پر لال نشان لگا ہوا دیکھا۔ ’اب اس بات میں کوئی شک باقی نھیں تھا کہ روس اس سنسان علاقے کے بارے میں جانتا ہے جہاں روس، افغانستان، چین اور برطانوی انڈیا ملتے ہیں۔‘
ہوپکرک لکھتے ہیں کہ گرومچیوسکی نے برطانوی افسر پر واضح کیا کہ روس کی فوج میں افسروں اور جوانوں کو ایک ہی چیز کا انتظار ہے اور وہ ہے انڈیا پر مارچ کا حکم۔
دو مخالف سلطنتوں کے افسران نے ان بلند برف پوش چوٹیوں کے سائے میں اپنی حکومتوں کی پالیسیوں کا دفاع کیا، ایک دوسرے کے عزائم کو سمجھنے کی کوشش کی اور غیر محسوس طریقے سے ایک دوسرے سے معلومات بھی نکلوانے کی کوشش کی۔ تین روز اکٹھے گزارنے کے بعد وہ اپنے اپنے خفیہ مشن پر روانہ ہو گئے۔
لیکن یہ دونوں کے درمیان آخری رابطہ نھیں تھا۔ برسوں بعد ینگہزبینڈ کو اپنے پرانے دشمن کا خط ملا۔
ہوپکرک لکھتے ہیں کہ گرومچیوسکی نے اس خط میں بتایا کہ کیسے وہ جنرل کے عہدے تک پہنچا اور پھر 1917 کے انقلاب کے بعد ان سے سب کچھ چھین کر انھیں سائبیریا میں قید کر دیا گیا۔ وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے کے بعد پولینڈ پہنچ گئے جہاں سے ان کے خاندان کا اصل میں تعلق تھا۔
گرومچیوسکی نے اپنی مہمات کے بارے میں اپنی کتاب بھی خط کے ساتھ ینگہزبینڈ کو بھیجی تھی جو برطانیہ میں بہت سے اعزازات اور انعامات سے نوازے جا چکے تھے۔
روس، برطانیہ اور چین کی اس ’گریٹ گیم‘ میں بہت سے افسران، سپاہی اور ایجنٹ شامل تھے اور جو اس کام میں ہلاک بھی ہوئے۔
بخارا میں دو برطانوی افسروں کی ہلاکت
ہوپکرک نے اپنی کتاب میں تفصیل سے دو برطانوی افسران کرنل چارلس سٹوڈارٹ اور کیپٹن آرتھر کونولی کی بخارا میں ہلاکت کی تفصیل بتائی ہے۔ یہ واقعہ جون سنہ 1842 میں پیش آیا۔
ہوپکرک لکھتے ہیں کہ دونوں افسران جو برطانیہ میں اپنے گھر سے تقریباً چار ہزار میل دور تھے کئی ماہ سے مقامی امیر کی قید میں تھے۔ دونوں اس بڑی کشمکش کا حصہ بننے کی قیمت ادا کر رہے تھے جسے ’دی گریٹ گیم‘ کا نام دیا گیا تھا۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ان دونوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے بخارا کے ساتھ روس کے خلاف اتحاد میں اپنے ساتھ ملانے کے لیے بھیجا تھا۔
ہوپکرک لکھتے ہیں ’المیہ یہ تھا کہ یہ کرنل ہی تھے جنہوں نے پہلی بار گریٹ گیم کی اصلاح گھڑی تھی۔۔۔ کئی سال بعد میں (رڈیارڈ) کپلنگ نے اپنے ناول کم کے ذریعے اسے مشہور کر دیا تھا۔‘
دی گریٹ گیم ختم کیسے ہوئی؟
سنہ 1905 کے دسمبر میں برطانیہ میں سر ہنری کیمبل بینر مین کی قیادت میں نئی کابینہ وجود میں آئی۔ ہوپکرک لکھتے ہیں کہ روس اور برطانیہ دونوں حکومتیں اب ایشیا کے بارے میں تنازعات ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہتی تھیں جس پر حالیہ دہائیوں میں دونوں ممالک کا بہت وقت اور توانائی صرف ہوتی چلی آ رہی تھی۔
انھوں نے لکھا ہے کہ کئی مہینوں تک جاری رہنے والے یہ مذاکرات صرف تین ممالک تبت، افغانستان اور ایران پر مرکوز تھے اور یہ تینوں ممالک انڈیا کے دفاع کے لیے بہت ضروری تھے۔
بہت سے اختلافات اور لے دے کے بعد بالآخر اگست سنہ 1907 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ سر ایڈورڈ گرے اور روس کے وزیر خارجہ کاؤنٹ الیگزینڈر ازولسکی کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا۔
’گریٹ گیم تیزی سے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔‘ ہوپکرک لکھتے ہیں کہ برطانیہ اب جرمنی کے بارے میں فکرمند تھا۔
’31 اگست کو سینٹ پیٹرز برگ میں انتہائی رازداری کے ساتھ روس برطانیہ نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے۔ `
طے پایا تھا کے دونوں طاقتیں تبت میں مداخلت نہیں کریں گی اور اس کے ساتھ کوئی بھی معاملہ چین کے ذریعے طے کیا جائے گا۔
ہوپکرک لکھتے ہیں کہ روس نے افغانستان پر برطانیہ کا اثر و رسوخ تسلیم کر لیا اور دونوں نے وہاں اپنے ایجنٹ نہ بھیجنے کا عہد کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ برطانیہ نے وسطی ایشیا میں زار کی حکمرانی کی مخالفت نہ کرنے کی بھی ضمانت دی۔ ایران کے معاملہ میں اس فیصلے کے مطابق ملک کی آزادی کا پاس کرنے کا عہد ہو گیا اور ساتھ ہی روس کا اس کے شمال اور وسطی حصوں میں اثر تسلیم کیا گیا جبکہ ملک کے جنوب پر برطانیہ کے اثر کو تسلیم کیا گیا۔
روس اور برطانیہ کے درمیان اس معاہدے کی دونوں ممالک میں شدید مخالفت ہوئی۔ ہوپکرک لکھتے ہیں کہ ایران اور افغانستان کو بھی ان سے مشاورت نہ کیے جانے پر شدید اعتراض تھا۔
’بالآخر روس کے حملے کا ڈر ختم ہو گیا۔ اس کام میں تقریباً ایک صدی لگ گئی جس میں دونوں طرف سے بہت سے بہادر لوگوں کی جانیں گئیں لیکن آخر میں مسئلہ سفارتکاری کے ذریعے ہی حل ہوا۔‘
ہوپکرک لکھتے ہیں اگست سنہ 1914 میں روس اور برطانیہ ایشیا اور یورپ میں جرمنی اور ترکی کے خلاف جنگ میں اتحادی کی حیثیت میں شامل ہوئے۔
لیکن پھر روس میں اکتوبر سنہ 1917 میں انقلاب آ گیا اور نئی حکومت کی طرف سے سنہ 1907 کے معاہدے تمام معاہدے ختم کر دیے گئے۔ ہوپکرک لکھتے ہیں اس کے بعد ’گریٹ گیم‘ نئے روپ میں ایک بار پھر شروع ہو گئی۔
۔


